وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھینس کالونی فلائی اوور جسے خالد بن ولید فلائی اوور بھی کہا جاتا ہے، کا افتتاح کرتے ہوئے کراچی میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور ترقیاتی کاموں میں تیز ی کے حوالےسے بڑےپیمانے پر انفراسٹرکچر منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا۔فلائی اوور کے قیام سے ضلع ملیر بالخصوص بھینس کالونی اور مہران ہائی وے کے اطراف ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور اس سے ریلوے کراسنگ پر ہونے والے حادثات کا تدارک بھی ہوگا۔فلائی اوور کی تعمیر سے ملیر، ابراہیم حیدری، ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے رہائشیوں اور نیشنل ہائی وے (این-5) اور مہران ہائی وے کے درمیان سفر کرنے والوں کو سہولت میسر آئےگی۔بھینس کالونی فلائی اوور اور متعلقہ سڑکوں کے کام کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے مسابقتی اور رہنے کے قابل شہر کراچی (CLICK) منصوبے کے تحت، ورلڈ بینک کے تعاون سے مکمل کیے۔ یہ منصوبہ ریکارڈ پانچ ماہ میں 1.865 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔

اگرچہ اس کی منظوری 21 جولائی 2025 کو دی گئی تھی، تاہم عملی تعمیرات کا آغاز 21 ستمبر 2025 کو ہوا اور اسے تیزی سے مکمل کیا گیا۔افتتاحی تقریب میں سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سلیم بلوچ، راجارزاق اور سعدیہ جاوید سمیت قومی و صوبائی اسمبلی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔پنڈال میں شہید ذوالفقار علی بھٹو ، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حق میں نعروں کی گونج جاری رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نئے فلائی اوور کی تعمیر سے سفر کرنے والوں بہت بڑی سہولت میسر آئے گی اور اہم صنعتی و تجارتی علاقوں کے درمیان بلا تعطل ٹریفک کی روانی سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔آئندہ منصوبوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے میئر مرتضیٰ وہاب کو100 دن میں عظیم پورہ فلائی اوور کی تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کو قیوم آباد سے کاٹھور تک آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا اور ساتھ ساتھ اسے بندرگاہ تک توسیع دینے کی منصوبہ بندی کا عمل ی جاری ہے اور جلد ہی اس کا سنگِ بنیاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مرغی خانہ برج تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ صوبائی بجٹ میں کراچی کے لیے 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل کیے جائیں گے جبکہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اسکیموں کے لیے 8 سے 13 ارب روپے پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں تاکہ شہری کاموں کو تیز کیا جا سکے۔کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے اسے غیر آئین اور غیر عملی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام سندھ سے گہرا لگائو ہے اور وفاقی فنڈز براہِ راست مقامی کونسلز کو دیے جانے چاہییں تاکہ نچلی سطح پر خدمات کی فراہمی مؤثر ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ شہر کے کچھ نام نہاد دعوے دار ایک طرف بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف وفاقی حکومت کو ایک وفاقی کمپنی (PIDCL) کے ذریعے مقامی کونسلز میں کام کرانے میں شامل کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی فنڈز براہِ راست مقامی اداروں کو منتقل کیے جائیں۔قبل ازیں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترقی اور عوامی فلاح کے وژن پر عمل کر رہی ہے جبکہ جاری اور آئندہ منصوبے کراچی کے انفراسٹرکچر، خوبصورتی اور عوامی سہولیات میں بہتری لائیں گے۔میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بھینس کالونی فلائی اوور کو ملیر اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کی سہولت کے لیے تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہِ بھٹو، منزل پمپ فلائی اوور اور کورنگی، ابراہیم حیدری، میمن گوٹھ اور ملیر میں متعدد سڑکوں کے منصوبے کے ایم سی کے تحت جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی حمایت سے کراچی میں 25 نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے 8.5 ارب روپے حاصل کیے گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما راجا رزاق نے سندھ حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ترقی اور عوامی خدمت کے عزم کا مظہر ہے اور ٹریفک کا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔
منصوبے کی تفصیلات:
یہ فلائی اوور مہران ہائی وے سے شروع ہو کر نیشنل ہائی وے (این-5) پر ختم ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی 682 میٹر اور چوڑائی 20.65 میٹر ہے۔ اس میں چار ٹریفک لینز (2+2) شامل ہیں، جن میں ہر ایک کی چوڑائی 3.65 میٹر ہے۔ 345 میٹر اور 247 میٹر کے دو ریمپس ہیں جن کی زیادہ سے زیادہ ڈھلوان 3.5 فیصد ہے۔ یہ سڑک 1,418 میٹر تک بالکل ہموار اور 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دونوں اطراف 1.5 میٹر چوڑے فٹ پاتھ بنائے گئے ہیں۔ ایک پارکنگ لین اور این-5 تک سروس روڈ بھی شامل ہے۔بھینس کالونی فلائی اوور کی تکمیل سے ہیوی ٹریفک اور روزمرہ سفر کرنے والوں کو بلا رکاوٹ آمد و رفت میسر آئے گی، ریلوے کراسنگ کی وجہ سے ہونے والی تاخیر میں نمایاں کمی آئے گی اور کراچی کے مجموعی ٹریفک نظام اور شہری انفراسٹرکچر کو مضبوطی ملے گی۔






