خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اور جامعہ پشاور کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

محکمہ سیاحت، ثقافت، آثار قدیمہ و عجائب گھر خیبرپختونخوا کے زیر انتظام خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی اور ڈیپارٹمنٹ آف ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ جامعہ پشاور کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط۔ تقریب میں سیکرٹری سیاحت و ثقافت ڈاکٹر عبدالصمد بھی موجود تھے۔مفاہمتی یادداشت پر دستخط ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی حبیب اللہ عارف اور وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی نے کئے۔سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت ڈاکٹر عبدالصمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

جامعہ پشاور کا ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کا ڈیپارٹمنٹ ہوٹل مینجمنٹ کیساتھ ساتھ مختصر کورسز ترتیب دے تاکہ نوجوان طلبہ ان کورسز سے مستفید ہو سکیں۔ ٹورازم انڈسٹری صرف ہوٹل مینجمنٹ تک محدود نہیں بلکہ ایڈونچر ٹورازم، فورسٹ ٹورازم، مہمان نوازی، ٹوور گائیڈ، ٹریول گائیڈ اور دیگر شعبوں تک بڑھایا جائے۔ جامعہ سے فارغ التحصیل طلبہ کو ڈیپارٹمنٹ میں انٹرنشپ کرنے سے سیکھنے کے مواقع میسر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سروس انڈسٹری کی کمی سے مختلف امور میں سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب اداروں سے تربیت یافتہ نوجوان نسل نکلے گی تو مہمان نوازی کی اس انڈسٹری میں مزید نکھار آئے گا۔وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مل کر مختصر کورسز کا آغاز کرینگے جس سے طلبہ کو اکیڈمیاں کی فیلڈ میں سیکھنے اور بڑھنے کے مواقع میسر ہونگے۔ جامعہ پشاور سے بہت سے طلبہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کے مختلف مقامات پر ترتیب حاصل کررہے ہیں جبکہ کچھ ہوٹل مینجمنٹ میں مختلف ہوٹل انڈسٹری سے بھی منسلک ہیں۔ مفاہمتی یادداشت سے ہوٹل مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ جامعہ پشاور اور خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کو مل کر مستقبل میں صوبے میں سیاحت و ثقافت کے فروغ اور ترقی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہونگے۔ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی حبیب اللہ عارف کا کہنا تھاکہ ٹوور گائیڈ کیلئے بیرون ممالک میں کیٹیگری کا تعین ہوتا ہے۔ جس گائیڈ کو زیادہ زبانیں آتی ہوں اسے اے کیٹیگری اور باقی کو اس کے مناسبت سے کیٹیگری دی جاتی ہے۔مستقبل میں بھی اگر مناسب ٹریننگ اور کورسز جامعہ پشاور کے اشتراک سے ترتیب دیئے جائیں تو سیاحوں کیلئے بہترین ٹوور گائیڈ اور صوبے کیلئے بہترین نوجوان نسل تیار کی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button