بچوں کی زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دنوں میں نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کی روک تھام کے لیے ایک نمایاں مشروط نقد منتقلی کے منصوبے بینظیر نشوونما پروگرام نے 6 سے 23 ماہ کے بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کمی ظاہر کی ہے، جبکہ ماؤں کی غذائی تنوع میں نمایاں بہتری اور کم وزن کے ساتھ پیدائش کے واقعات میں کمی بھی سامنے آئی ہے۔یہ بات وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ کوکو اوشی یاما کے درمیان منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ اس اجلاس میں وزیر تعلیم سردار شاہ، وزیر محنت و سماجی تحفظ سعید غنی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، سیکریٹری سماجی تحفظ خادم چنہ اور سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ آصف جمیل شریک ہوئے۔ ڈبلیو ایف پی کے وفد میں سندھ کے صوبائی دفتر کی سربراہ محترمہ ہلڈے برگسما، پروگرام پالیسی آفیسر سندھ محترمہ سلمیٰ یعقوب اور پروگرام پالیسی آفیسر ڈبلیو ایف پی رستم خان شامل تھے۔اجلاس میں اسکول میلز پروگرام کے اجرا پر غور کیا گیا اور بینظیر نشوونما پروگرام (بی این پی) کے حوالے سے آغا خان یونیورسٹی کی مڈ لائن تشخیص کے نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
*بینظیر نشوونما پروگرام*
اجلاس میں بینظیر نشوونما پروگرام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا جو بچوں کی زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دنوں میں نشوونما کی کمی کی روک تھام کے لیے ایک نمایاں مشروط نقد منتقلی کا منصوبہ ہے۔آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی مڈ لائن تشخیص کے مطابق اس پروگرام نے 6 سے 23 ماہ کے بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کمی ظاہر کی ہے جبکہ ماؤں کی غذائی تنوع میں نمایاں بہتری اور کم وزن کے ساتھ پیدائش کے واقعات میں کمی بھی سامنے آئی ہے۔ان نتائج کو "نہایت حوصلہ افزا” قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسٹنٹنگ اور کم وزن پیدائش میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہدفی غذائی مداخلتوں کو سماجی تحفظ کے اقدامات کے ساتھ ملا کر انسانی وسائل میں قابل پیمائش بہتری حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے صحت، تعلیم اور منصوبہ بندی کے محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ شواہد پر مبنی غذائی اقدامات کو وسعت دی جا سکے۔ڈبلیو ایف پی پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ کوکو اوشی یاما نے صوبائی حکومت کی کوششوں اور اسٹنٹنگ میں کمی کے پروگرام کو کامیاب بنانے کے عزم کو سراہا۔
*کمزور اضلاع میں اسکول میلز پروگرام*
ڈبلیو ایف پی کی کنٹری ڈائریکٹر نے وزیراعلیٰ کو پانچ سالہ 4 کروڑ ڈالر کے اسکول میلز پروگرام پر بریفنگ دی۔ "کل کی بنیاد – فاؤنڈیشن فار دی فیوچر” کے عنوان سے یہ منصوبہ کراچی کے اضلاع ملیر اور کیماڑی کے 614 سرکاری اسکولوں میں ایک لاکھ طلبہ کو ہدف بنائے گا۔اس پروگرام کا مقصد روزانہ اسکول میں خوراک کی فراہمی کے ذریعے بچوں کی غذائی کیفیت کو بہتر بنانا، ٹیچنگ ایٹ دی رائٹ لیول (ٹی اے آر ایل) طریقہ کار کے ذریعے شرح خواندگی میں بہتری لانا، واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائیجین (واش) سہولیات کی بحالی اور ایک پائیدار صوبائی اسکول میلز ماڈل کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ڈبلیو ایف پی کی سندھ کے لیے مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف بچوں کو خوراک فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں مؤثر اور پائیدار ماڈل کے ذریعے بہتر غذائیت فراہم کرنا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی محکمہ تعلیم ڈیجیٹل طریقہ استعمال کرتے ہوئے اسکولوں میں طلبہ اور اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے اور طلبہ کے تعلیمی عمل کی نگرانی کے لیے بھرپور کام کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے مک گورن ڈول پروگرام کو صوبے کے دیگر علاقوں تک وسعت دینے کےلیے تمام فریقین کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے پائیدار صوبائی فریم ورک کے ذریعے اسکول فیڈنگ اور زچگی غذائیت کے اقدامات کو ادارہ جاتی شکل دینے کے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ غذائیت میں سرمایہ کاری دراصل سندھ کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ ہماری توجہ مضبوط نظام تشکیل دینے پر ہے جسے صوبہ خود اختیار کر کے مزید وسعت دے سکے۔ڈبلیو ایف پی کے وفد نے صوبائی حکومت کی قیادت کو سراہا اور سندھ کے ساتھ مل کر غذائی تحفظ، بچوں کی غذائیت اور پائیداری کے اقدامات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔






