وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی رہائشی مشن کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ ایما فین کی قیادت میں وفد سے ملاقات میں صوبے میں اے ڈی بی کی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اہم شعبوں میں مستقبل کے تعاون، بشمول ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، شہری ترقی اور موسمیاتی لچک، پر بات چیت کی۔ملاقات کے آغاز میں اے ڈی بی کی کنٹری ہیڈ نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ ساحلی ترقیاتی منصوبہ اپنی منظوری کے آخری مراحل میں ہے اور صوبے کے چھ نئے منصوبے 75 ملین ڈالر مالیت کے زیر غور ہیں۔وزیر اعلیٰ کی معاونت سینئر وزیر برائے ٹرانسپورٹ شرجیل میمن، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، سیکریٹری رحیم شیخ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم احمد شاہ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد زمان اور دیگر افسران نے کی۔ محترمہ ایما فین کے ہمراہ ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر آصف علیم، کنٹری پروگرامز آفیسر خیام سہیل عباسی، پروجیکٹ آفیسر حمید خان اور پروجیکٹ آفیسر عدنان علی موجود تھے۔ملاقات کے دوران وفد نے کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن پروجیکٹ، شہری نقل و حمل میں بہتری، انفراسٹرکچر کی جدید کاری اور موسمیاتی آفتوں کے خلاف مزاحمت بڑھانے والے پروگراموں سمیت اہم اقدامات کا جائزہ لیا۔ جس میں مالی ضروریات، ادارہ جاتی مضبوطی، منصوبوں کی کارکردگی اور اہم اجزاء کی تکمیل کے لیے وقت کے فریم پر اپڈیٹس شامل تھیں۔سینئر وزیر برائے ٹرانسپورٹ و انفارمیشن نے اجلاس کو بتایا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن میں رکاوٹیں وزیر اعلیٰ کی مداخلت سے دور کی گئی ہیں اور بند کام دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اے ڈی بی ٹیم کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت منصوبوں کے عملدرآمد میں تیزی لانے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "سندھ اے ڈی بی کو ایک طویل المدتی اور قابل اعتماد ترقیاتی شراکت دار کے طور پر اہمیت دیتا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ اے ڈی بی کی مالی معاونت سے چلنے والے تمام منصوبے سندھ کے عوام کے لیےسود مند ثابت ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری ٹرانسپورٹ، پانی، موسمیاتی لچک اور انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبے کراچی اور دیگر شہروں میں معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ میری حکومت پیش رفت کی قریب سے نگرانی کر رہی ہے اور بروقت تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ ایما فین نے سندھ حکومت کے کاموں کی تعریف کی اور جاری و مستقبل کے منصوبوں کے لیے اے ڈی بی کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اے ڈی بی کے تعاون یافتہ پروگراموں میں مضبوط ملکیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم اس عزم کی قدر کرتے ہیں اور شراکت داری جاری رکھنے کے منتظر ہیں تاکہ شہری نقل و حمل میں بہتری، موسمیاتی لچک میں اضافہ اور صوبے میں شمولیتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔محترمہ فین نے کارکردگی کے معیارات کی تکمیل، خصوصاً بی آر ٹی نظام کے لیے ٹرانس کراچی میں ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری اور حفاظتی اقدامات اور کمیونٹی کے تحفظات کو فوری حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے ڈی بی بہتر کارکردگی اور تعمیل کی بنیاد پر قرض کی توسیع اور اضافی مالی اعانت پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم صوبے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ پیش رفت کا سلسلہ جاری رکھے تاکہ اہم ترقیاتی اہداف طے شدہ وقت میں حاصل کیے جا سکیں۔دونوں فریقین نے آئندہ مہینوں خصوصاً مالی اعانت، ضرورت پڑنے پر منصوبوں کی دوبارہ تشکیل، کمیونٹی کی شکایات کے حل، حفاظتی اقدامات کی تعمیل اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کی صلاحیت مضبوط کرنے کے سلسلے میں قریبی رابطے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اے ڈی بی کے وفد کا شکریہ ادا کیا اور یقین ظاہر کیا کہ باہمی تعاون اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کے ذریعے شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
Read Next
7 گھنٹے ago
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان کی پہلی قومی ویمنز ایمپاورمنٹ پرنسپلز ایوارڈز تقریب
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےچنیسر ٹاؤن میں سندھی مسلم فوڈ واک کا افتتاح کردیا۔
3 دن ago
سندھ کے 31 شہروں کا نقشہ بدلنے کی تیاری؛کراچی اور حیدرآباد سمیت بڑے ماسٹر پلانز پر کام جاری،17 مکمل،9 کا نوٹیفکیشن جاری
4 دن ago
سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں کا خصوصی آڈٹ کروانے کا فیصلہ،وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
5 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نگرپارکر ایمبولنس حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کےلئے معاوضے کا اعلان*
Related Articles
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کے اعزاز میں عشائیے میں شرکت
6 دن ago
مراد علی شاہ اورامجد حسین کی ملاقات،سندھ اور گلگت بلتستان کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
1 ہفتہ ago



