وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے پہلے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام لانچ کردیا

پنجاب ہاکی سٹیڈیم میں صوبے بھر سے 55ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی پنجاب ہاکی سٹیڈیم آمد پر کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر زنے جوش وخروش نعرے لگائے جس پر وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر ز پراجیکٹ کا ڈیجیٹل افتتاح کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف حوصلہ افزائی کیلئے ہاکی سٹیڈیم کے ٹریک پر ہر انکلیوژرکے سامنے گئیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ہاکی سٹیڈیم کے ٹریک پر طویل چکرلگاکرہرضلع سے آنے والی کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرزکا خیر مقدم کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے قائد محمد نوازشریف کا پورٹریٹ تھامے بچی کی خودموبائل فون سے تصویر بنائی۔ تقریب میں دھنیں بکھرتے بینڈ کے پیچھے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کے دستے نے مارچ پاس کیا۔

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کو کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کے دستے نے سلامی پیش کی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کے خطاب سے پہلے آتش بازی کاخوبصورت مظاہر ہے سے آسمان پر رنگ بکھر گئے۔ تقریب میں کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پراجیکٹ کے بارے میں دستاویزی فلم پیش کی گئی۔ صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی خواجہ عمران نذیر نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکردگی میں مریم نوازشریف کا کسی وزیراعلیٰ سے کوئی موازانہ نہیں ہوسکتا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اپنے خطاب میں صوبائی وزیر صحت،سیکرٹری اورپوری ٹیم کو شاباش دی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کے خطاب کے دوران سٹیڈیم تالیوں سے گونجتا رہا۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرزنے موبائل کی لائٹس آن کر کے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ پنجاب ری ایکشن نہیں بلکہ پروایکٹو گورننس پر یقین رکھتا ہے۔55ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز میدان عمل میں نکلیں گی تو پنجاب سے بیماریاں بھاگ جائیں گی۔حکومت اب انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود چل کر گھروں تک جائے گی۔ جب بیماری ہوجائے تو علاج کی تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے،ہم پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرزپراجیکٹ لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ مائیں،بہنیں،بیٹیاں میدان عمل میں نکل آئیں تو پنجاب کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔مائیں،بہنیں،بیٹیاں پنجاب کی تقدیر بدل دیں گی۔پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو پنجاب کا لینڈ سکیپ بدل سکتی ہے۔کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر ز پراجیکٹ کی لانچنگ تقریب میں ہر بچی سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔پنجاب کی بیٹی،پنجاب کی بہن اورپنجاب کی ماں ہمت اورحوصلے میں کسی سے کم نہیں۔صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی خواجہ عمران نذیر، سیکرٹری ہیلتھ اور ان کی پوری ٹیم کو انتھک محنت کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کئی ماہ کی ٹریننگ کے بعد تکلیف میں مبتلاانسانیت میں شفاء باٹنے کیلئے تیار ہیں۔کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز میری آنکھیں،کان اورمیرا فخر اورمیرا مان ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج ہم ہر شعبے میں خود کفیل ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی خواتین میدان عمل میں اپنا منفرد مقام پیدا کریں گی۔خواتین پنجاب کی ترقی کے لئے بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں۔ کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال سے تین کروڑ لوگوں کا علاج معالجہ کیا گیا۔ مریم نواز شریفکمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرزبلڈ شوگر سمیت تشخیصی ٹیسٹ اورانجکشن وغیرہ بھی لگا سکیں گی۔کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کا یونیفارم ڈیزائن کرنے میں خود دلچسپی لی ٹول کٹ کی منظوری بھی خود دی۔کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر ز پروگرام میں 25ہزار لوگوں کو جاب ملی،50ہزار تنخوا دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر کام کر کے دکھائیں تو تنخواہ بڑھائیں گے۔مجھے احساس ہے یہ بہنیں،بیٹیاں،گلی گلی جا کر محنت کرے گی تو موازانہ بھی اچھا دینا ہوگا۔کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر ز پراجیکٹ کے ذریعے ہر گھر کا ہیلتھ پروفائل تیار ہوگا،بیماریوں کا اندازہ ہوگا،ڈیجیٹل ٹیپ میں پورا ریکارڈ رکھا جائے گا۔اب قوم کی بیٹی خدمت کررہی ہیں،اس کی عزت سب پر فرض ہے۔کوئی بھی بیماری ہو اس کا چیک اپ کر کے علاج کیلئے متعلقہ ہسپتال بھیجا جائے گا۔وقت آگیا ہے حکومت کے پاس کسی کو نہ آنا پڑے،حکومت خود چل کر آئے۔وزیراعلیٰ مریم نوازش ریف نے کہا کہ ستھرا پنجاب کی گورننس کی شاندار مثال ہے۔ستھرا پنجاب کی ٹیمیں پورے صوبے سے گھر گھر جاکر کوڑا کڑکٹ اٹھا رہے ہیں۔میرا یہ خواب ہے کہ سرکاری ہسپتال میں آنے والوں کو کبھی کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ کینسر،امراض دل کی ادویات مفت دے رہے ہیں،سرگودھا،ساہیوال اورمری میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ بنا دیئے۔کوئی سوچ سکتا تھا کہ جہلم میں بھی کیتھ لیب بنے گی ا ورامراض دل کا علاج ہوگا۔جھنگ میں بھی کیتھ لیب جلد شروع کرنے جا رہے ہیں۔کوشش ہے کہ پنجاب کے عوام کو درکار ہر سہولت مہیا کرسکیں۔کیمونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو کہنا چاہتی ہوں کہ یہ نوکری نہیں مشن ہے۔

جواب دیں

Back to top button