وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے "سُتھرا پنجاب” کے دوسرے مرحلے ویسٹ ٹو انرجی میں چین اور جاپان کے ماڈل کو سامنے رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کُوڑے کو مسئلہ سمجھنے کی بجائے ریسورس کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ وہ سول سیکرٹریٹ میں سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے ایک اجلاس کے دوران اظہار خیال کر رہے تھے۔

سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹریز آسیہ گُل،ارشد بیگ، ڈائریکٹر جنرل سُتھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین اور ایڈیشنل سیکرٹری احمر کیفی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں سُتھرا پنجاب کے اگلے مرحلے ویسٹ ٹو ویلیو کا بھی جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر نے نوتشکیل شُدہ ستھرا پنجاب اتھارٹی کے لئے ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوزوکی کمپنی کے ساتھ ویسٹ سے بائیوفیول کی پیداوار کیلئے بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے تحت انتظامی نگرانی ڈویژن سے ضلع سطح پر آنے کے اچھے نتائج نکلیں گے۔ اب سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے ماتحت ہر ضلع میں ایجنسی قائم کی جا رہی ہے۔ وزیر بلدیات نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ دنیا سُتھرا پنجاب کو ایک منفرد ماڈل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔خلیجی اخبار کی تازہ رپورٹ سُتھرا پنجاب نیٹ ورک کیلئے ایک اور اعزاز ہے۔ اس سے پہلے فوربز، بلومبرگ، بی بی سی بھی سُتھرا پنجاب کو گیم چینجر قرار دے چکے ہیں۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ صرف چند ماہ میں پنجاب میں دنیا کا صفائی کا سب سے بڑا نظام کھڑا کیا گیا۔ الحمدللہ وزیراعلٰی مریم نواز کی زیر سرپرستی سُتھرا پنجاب روز بروز مستحکم ہو رہا ہے۔ وزیراعلٰی کے ویژن کی کامیابی کے اعتراف سے ہمارے سر فخر سے بلند ہوگئے۔ صوبائی سطح پر اتھارٹی کے قیام سے فیصلہ سازی کے عمل اور عوام کو سہولیات کی موثر فراہمی میں آسانی ہوگی۔





