ایشیائی بینک کراچی سرکلر ریلوے کے لئے فنڈز دینے پر آمادہ بی آر ٹی کو کراچی،حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی توسیع دینے پر اتفاق

کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی بحالی اور کراچی سمیت سندھ کے دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بس سروس کے آغاز پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان اہم اجلاس میں اتفاق کیا گیا۔ وفد کی قیادت کنٹری ڈائریکٹر محترمہ ایما فین کر رہی تھیں۔ دونوں جانب سے صوبے بھر میں ترقیاتی تعاون کو مزید وسعت دینے اور ترجیحی ٹرانسپورٹ منصوبوں پر کام تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔کراچی کو درپیش سفری مسائل پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے صوبائی حکومت کی فلیگ شپ ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ میگا سٹی کراچی کو فوری طور پر کے سی آر کی ضرورت ہے تاکہ یہ مختلف بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) لائنز کے لیے فیڈر کا کردار ادا کرے اور شہر کے ٹرانسپورٹ مسائل حل کرنے میں مدد دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سرکلر ریلوے کے آغاز کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت کی خواہاں ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چونکہ ایشیائی ترقیاتی بینک پہلے ہی ریڈ لائن منصوبے میں صوبائی حکومت کی معاونت کر رہا ہے، جس پر کام تیزی سے جاری ہے، اس لیے یہ مناسب وقت ہے کہ بینک کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی میں بھی تعاون کرے۔انہوں نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے محض ایک ٹرانسپورٹ منصوبہ نہیں بلکہ شہر کی لائف لائن ہے۔ ہم اسے جدید انفراسٹرکچر اور مربوط شہری منصوبہ بندی کے ساتھ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی اور مالی معاونت سے ہم کراچی کے ماس ٹرانزٹ نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں اور لاکھوں افراد کو سستی اور محفوظ سفری سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ کے سی آر کی بحالی سے ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی، کاربن اخراج کم ہوگا اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں جامع اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے اصولی طور پر کے سی آر منصوبے سے اتفاق کیا اور صوبائی حکومت کو مشورہ دیا کہ ضروری دستاویزات جمع کرائی جائیں تاکہ منصوبہ منظوری کے لیے بینک کے بورڈ کے سامنے پیش کیا جا سکے۔اجلاس میں سندھ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے جاری منصوبہ جاتی پورٹ فولیو کا جائزہ بھی لیا گیا اور 2026 تا 2029 کے لیے تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر کی مجوزہ ترقیاتی پائپ لائن پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں ٹرانسپورٹ، شہری ترقی، صحت، تعلیم، پانی، دیہی ترقی اور ماحولیاتی استحکام کے شعبے شامل ہیں۔

*اہم شہروں کے لیے الیکٹرک بسیں*

اجلاس میں کراچی میں الیکٹرک بس سروس کی توسیع اور حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں پائیدار سفری فریم ورک کے تحت اس سروس کے آغاز پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت ہوا کے معیار اور شہری نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے لیے صاف اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ حل کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بسیں نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنائیں گی بلکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔ ہمارا وژن سندھ کے تمام بڑے شہروں کے لیے موسمیاتی لحاظ سے مستحکم، جامع اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام کا قیام ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے ممکنہ مالیاتی آپشنز پر بات چیت کی، جن میں پراجیکٹ ریڈینس فنانسنگ اور کو فنانسنگ انتظامات شامل ہیں۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ صوبائی حکومت الیکٹرک بسوں کی تجویز ضروری کارروائی کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کو ارسال کرے گی۔

*3 ارب ڈالر کی ترقیاتی پائپ لائن کا جائزہ*

2026 تا 2029 کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی مجوزہ پائپ لائن میں صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی مضبوطی، ثانوی تعلیم، پائیدار نقل و حرکت، شہری و آبی منصوبے، دیہی واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائجین (واش) پروگرامز، ساحلی استحکام، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس میں بڑی سرمایہ کاری شامل ہے۔ کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن کے لیے اضافی فنانسنگ اور نئے شہری و ٹرانسپورٹ منصوبوں کی تیاری پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری توجہ بروقت تکمیل، شفافیت اور معیار پر ہے۔ 2022 کے سیلاب کے بعد ہم صرف انفراسٹرکچر کی بحالی نہیں کر رہے بلکہ بہتر اور موسمیاتی لحاظ سے مستحکم نظام تعمیر کر رہے ہیں۔

 

*تیز رفتاری اور ادارہ جاتی تیاری*

دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ منصوبوں کی تیاری کو بہتر بنایا جائے، منظوری کے عمل کو ہموار کیا جائے اور ادارہ جاتی استعداد کار مضبوط کی جائے تاکہ تاخیر اور لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے۔ مراد علی شاہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ، منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ خزانہ کو ہدایت دی کہ تیاری کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ ترجیحی منصوبے 2026 تا 2028 کی مستحکم پائپ لائن میں شامل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم تیز رفتار عملدرآمد، مضبوط حکمرانی اور عوام کے لیے نمایاں نتائج چاہتے ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے سندھ کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا اور پائیدار ٹرانسپورٹ، شہری خدمات، موسمیاتی استحکام، تعلیم اور جامع ترقی کے شعبوں میں صوبے کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) اور الیکٹرک بسوں جیسے انقلابی ٹرانسپورٹ منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے اور ساتھ ہی سندھ میں وسیع تر ترقیاتی ایجنڈے پر پیش رفت جاری رکھی جائے۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ اور سیکریٹری ٹو وزیر اعلیٰ آصف جمیل شریک تھے۔ عالمی بینک کے وفد میں کنٹری آپریشنز ہیڈ نسّنکا سلگادو، پروگرام آفیسر خرم عباسی، سینئر پراجیکٹ آفیسر سلمان میاں اور دیگر شامل تھے۔

جواب دیں

Back to top button