*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کی ملاقات*

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مستقبل کی اسٹریٹجک قیادت کا نمائندہ یہ وفد نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اُن ادارہ جاتی روابط کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو سول انتظامیہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔جمعرات کو میجر جنرل محمد رضا ایزاد کی قیادت میں 95 رکنی وفد نے وزیراعلیٰ ہاؤس کا دورہ کیا جہاں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ان کا استقبال کیا اور صوبے کی ترقیاتی ترجیحات، جاری اصلاحاتی ایجنڈے اور سیلاب کے بعد بحالی کے کاموں پر جامع بریفنگ کی صدارت کی۔وزیراعلیٰ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مستقبل کی اسٹریٹجک قیادت کی نمائندگی کرنے والے 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کا دورہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اُن ادارہ جاتی روابط کو بہت اہمیت دیتی ہے جو سول انتظامیہ اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ کی ترقیاتی پالیسی شمولیتی، مساوی اور موسم دوست ترقی پر مبنی ہے جس میں تعلیم، صحت، صاف پانی، نکاسِ آب، زرعی پیداوار، سڑکوں کا جال، توانائی کے منصوبوں اور غربت میں کمی کو خصوصی ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک کھرب روپے سے زائد حجم والا سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) 2026-2025 عوامی خدمات کی بہتری اور سماجی و اقتصادی بنیادوں کی مضبوطی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ترقیاتی بریفنگ

شرکاء کو سندھ ڈویلپمنٹ پورٹ فولیو 2026-2025 کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا جس میں شعبہ جاتی فنڈز کے رحجانات، مکمل شدہ اسکیمیں، مالی کارکردگی اور حکومت کے طویل مدتی ترقیاتی فریم ورک پر روشنی ڈالی گئی۔ وفد کو بتایا گیا کہ اے ڈی پی اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے بڑے منصوبے انفراسٹرکچر کی بہتری، گورننس کی جدیدیت اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے جاری ہیں۔

سیلاب کے بعد بحالی

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے شرکاء کو صوبے میں بڑے پیمانے پر جاری سیلاب متاثرین کی بحالی کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) کو دنیا کے بڑے موسمیاتی بحالی اور ہاؤسنگ منصوبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ 21 لاکھ گھروں کی بحالی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 13 لاکھ مستحقین کے اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں، روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے ہیں اور خواتین کو زمین کے ملکیتی حقوق دے کر بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ وفد کو واٹر، سینیٹیشن اور ہائجین (واش) منصوبوں، انفراسٹرکچر کی بحالی اور کمیونٹی سطح پر لچک بڑھانے کے پروگراموں پر پیش رفت سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

شہری ترقی اور موسمیاتی اقدامات

بریفنگ میں کراچی کے بڑے شہری ترقیاتی منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی جن میں بلدیاتی اصلاحات، سڑکوں کی بہتری، ماس ٹرانزٹ انفراسٹرکچر اور سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پراجیکٹ (سوِیپ) شامل تھے جو شہر کے فضلہ نکاسی کے نظام میں بنیادی تبدیلی لا رہا ہے۔

شرکاء کو ’’ڈیلٹا بلیو کاربن پراجیکٹ‘‘ سے بھی آگاہ کیا گیا جو عالمی سطح پر سراہا جانے والا مینگرووز کی بحالی اور موسمیاتی بہتری کا منصوبہ ہے جس کے تحت پہلے ہی مستند کاربن کریڈٹس حاصل ہو چکے ہیں اور خاطر خواہ زرِمبادلہ حاصل ہوا ہے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کا دورہ اور سندھ کی ترقی میں ان کی دلچسپی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام، موسمیاتی مطابقت اور پائیدار ترقی اب قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں اور ان کے لیے سول و عسکری اداروں کے مضبوط باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔وفد نے سندھ حکومت کی تفصیلی بریفنگ کو سراہا اور مختلف شعبوں میں جاری وسیع پیمانے کے اقدامات کی تعریف کی۔

چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، پی ایس سی ایم آغا واسف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجَم شاہ اور مختلف محکموں کے صوبائی سیکریٹریز بھی بریفنگ میں موجود تھے۔

جواب دیں

Back to top button