*میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے صہبا اختر روڈ کے ترقیاتی منصوبے کاسنگ بنیاد رکھ دیا۔*

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گلشن اقبال ٹاؤن میں 20 کروڑ روپے کی لاگت سے صہبا اختر روڈ کے ترقیاتی منصوبے کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھ دیا، اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری رؤف ناگوری،سٹی کونسل کے ممبران، اقبال ساند، جاوید، مسرت نیازی اور کے ایم سی افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صہبا اختر روڈ کی تعمیر و بحالی ایک اہم منصوبہ ہے جس کے تحت نہ صرف سڑک کی تعمیر کی جائے گی بلکہ سیوریج سسٹم کو بھی بہتر بنایا جائے گا، سڑک کی لمبائی تقریباً 1.8 کلومیٹر اور چوڑائی 44 سے 46 فٹ تک ہوگی،انہوں نے کہا کہ یہ سڑک بائیس سال قبل تعمیر کی گئی تھی اور ہزاروں شہری روزانہ اس سڑک سے استفادہ کرتے ہیں، یونیورسٹی روڈ پر جاری تعمیراتی کام کے باعث اس سڑک پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا تھا جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا

،لوگ تکلیف میں تھے، اسی لیے ہم نے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا،انہوں نے کہا کہ گلشن اقبال 13-D، گلشن چورنگی،حسن اسکوائر، سرشاہ سلیمان روڈ، وسیم باغ اور گلشن چورنگی کے اطراف رہنے والے شہریوں کا دیرینہ مسئلہ حل کیا جا رہا ہے اگرچہ یہ علاقہ صوبائی و قومی اسمبلی اور ٹاؤن چیئرمین دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس آتا ہے تاہم بلدیہ عظمیٰ کراچی بلاتفریق عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے،انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے منشور کے مطابق کراچی کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے، انہوں نے کہا کہ شہری سہولتوں کی بہتری اولین ترجیح ہے اور کے ایم سی شہر کو جدید اور بہتر بنانے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہی ہے،مستقبل میں مزید ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے تاکہ کراچی کے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سر شاہ سلیمان روڈ سے حسن اسکوائر تا گلشن چورنگی کوریڈور کی ازسرنو تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کے اہم شاہراہوں کی بہتری کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ اس پورے کوریڈور کی تعمیر نو کے ساتھ سیوریج لائنوں کو بھی تبدیل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو دیرپا ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے کہا کہ ماضی میں عوام سے صرف وعدے کیے گئے مگر اب عملی کام ہو رہا ہے،ہارنے کے باوجود یہاں کے نمائندے وعدے پورے کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر صرف تنقید اور تعصب کی سیاست کرتے ہیں جبکہ مسائل کے حل پر توجہ نہیں دیتے،انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں بلدیہ عظمیٰ کراچی رواں سال 68 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گی، انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ مختلف علاقوں کا دورہ کر کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ دنوں میں ضلع غربی، ملیر، کیماڑی اور کورنگی کا بھی دورہ کریں گے،انہوں نے کہا کہ سر شاہ سلیمان روڈ کارساز سے شروع ہوکر سائٹ انڈسٹریل ایریا تک جاتی ہے اور اس اہم کوریڈور کی تعمیر سے ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی، انہوں نے بتایا کہ راشد منہاس روڈ، ڈالمیا، ڈرگ روڈ تا ناگن چورنگی اور نیو کراچی کوریڈور بھی ہم بنانے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات سے نجات دلائی جا سکے،میئر کراچی نے کہا کہ ان کا اس علاقے سے ذاتی تعلق بھی ہے، ان کے اہل خانہ یہاں سے وابستہ رہے ہیں، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بلا تفریق خدمت اور ترقی کا سفر جاری رہے گا اور شہر کو جدید انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ماضی میں شہر کی سڑکوں اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانے کے بجائے انہیں کمرشلائز کرنے پر توجہ دی گئی تاہم موجودہ بلدیہ شہری مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے،میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس جیسے اہم عوامی مقام کو بھی درست انداز میں استعمال نہیں کیا گیا، وہاں شادیوں کی تقریبات منعقد ہوتی تھیں اور سوئمنگ پول سے مرغیوں کی ہڈیاں ملتی تھیں جو سابقہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، میئر کراچی نے کہاکہ میں اتنا بااختیار ہوں کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کی ناک میں دم کیا ہوا ہے، منافقین کہتے ہیں کہ ہمارے پاس جھنڈا لگانے، گانے بنانے، فوٹو سیشن اور بینر لگانے کے پیسے ہیں لیکن گٹر کے ڈھکن لگانے کے پیسے نہیں ہیں، ہم نے بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنانے کے لیے یوسی چیئرمین کا فنڈ پانچ لاکھ روپے سے بڑھا کر 13 لاکھ روپے کر دیا تاکہ نچلی سطح پر مسائل کو فوری حل کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ کام کرنے کے لیے وسائل سے زیادہ نیت کا درست ہونا ضروری ہے اور یہی اصول موجودہ انتظامیہ اپنا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے تنقید کی جاتی ہے تاہم عملی اقدامات ہی عوامی مسائل کا حل ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ 6 اپریل سے لیاری میں اسپنسر آئی اسپتال فعال کر دیا جائے گا جہاں تمام مریض علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے،انہوں نے کہا کہ شہر کے تمام ٹاؤنز میں یکسوئی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کیا جائے تو مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، موجودہ بلدیاتی قیادت شہر میں بہتری کے لیے متحرک ہے اور کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔

جواب دیں

Back to top button