بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرِ زراعت ڈاکٹر محمد جاوید ترین کو بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے۔ انہیں ورلڈ ایگریکلچر فورم (World Agriculture Forum) کی جانب سے گلوبل کونسل کے رکن کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں ان کی عالمی سطح کی تحقیقی خدمات اور سائنسی ریسرچ پیپرز کی بنیاد پر دیا گیا۔ورلڈ ایگریکلچر فورم ایک عالمی ادارہ ہے جو ورلڈ اکنامک فورم کے طرز پر قائم کیا گیا ہے۔ اس کا ہیڈکوارٹر نیدرلینڈز میں واقع ہے جبکہ اس کے دفاتر امریکہ اور روم میں بھی موجود ہیں۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں زراعت کے فروغ، پائیدار ترقی اور سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ محکمہ زراعت کے گریڈ 20 کے سینئر ٹیکنوکریٹ ڈاکٹر محمد جاوید ترین نے ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی سے پی ایچ ڈی کی ہے جبکہ آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے جدید زرعی ٹیکنالوجی کے موضوع پر اہم تحقیقی کام انجام دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ بلوچستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان سے کسی ماہر زراعت کو ورلڈ ایگریکلچر فورم کی گلوبل کونسل کا رکن منتخب کیا گیا ہے، اور یہ فخر بلوچستان کے حصے میں آیا ہے۔ڈاکٹر ترین کا انتخاب نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ پاکستان خصوصاً بلوچستان کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو عالمی سطح پر ملکی تحقیقی و زراعت کے میدان میں ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔
Read Next
5 دن ago
نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کرکے انہیں بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،میر سرفراز بگٹی
5 دن ago
سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی بلوچستان عبدالروف بلوچ کی زیرِ صدارت ڈیپارٹمنٹل سب کمیٹی برائے ڈویلپمنٹ کا اجلاس
6 دن ago
حکومت بلوچستان کا تعلیمی اداروں میں23 مئی سے 31 جولائی تک تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
1 ہفتہ ago
حکومت بلوچستان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر تنخواہوں کی ادائیگی 20 مئی کو جاری کرنے کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کی۔
اپریل 9, 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے یونین کونسلز کے چیئرمینز اور بلدیاتی نمائندگان کی ملاقات
Related Articles
سیکرٹری بلدیات و دیہی ترقی عبدالروف بلوچ کی زیر صدارت بلوچستان کی لوکل کونسلز کے لیے مجوزہ ڈرافٹ ماڈل ٹیکس شیڈول کے حوالے سے اہم اجلاس
اپریل 8, 2026
محکمہ داخلہ بلوچستان نے ڈرونز، یو اے ویز، کواڈ کاپٹرز، کیم کاپٹرز اور دیگر ریموٹ کنٹرول فضائی آلات کے استعمال، قبضے اور آپریشن پر پابندی عائد کر دی
فروری 27, 2026



