وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے محکمہ آبپاشی کے تحت ای-آبیانہ ایپ کا اجرا کر دیا

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ای-آبیانہ ایپ کا اجراء شفاف طرزِ حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت ہے، عمران خان کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل خیبر پختونخوا کے تحت سرکاری محکموں کے اُمور کو بتدریج ڈیجیٹائز کیا جارہا ہے، صوبائی محکموں کے 60 سے 70 فیصد امور ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں۔ہدف ہے کہ رواں مالی سال جون تک ڈیجیائزیشن کا عمل 100 فیصد مکمل کر لیں، آبیانہ کی وصولی کا پورا نظام ڈیجیٹائزڈ، ریکارڈ محفوظ اور صارفین کیلئے قابل رسائی ہو گا۔اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ زمین اور پانی کے استعمال سے متعلق ڈیٹا کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک کیا گیا ہے، جدید ایپ سے ریکارڈ کی درستگی اور محکمے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی، جدید نظام کے نفاذ سے ریوینیو جنریشن کا سالانہ ہدف بآسانی پورا کر سکیں گے، وصولی کی کم شرح، ادائیگی میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل حل ہو جائیں گے۔ انتظامی سطح پر نگرانی اور فیصلہ سازی کے لیے ڈیش بورڈز فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں ای۔ آبیانہ سسٹم کو مردان آبپاشی ڈویژن میں بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے، اس جدید نظام کو مرحلہ وار پورے صوبے میں نافذ کیا جائے گا۔وزیراعلٰی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے محکمہ آبپاشی کے تحت ای-آبیانہ ایپ کا اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ای-آبیانہ ایپ کا اجراء شفاف طرزِ حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت ہے، عمران خان کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل خیبر پختونخوا کے تحت سرکاری محکموں کے اُمور کو بتدریج ڈیجیٹائز کیا جارہا ہے۔ صوبائی محکموں کے 60 سے 70 فیصد امور ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں، ہدف ہے کہ رواں مالی سال جون تک ڈیجیائزیشن کا عمل سو فیصد مکمل کر لیں۔چشمہ رائٹ بنک لفٹ کنال کا دیرینہ منصوبہ وفاق کی عدم سنجیدگی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے، ہم سی آر بی سی کے لیے اپنے حصے کا شیئر ادا کر چکے مگر وفاق کی طرف سے مسائل ہیں۔ گبرال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر 85 فیصد کام مکمل ہے، وفاق کی جانب سے گزشتہ آٹھ ماہ سے غیر ملکی ورکرز کے لیے این او سی جاری نہ ہونے کے باعث منصوبہ مکمل نہیں ہو رہا۔وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے، ہمارے اربوں روپے کے بقایاجات ادا نہیں کر رہا، دوسری طرف جو تھوڑی بہت فسکل ریلیز دیتا ہے اس کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے، وفاق باقی صوبوں کی فسکل ریلیز کا بھی میڈیا ٹرائل کرے۔ ایک طرف عمران خان ناحق قید، سزاؤں پر سزائیں دی جا رہی ہیں، دوسری طرف آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق 5300 ارب کی کرپشن ہوئی جس پر کوئی سوال نہیں۔

جواب دیں

Back to top button