میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع کیماڑی میں 850 ملین روپے سے زائد لاگت کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھ دیا

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے حب ریور روڈ تا طوری بنگش روڈ اتحاد ٹاؤن کی بحالی کے میگا انفرااسٹرکچر منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، یہ منصوبہ 850 ملین روپے سے زائد لاگت کی ترقیاتی اسکیموں کا حصہ ہے جس کا مقصد شہری ترقی، بہتر سفری سہولیات، نکاسی آب کے دیرینہ مسائل کا حل اور کچی آبادیوں کو پائیدار ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے، اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی لیاقت آسکانی، کے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈرکرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد،یو سی چیئرمین عارف تنولی، منتخب نمائندے، کے ایم سی افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حب ریور روڈ تا طوری بنگش روڈ اتحاد ٹاؤن کی بحالی ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے جو دو اضلاع کو آپس میں ملاتا ہے اور اورنگی، کیماڑی اور اطراف کے علاقوں کے لیے ایک بڑی شاہراہ کی حیثیت رکھتا ہے،

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر 80 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور حب ریور روڈ کو ڈوئل کیرج وے میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل ممکن ہو سکے،میئر کراچی نے کہا کہ 12 ہزار 500 فٹ طویل ڈوئل کیرج وے کی تعمیر ٹریفک روانی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، منصوبے میں 8 ہزار فٹ جدید ڈرینیج سسٹم شامل کیا گیا ہے جبکہ نکاسی آب کی بہتری کے لیے 21 ہزار فٹ سے زائد آر سی سی پائپ لائن بچھائی جائے گی، ان اقدامات سے علاقے میں برساتی پانی اور سیلابی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہوگا،انہوں نے کہا کہ حب ریور روڈ پر اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی جبکہ طوری بنگش کی اندرونی گلیوں میں پیور بلاکس بچھائے جا رہے ہیں،کچی آبادیوں میں پیور بلاکس پائیدار ترقی کی علامت ہیں اور بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کی کچی آبادیوں کو بھی جدید سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے،میئر کراچی نے کہا کہ طوری بنگش میں گلیوں کی بحالی سے عوام کو بہتر سہولتیں میسر آئیں گی،سڑکوں اور گلیوں کی بہتری سے مجموعی طور پر معیارِ زندگی بلند ہوگا،شہری ترقی کے لیے جدید اور پائیدار انفراسٹرکچر ناگزیر ہے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی عوامی فلاح کے منصوبے بلا تفریق جاری رکھے گی،میئر کراچی نے کہا کہ سڑک کی تعمیر سے پہلے نکاسی آب کے نظام اور دیگر یوٹیلیٹیز کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، انہوں نے کنٹریکٹر کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور اعلان کیا کہ یہ کام اگلے چھ ماہ میں مکمل ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ یہ یہاں کے عوام کا دیرینہ مسئلہ تھا جسے آج حل کرنے جا رہے ہیں اور یہ دن پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کا دن ہے،وسائل کی کوئی کمی نہیں، تمام فنڈز بجٹ میں موجود ہیں اور عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوامی سہولتوں پر ہی خرچ کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہاکہ وہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے مشن اور وژن پر عمل پیرا ہیں اور کراچی کے ہر ٹاؤن، ہر ضلع اور ہر یوسی میں بلا تفریق خدمت کا عزم رکھتے ہیں،پریس کانفرنس اور محض تنقید سے مسائل حل نہیں ہوتے، مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں اور یہ کام پاکستان پیپلز پارٹی بہتر انداز میں کر رہی ہے،میئر کراچی نے پانی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حب ڈیم سے نئی کینال ڈال کر پانی کے مسئلے کے حل کی کوشش کی گئی ہے جبکہ پانی کی پمپنگ سے متعلق مسائل بھی بہت جلد حل ہو جائیں گے،اس مقصد کے لیے جاپان سے جدید مشینری منگوائی گئی ہے اور اضافی پانی کے حصول پر بھی کام جاری ہے،انہوں نے کے فور منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مختلف فیزز پر کام ہو رہا ہے اور کے فور کا پانی کراچی