وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت سیف سیٹیز منصوبے پر پیشرفت سے متعلق اجلاس

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت سیف سیٹیز منصوبے پر پیشرفت سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے سیف سیٹیز منصوبے پر کام مزید تیز کرنے اور اسے مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ سُہیل آفریدی نے منصوبے کی توسیع باقی ماندہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز اور ضم اضلاع تک کرنے کے لیے ہوم ورک جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے ساتھ ہی سیف سیٹیز اتھارٹی کے قیام کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے اور ضم اضلاع میں منصوبے کے لیے 24 گھنٹے سولر انرجی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور سیف سٹی منصوبہ 31 جنوری 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ سیف سیٹیز منصوبے کے تحت ڈی آئی خان میں 88، بنوں میں 76 اور لکی مروت میں 47 مقامات پر کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جو 31 جنوری تک مکمل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کرک، ٹانک اور شمالی وزیرستان میں منصوبے کے لیے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔ ٹانک میں 45، کرک میں 40 جبکہ شمالی وزیرستان میں 37 مقامات پر جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ پشاور میں منصوبے کے تحت 133 مقامات پر مجموعی طور پر 711 جدید کیمرے لگائے جا رہے ہیں، جن میں 88 اے این پی آر، 84 ایف آر، 376 جی ایس کیمرے، 5 تھرمل کیمرے اور 80 باڈی کیمرے شامل ہیں۔پشاور میں کیمروں کی تنصیب کے لیے کھمبے لگانے کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، 46 مقامات پر کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر پر 85 فیصد کام مکمل ہے۔ ضم اضلاع کو سیف سیٹیز بنانے کے لیے سروے بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پورے صوبے کو مرحلہ وار سیف سٹی بنایا جائے گا۔ امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔سیف سیٹیز منصوبہ امن و امان اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ منصوبہ جرائم کی روک تھام اور امن کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کرے گا جبکہ سیف سٹی نظام پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

جواب دیں

Back to top button