وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دسمبر 2025 کی قومی ٹیکہ جات مہم نیشنل امیونائزیشن ڈیز کے تحت ہفتہ بھر جاری رہنے والی پولیو کے خاتمے کی قومی مہم (پندرہ سے اکیس دسمبر) کا افتتاح یونین کونسل اولڈ حاجی کیمپ میں واقع سرکاری تاریخی ادارے سی ایم ایس اسکول میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔ یہ مہم صوبے بھر میں پندرہ سے اکیس دسمبر تک جاری رہے گی۔افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن، محکمہ صحت کے سینئر حکام اور پولیو کے خاتمے کے اقدام کی حمایت کرنے والے قومی و بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے نمائندے شریک تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ نے مضبوط نگرانی کے نظام، ویکسینیشن کی بلند شرح اور مؤثر کمیونٹی شمولیت کے ذریعے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض زیادہ خطرے والے علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اب بھی سامنے آ رہی ہے، تاہم بروقت نشاندہی اور فوری ردعمل پروگرام کی کامیابی کی بنیاد ہے۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں 2024 میں پولیو کے 23کیسز اور2025 میں 9 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں تازہ ترین کیس اگست 2025 میں ضلع بدین میں سامنے آیا۔ 2025 کے دوران کیسز صرف 6 اضلاع تک محدود رہے جن میں بدین، لاڑکانہ، قمبر، ٹھٹھہ، عمرکوٹ اور حیدرآباد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل ماحولیاتی نگرانی، بالخصوص شہری مراکز میں سیوریج کے نمونوں کی جانچ، ہدفی ویکسینیشن اور فوری ردعمل کی رہنمائی کر رہی ہے۔دسمبر 2025 کے نیشنل امیونائزیشن ڈیز سندھ میں رواں سال کی سب سے بڑی صحت مہمات میں سے ایک ہوں گے۔ اس دوران 30 اضلاع کی ایک ہزار 345 یونین کونسلز میں پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ چھ لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین کے دو قطرے پلائے جائیں گے۔اس مہم کے لیے 80 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز تعینات کیے گئے ہیں، جن کی معاونت 21 ہزار سے زیادہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار کر رہے ہیں، جن میں تقریباً 400 لیڈی پولیس کانسٹیبلز بھی شامل ہیں تاکہ ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت اور مہم کی مؤثر عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت مضبوط مائیکرو پلاننگ، مہم سے قبل جامع تیاری اور فرنٹ لائن ورکرز کی بہتر تربیت اور معاونت کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے صحت کے حکام، ضلعی انتظامیہ اور شراکت دار اداروں کے درمیان قریبی رابطے کی اہمیت پر زور دیا، ساتھ ہی اسکولوں، کمیونٹی رہنماؤں، والدین اور مذہبی علما کی فعال شمولیت کو بھی ضروری قرار دیا۔پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی محنت اور لگن ہر بچے کو اس معذور کر دینے والی بیماری سے بچانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بچہ مہم سے محروم نہ رہے۔وزیراعلیٰ نے پولیو کے خاتمے میں میڈیا کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ درست معلومات کی فراہمی، غلط معلومات کا تدارک اور ویکسینیشن کے پیغامات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا میڈیا کی ذمہ داری ہے کیونکہ پولیو سے پاک سندھ اور پولیو سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو بار بار پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ زندگی بچانے والے قطرے لازمی دلوائیں اور پولیو ٹیموں سے مکمل تعاون کریں۔وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے انیس سو نوے میں اپنی صاحبزادی آصفہ بھٹو کو پولیو کے قطرے پلا کر پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کا آغاز کیا تھا اور قوم کے لیے ایک مثال قائم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے ملیں تاکہ اس معذور کر دینے والی بیماری کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔میڈیا سے تعاون کی اپیل
میڈیا کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے میڈیا مالکان پر زور دیا کہ وہ اس مہم کی بھرپور حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کی کامیابی کا انحصار عوامی آگاہی پر ہے۔ میں میڈیا مالکان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مصروف اوقات میں کم از کم پانچ سیکنڈ پولیو سے متعلق آگاہی پیغامات کے لیے مختص کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو پولیو کے خلاف جدوجہد میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ باعثِ شرم ہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو موجود ہے۔ پولیو ایک بچے کا مستقبل تباہ کر دیتا ہے اور ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اب تک پاکستان میں پولیو کے تیس کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے نو کیسز سندھ سے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ ماضی میں کیسز میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ عرصے میں ان میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ہر چند ماہ بعد پولیو مہم شروع کرتی ہے اور اس بار بھی ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو حفاظتی پولیو ویکسین کے دو قطرے پلائے جائیں۔انہوں نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو ہدایت کی کہ وہ گھر گھر جا کر ویکسینیشن کریں اور بتایا کہ مہم کے دوران پولیو ٹیموں کے تحفظ کے لیے اکیس ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی، ان کا کہنا تھا کہ میں شہریوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پولیو ورکرز کا خیرمقدم کریں اور مکمل تعاون کریں۔ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ انکار کی صورت میں مقامی یونین کونسل کے نمائندوں کو خاندانوں کی رہنمائی کے لیے شامل کیا جائے گا اور کمیونٹی کی سطح پر شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے دہرایا کہ پولیو کا خاتمہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین، بہن بھائی، کمیونٹی رہنما، میڈیا اور حکومتی اداروں سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اسی صورت میں ہم اپنے بچوں کا تحفظ کر سکتے ہیں اور پولیو سے پاک پاکستان کو یقینی بنا سکتے ہیں۔






