وزیر بلدیات ذیشان رفیق اور چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے لاہور سمیت آٹھ ڈویژنوں میں صفائی خدمات کی آؤٹ سورسنگ کے ماڈل کی موثر نگرانی کیلئے متعلقہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یہ ہدایات سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ویڈیو لنک اجلاس کے دوران جاری کی گئیں۔

سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت پہلی بار شہروں اور دیہات میں صفائی کی یکساں خدمات ماہ رواں (نومبر) میں آپریشنل ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کے ویژن کو عملی شکل دینے کے لئے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی نگرانی میں 90 تحصیلوں میں آؤٹ سورسنگ ہو چکی ہے جبکہ باقی ماندہ 25 تحصیلوں بھی میں یہ ماڈل اسی ماہ آپریشنل ہو جائے گا۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ ساہیوال اور سرگودھا ڈویژن میں پہلے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں نہیں تھیں جو اب قائم کر دی گئی ہیں، انشااللہ اگلے مرحلے میں وہاں بھی آؤٹ سورسنگ پلان پر عمل شروع ہو جائے گا۔ ذیشان رفیق نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد ڈویژن میں آؤٹ سورسنگ کا 100 فیصد جبکہ راولپنڈی، بہاولپور اور ڈی جی خان ڈویژن میں 90 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی وجوہات کی بنا پر 13 تحصیلوں میں فی الحال سیلف آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ "وزیراعلی مریم نواز کا پنجاب، ستھرا پنجاب” کا لوگو تحریک بن کر سامنے آئے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنرز سکولوں اور کالجوں میں صفائی کی آگاہی مہم چلانے کے اقدامات کریں۔ ہر خطبہ جمعہ میں صفائی پر 5 منٹ کے واعظ کا بھی اہتمام کیا جائے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ پروگرام سے 7 کروڑ 34 لاکھ افراد کو صفائی کی معیاری خدمات میسر ہوں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کے ویژن کی کامیابی کیلئے ہر سطح پر کمیونٹی کی شرکت یقینی بنائی جائے۔
چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ آؤٹ سورسنگ پروگرام کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہر جگہ زیرو ویسٹ کا ہدف حاصل کیا جائے۔ گندگی کے پرانے ڈھیر ایک دفعہ لازمی صاف کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹرز کی مانیٹرنگ کا موثر میکانزم بھی تشکیل دیا جائے۔ اس ضمن میں خصوصی ایپ بھی تیار کی گئی ہے۔ چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ دیہات میں آؤٹ سورسنگ ماڈل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے مقامی عوامی نمائندوں کا اعتماد حاصل کیا جائے۔ اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے آؤٹ سورسنگ ماڈل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شہروں اور دیہات میں ساڑھے اٹھارہ ملین گھروں کو پروگرام میں شامل کیا گیا۔ ہر گاؤں میں ویسٹ انکلوژرز بنایا یا کنٹینر رکھا جائے گا۔ شکیل احمد میاں نے کہا کہ وزیر بلدیات کی ہدایت پر ون ٹائم زیرو ویسٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے بعدازاں کنٹریکٹرز اس صفائی کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے۔





