بلدیہ عظمٰی لاہور کو پہلی ششماہی میں نقشہ فیس کی مد میں 9 کروڑ روپے کا خسارہ،ریونیو اہداف پورے نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

بلدیہ عظمٰی لاہور کو پہلی ششماہی میں نقشہ فیس کی مد میں 9 کروڑ روپے کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔چیف آفیسر بلدیہ عظمٰی لاہور شاہد عباس کاٹھیا نے تمام زونل آفیسرز پلاننگ کو وارننگ جاری کر دی ہے۔ریونیو اہداف پورا نہ کرنے والے زونل افسران اور بلڈنگ و انفورسمنٹ انسپکٹرز کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی۔میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کو بلڈنگ پلان فیسوں میں ریکارڈ اضافہ کے باوجود آمدن کے اہداف پورا کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔یکم جولائی 2024 سے بلدیہ عظمٰی لاہور کی کمرشل اور رہائشی نقشہ فیس ایل ڈی اے کے برابر کی جا چکی ہیں۔تین سے چار گنا فیسوں میں اضافہ کے باوجود ایم سی ایل کے شعبہ پلاننگ کی آمدن نہیں بڑھ سکی تاہم افسران اور انسپکٹرز کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے بھی بلدیہ عظمٰی لاہور کی انتظامیہ کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں نقشہ فیس کی مد میں 40 کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تاہم پہلی ششماہی کے اعداد و شمار کے مطابق 20 کروڑ روپے ہدف کے مقابلے میں صرف 11 کروڑ روپے سرکاری خزانے جمع ہوئے9 کروڑ روپے کا شارٹ فال رہا۔جس کی بڑی وجہ انفورسمنٹ سسٹم کا کمزور ہونا ہے۔ایل ڈی اے کے مقابلے میں بلدیہ عظمٰی لاہور کی طرف سے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ایل ڈی اے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ جبکہ بلدیہ عظمٰی لاہور کی مقررہ آمدن کے اہداف ہی پورے نہیں ہورہے ہیں۔لاہور کے نو زونز میں سے کوئی زون بھی نقشہ فیس کا مطلوبہ ہدف پورا نہیں کر سکا ہے۔خاتون ٹاؤن پلانرز کی انتظامی گرفت کمزور ہونا اور کرپشن میں بیشترافسران اور ملازمین کے ملوث ہونے کی وجہ سے بھی ریونیو اہداف کا حصول ممکن نہیں ہو رہا ہے۔داتا گنج بخش زون، علامہ اقبال زون، شالیمار،واہگہ،نشتر،سمن آباد کی کارکردگی زیادہ خراب ہے۔چیف آفیسر شاہد عباس کاٹھیا نے ریونیو اہداف پورے نہ کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔جس کے لئے ڈپٹی چیف آفیسر ہیڈکوارٹر محمد جمیل کو شعبہ پلاننگ کی کارکردگی رپورٹ مرتب کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button