کے گلی محلوں تک پہنچایا جائے گا،کے فور کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا پانی کا منصوبہ ہے،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ اپوزیشن میں اور حکومت میں بیانات بدل جاتے ہیں، ہمارے ملک میں جو بندہ اپوزیشن میں ہوتاہے وہ کچھ کہتا ہے اور حکومت میں ہوتا ہے تو کچھ کہتا ہے، اس وقت کے اپوزیشن لیڈر 2021میں کراچی آئے تھے اور انہوں نے پریس کانفرنس کی تھی،اس پریس کانفرنس میں شہباز شریف صاحب کا کہنا تھا کہ یہ اتنا بڑا شہرہے جو سارے ملک کو چلاتا ہے، اس شہر پر جتنے پیسے صوبائی حکومت لگاتی ہے اور اس شہر کو چلانے کے لئے جتنے پیسے مقامی حکومت لگاتی ہے اس کے لئے وفاق کو بھی مدد کرنی چاہئے،انہوں نے کہا کہ میں شہباز صاحب سے گزارش کرتا ہوں کہ 2021 میں جو بیان دیا تھا وہ پورا کریں، اس وقت شہباز شریف صاحب اپوزیشن لیڈر تھے،یہ نہیں ہو سکتا سارے مسائل کا حل کراچی ہو وفاقی حکومت شہر کے لئے کچھ نہ کرے،آج وزیر اعظم شہبازشریف کو اپنے وعدے کو وفا کرنا چاہئے، یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اپوزیشن کے دور میں کچھ کہیں اور حکومت میں ہوں تو کچھ اور کہیں، انہوں نے کہا کہ 1970 میں اس شہر میں سرکلر ریلوے چلتی تھی وہ بند ہو گئی،پارکوں اور گراؤنڈ زپر قبضے ہو گئے، انسان کو وہ وعدہ کرنا چاہئے جس کو وفا کرے،وفاقی حکومت کو بھی کراچی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور وزیراعظم کو لاہور کے ساتھ ساتھ کراچی کے مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے، انہوں نے کہاکہ تعصب اور تنقید کی سیاست نے کبھی شہر کا بھلا نہیں کیا، ہمیں متحد ہو کر کراچی کے مسائل کا حل نکالنا ہے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی عوامی خدمت، تعمیر و ترقی اور شہری سہولیات کی فراہمی کے مشن پر اسی جذبے سے کام کرتی رہے گی۔بعدازاں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع کیماڑی میں تقریباً 56 ملین روپے کی لاگت سے سپارکو روڈ کے بحالی منصوبے کا سنگِ بنیاد بھی رکھا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سپارکو روڈ بحالی منصوبہ شہری ترقی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے اور شہری ترقی کے لیے جدید اور پائیدار انفراسٹرکچر ناگزیر ہے جس میں 48 ہزار اسکوائر فٹ پیور بلاکس اور 65 ہزار اسکوائر فٹ اسفالٹ وئیرنگ کورس شامل ہے، انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور شہری سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی، ان کا کہنا تھا کہ سپارکو روڈ پر جدید سیوریج نظام اور معیاری سڑک تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں،ترقیاتی منصوبوں کا بنیادی مقصد شہریوں کی زندگی کو آسان بنانا اور شہر کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے،میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی شہر کے ہر ضلع میں ترقیاتی کام یکساں بنیادوں پر کر رہی ہے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی عوامی فلاح کے منصوبے بلا تفریق جاری رکھے گی، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوامی سہولتوں پر ہی خرچ کیا جا رہا ہے،ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کراچی کو ایک جدید، منظم اور پائیدار شہر بنانے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ ٹاؤن میں زیرتعمیر فٹبال اسٹیڈیم اور عبدالرحمن گوٹھ، یو سی-2 میں واقع فٹبال گراؤنڈ کے کام کا بھی جائزہ لیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ فٹبال اسٹیڈیم نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں کا مرکز بنے گا اور کھیلوں کے فروغ سے نوجوانوں کو مثبت سمت فراہم کی جاسکتی ہے،بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر میں اسپورٹس کلچر کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور کراچی کے نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ فٹبال اسٹیڈیم کی تعمیر سے مقامی ٹیلنٹ کو آگے آنے کے مواقع ملیں گے اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا پلیٹ فارم میسر آئے گا،انہوں نے کہا کہ ہر ٹاؤن میں کھیلوں کے میدانوں کی بحالی اور تعمیر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنا معاشرتی بہتری کے لیے ضروری ہے۔

جواب دیں

Back to top button