وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دسمبر 2025 تک سندھ میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے پورٹ فولیو کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے جاری ترقیاتی تعاون کے حجم پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد اور رقوم کے بہتر اجرا پر زور دیا۔وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرا ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سید سردار شاہ، جام خان شورو، ذوالفقار شاہ، وزیرِاعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے صحتِ عامہ سلیم بلوچ، پرنسپل سیکریٹری وزیرِاعلیٰ آغا واصف، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ نے شرکت کی۔وزیرِاعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس وقت سندھ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے پانچ فعال منصوبے جاری ہیں جن کی مجموعی سرمایہ کاری ایک ارب تین سو انیس ملین امریکی ڈالر ہے۔ یہ منصوبے ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، سماجی ترقی، مالیاتی شعبے میں اصلاحات، پانی اور شہری ترقی جیسے اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر پورٹ فولیو میں اب تک 67 فیصد ٹھیکے دیے جا چکے ہیں جبکہ 38 فیصد مجموعی رقوم جاری کی جا چکی ہیں۔وزیرِاعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سندھ کے اہم ترین ترقیاتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے نقل و حرکت میں بہتری، تعلیم اور صحت کی خدمات کے استحکام، رہائشی تعمیرِ نو اور صوبے بھر میں موسمیاتی لچک بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہیں تاہم بروقت تکمیل اور تیز تر رقوم کے اجرا کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔وزیرِاعلیٰ نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑے منصوبوں جن میں کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن منصوبہ اور سندھ کے لیے ہنگامی سیلابی امدادی منصوبہ شامل ہیں، پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ نے بتایا کہ سیلابی امدادی منصوبے کے تحت ٹھیکوں کی منظوری 90 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے تاہم امدادی اور بحالی سرگرمیوں کو بلا تاخیر جاری رکھنے کے لیے رقوم کے اجرا کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔بی آر ٹی ریڈ لائن کے حوالے سے وزیرِاعلیٰ نے عملدرآمد میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن جیسے ماس ٹرانزٹ منصوبے کراچی کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں اور کسی بھی تاخیر کا براہِ راست اثر لاکھوں مسافروں پر پڑتا ہے اس لیے تمام عملدرآمدی اداروں کو باہمی تعاون سے نظرثانی شدہ ٹائم لائنز پر عمل کرنا ہوگا۔صوبائی وزیرِ تعلیم سردار شاہ نے تعلیم اور سماجی ترقی کے شعبے میں پیش رفت پر وزیرِاعلیٰ کو بریفنگ دی بالخصوص سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ اور اس کی اضافی مالی معاونت کے حوالے سے جو سرکاری تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے میں نمایاں سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ انسانی ترقی کے منصوبوں پر مسلسل توجہ ضروری ہے کیونکہ تعلیم اور مہارتوں کی ترقی طویل المدتی سرمایہ کاری ہے جو آنے والی دہائیوں تک سندھ کے سماجی اور معاشی سفر کا تعین کرے گی۔
اجلاس میں پانی اور شہری ترقی کے شعبے کے تحت جاری سندھ ہنگامی ہاؤسنگ تعمیرِ نو منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے لیے 400 ملین امریکی ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ وزیرِاعلیٰ نے زور دیا کہ سیلاب سے متاثرہ آبادیوں کے لیے رہائشی تعمیرِ نو عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھروں کی تعمیر محض انفراسٹرکچر کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے وقار، تحفظ اور امید کی بحالی سے جڑی ہوئی ہے۔وزیرِاعلیٰ نے صوبائی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو کو ہدایت کی کہ وہ 2025 سے 2028 کے لیے مستقبل کے منصوبوں کا خاکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کو پیش کریں جس میں ساحلی تحفظ، پائیدار ٹرانسپورٹ، گرین موبیلٹی، پانی و صفائی، ہاؤسنگ، زراعت اور عوامی و نجی شراکت داری کے تحت ترقیاتی منصوبے شامل ہوں گے۔ مجوزہ منصوبہ جاتی پائپ لائن کی مالیت کئی ارب ڈالر بنتی ہے جو سندھ کی ترقیاتی ترجیحات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی ملکی حکمتِ عملی کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہے۔آئندہ منصوبوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ یہ مجوزہ پائپ لائن سندھ کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے اور صوبائی حکومت شفافیت، کارکردگی اور عملی نتائج کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔اجلاس کے اختتام پر وزیرِاعلیٰ سید مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں پر عملدرآمد کی کڑی نگرانی کی جائے، طریقہ کار سے متعلق تاخیر دور کی جائے اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کی گئی ہر ڈالر کی رقم سندھ کے عوام کے لیے ٹھوس فوائد میں تبدیل ہونی چاہیے، اور یہی کامیابی کا اصل پیمانہ ہے۔






