وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کےلیے 1 کروڑ فی کس امداد کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کے تناظر میں جامع ریلیف، انکوائری اور فائر سیفٹی اصلاحات کے پیکج کا اعلان کیا۔انہوں نے یہ اعلان وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا، جس میں تاجر و صنعتکار رہنماؤں محمد جاوید بلوانی، محمد ادریس میمن، محمد رضا، محمد جنید مکدا، محمد طارق یوسف اور محمد تنویر پاستا بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ اور سعید غنی، مشیر گیان چند اسرانی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کمشنر کراچی حسن نقوی اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید کھوسو بھی موجود تھے۔واقعے کو یاد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ شب ایک دلخراش سانحہ اس وقت پیش آیا جب رات تقریباً دس بج کر پندرہ منٹ پر گل پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی تاہم ابتدائی جائزوں کے مطابق ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ اس کا سبب ہو سکتا ہے۔ریسکیو آپریشن کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ آگ بجھانے کے عمل میں 24 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4اسنارکل گاڑیاں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تقریباً 100 فائر فائٹرز اور ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے مزید 100 اہلکاروں نے کارروائی میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق آگ کا تقریباً 10 فیصد حصہ تاحال سلگ رہا تھا جبکہ عمارت کے اندر رسائی ساختی مسائل کے باعث انتہائی دشوار رہی۔

*معاوضہ اور امداد*

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق ہونے والے فرد کے لواحقین کو سندھ حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ متاثرہ دکانداروں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی متاثرین کی مدد کی گئی ہے اور اس بار بھی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گل پلازہ کے متاثرین کی مدد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت تاجر کمیٹی مالی نقصانات کا تخمینہ لگائے گی جبکہ حکومت اس کے مطابق معاونت فراہم کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بے گھر ہونے والے دکانداروں کے لیے عارضی متبادل جگہوں کی فراہمی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

*انکوائری کا حکم*

باضابطہ تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی معاونت فراہم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فرانزک لیبارٹری لاہور سے بھی معاونت طلب کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس انکوائری کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اپنی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر تخریب کاری کے شواہد سامنے آئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا اور جہاں ضرورت ہوئی سزا بھی دی جائے گی تاہم کسی کو بلاوجہ قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر عدالتی انکوائری کا بھی حکم دیا جا سکتا ہے۔

*فائر سیفٹی اصلاحات*

وزیراعلیٰ نے فائر سیفٹی آڈٹ 2024کے فوری نفاذ کا اعلان کیا جس کے تحت 145 عمارتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے حکومت اور تاجر برادری دونوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔فوری اور درمیانی مدت کے اقدامات کے تحت انہوں نے دکانوں میں فائر الارم نصب کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ انسانی جانیں بچانے کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ بروقت انخلاء ممکن ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کراچی کی بہت سی عمارتیں سنگین حفاظتی مسائل کا شکار ہیں اور حکومت ان مسائل کے حل کے لیے فوری اور درمیانی مدت کے اقدامات کر رہی ہے۔سید مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ گل پلازہ میں اصل میں1017 دکانوں کی منظوری دی گئی تھی اور انکوائری کے دوران یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا اضافی دکانیں تعمیر کی گئیں اور آیا آگ بجھانے کے مناسب انتظامات موجود تھے یا نہیں۔

*ضبط و اتحاد کی اپیل*

وزیراعلیٰ نے ضبط کی اپیل کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ سانحے کے اس وقت میں مبالغہ آرائی اور غیر ضروری الزام تراشی سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی کام کو ممکن بنانے کے لیے حادثے کی جگہ کو سیل کیا جاتا ہے تاہم قبل از وقت قیاس آرائیاں اکثر ابہام پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ حکومت کی جانب سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن سب کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ جو ادارے خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، انہیں بھی اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ایسے وقت میں دکانداروں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہتی جب وہ پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے میڈیا سے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں میڈیا سے ناراض نہیں ہوں، لیکن تعمیری کردار کی درخواست کرنا غلط نہیں۔

*رسپانس ٹائم*

وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ آگ لگنے کی اطلاع رات 10 بج کر 16 منٹ پر موصول ہوئی اور پہلی فائر ٹینڈر گاڑی 10 بج کر 26 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ انہوں نے راستوں کی بندش کے باعث پانی کی فراہمی میں پیش آنے والی مشکلات کا بھی اعتراف کیا۔ اپنی آمد میں تاخیر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ شہر سے باہر تھے جبکہ میئر کراچی بھی شہر سے باہر تھے اور پہلی دستیاب پرواز سے واپس آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی میئر اور کمشنر کراچی موقع پر موجود تھے اور وہ خود مسلسل ان سے رابطے میں رہے۔

*تاجروں کا ردعمل*

پریس کانفرنس میں موجود ممتاز تاجر رہنما جاوید بلوانی نے وزیراعلیٰ کے بیانات کی تائید کی اور میڈیا پر زور دیا کہ مثبت رپورٹنگ کے ذریعے بحالی کی کوششوں کا ساتھ دے۔ انہوں نے کہا کہ فائر الارم انسانی جانیں بچانے کے لیے سب سے اہم ذریعہ ہیں اور اعلان کیا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شہر بھر کی مارکیٹوں میں فائر ڈرلز کا انعقاد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے وقت اطمینان دلانا عوامی حوصلے کو مضبوط کرتا ہے اور مزید کہا کہ تمام ضروری فیصلے روانگی سے قبل وزیراعلیٰ ہاؤس میں حتمی شکل دیے جائیں گے۔اپنے خطاب کے اختتام پر مراد علی شاہ نے کہا کہ گل پلازہ جیسے سانحات دنیا بھر میں پیش آتے ہیں لیکن اصل امتحان ان سے سبق سیکھنے اور نظام کو بہتر بنانے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ آگ بجھانے میں مدد کریں، اسے ہوا نہ دیں۔ وزیراعلیٰ نےاس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سندھ کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پرعزم ہیں۔اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے طویل المدتی اصلاحات پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ تمام بلدیاتی فائر سروسز کو ریسکیو 1122 کے تحت یکجا کیا جائے تاکہ صوبے بھر میں پیشہ ورانہ اور مربوط ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے نئی قانون سازی، بشمول سندھ کمیونٹی سیفٹی ایکٹ 2026 اور تجارتی علاقوں کے لیے مزید سخت بلڈنگ سیفٹی قوانین کو تیز رفتاری سے نافذ کرنے کا بھی حکم دیا۔ ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ جائے وقوعہ پر کولنگ اور کلیئرنس آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ حکام آگ کی وجوہات جاننے اور ہنگامی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button