وہ 18 اگست 1934 کو جہلم کے قریب دینہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام سمپورن سنگھ ہے۔ تقسیم برصغیر کے وقت وہ بھارت چلے گئے۔ موٹر مکینک کے طور پر زندگی کا آغاز کیا. شاعری اور فلم کی طرف رحجان انھیں فلمی دنیا لے گیا۔ 1961 میں وہ ڈائریکٹر بمل رائے کے اسسٹنٹ بن گئے ۔ بعد میں انہوں نے ڈائریکٹر رشی کیش مکھرجی اور ہیمنت کمار کے اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ گلزار انجمن ترقی پسند مصنفین سے بھی منسلک رہے۔ رسائل میں بھی ان کی شاعری چھپتی رہی۔
گلزار نے اپنا پہلا فلمی نغمہ ’’میرا گورا انگ لئی لے ‘‘ بمل رائے کی فلم بندنی کیلئے لکھا،جو 1963 میں ریلیز ہوئی ۔ گلزار نے اداکارہ راکھی سے شادی کی۔ جس سے بیٹی بھی ہوئی۔ لیکن شادی نہیں چلی۔
گلزار نے بطور ہدایتکار اجازت، انگور، آندھی، پریچے، موسم اور ماچس جیسی فلمیں بنائیں۔ ان کا ٹیلی ڈراما مرزا غالب ایک کلاسیک کی حیثیت رکھتا ہے۔
گلزار کی فلمی شاعری میں بھی ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ انوکھی اور نادر تشبیہات ان کا خاصہ ہیں ۔ مشہور فلم بنٹی اور ببلی کا سپرہٹ گانا ’کجرا رے’ فلم اوم کارا کا انتہائی مقبول گانا ’بیڑی جلائی لے‘ یا پھر کمینے کا ہٹ نغمہ ’رات کے بارہ بجے’ آج بھی انتہائی مقبول ہیں. ۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر کے لیے ان کے لکھے گیت ’’ جے ہو‘‘ پر انہیں اور اے آر رحمٰن کو آسکر ایوارڈ ملے ۔
2004ء میں گلزار کو بھارتی حکومت کی طرف سے پدما بھوشن کا خطاب ملا۔ اُن کی بے لوث خدمات کے لیے 11ویں اوسِیانز سِنے فین فلم فیسٹیول کی جانب سے 2009ء کا لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دیا گیا۔ ان کی گیتوں کے تراجم کی انگریزی میں کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ گلزار کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی، حیدرآباد نے ڈی۔ لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا. 2013ء انہیں ہندوستانی سینما کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔
گلزار کی کچھ نظمیں
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
جہاں ترے پیروں کے
کنول کھلا کرتے تھے
ہنسے تو دو گالوں میں
بھنور پڑا کر تے تھے
تری کمر کے بل پر
ندی مڑا کرتی تھی
ہنسی تری سُن سُن کر
فصل پکا کرتی تھی
جہاں تری ایڑی سے
دھُوپ اُڑا کرتی تھی
سنا ہے اس چوکھٹ پر
اب شام رہا کرتی ہے
دِل دَرد کا ٹکڑا ہے
پتھر کی کلی سی ہے
اِک اندھا کنواں ہے یا
اِک بند گلی سی ہے
اِک چھوٹا سا لمحہ ہے
جو ختم نہیں ہوتا
مَیں لاکھ جلا تا ہوں
یہ بھسم نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئینہ یہ آئینہ بولنے لگا ہے
مَیں جب گزرتا ہوں سیڑھیوں سے
یہ باتیں کرتا ہے……. آتے جاتے میں پوچھتا ہوں
” کہاں گئی وہ پھتوئی تیری
یہ کوٹ نکٹائی تجھ پہ پھبتی نہیں ، یہ مصنوعی لگ رہی ہے !”
یہ میری صورت پہ نکتہ چینی تو ایسے کرتا ہے جیسے مَیں اس کا
عکس ہوں اور وہ جائزہ لے رہا ہے میرا
” تمہارا ماتھا کشادہ ہونے لگا ہے لیکن
تمہارے اَبرو سکڑ رہے ہیں
تمہاری آنکھوں کا فاصلہ کمتا جا رہا ہے
تمہارے ماتھے کی بیچ والی شکن بہت گہری ہوئی ہے!”
کبھی کبھی بے تکلفی سے بُلا کے کہتا ہے طیار بھو لو
تم اپنے دفتر کی میز کی داہنی طرف کی دراز میں رکھ کے
بھول آئے ہو مسکراہٹ
جہاں پہ پوشیدہ ایک فائل رکھی تھی تم نے
وہ مسکراہٹ بھی اپنے ہونٹوں پہ چسپاں کر لو
اس آئینے کو پلٹ کے دیوار کی طرف بھی لگا چکا ہوں
یہ چپ تو ہو جاتا ہے مگر پھر بھی دیکھتا ہے
یہ آئینہ دیکھتا بہت ہے
یہ آئینہ بولتا بہت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل نظم
نظم اُلجھی ہوئی ہے سینے میں
شعر اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر
لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں
اُڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح
کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم
سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا
بس ترا نام ہی مکمل ہے
اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادتاً ہی
سانس لینا بھی کیسی عادت ہے
جیئے جانا بھی کیا روایت ہے
کوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیں
کو ئی سایہ نہیں ہے آنکھوں میں
پاؤں بے حس ہیں چلتے جاتے ہیں
اِک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے
کتنے برسوں سے کتنی صدیوں سے
سانس لیتے ہیں، جیتے رہتے ہیں
عادتیں بھی عجیب ہو تی ہیں
۔۔۔۔
دِل ڈھونڈتا ہے
دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن
جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
آنکھوں پہ کھینچ کر ترے آنچل کے سائے کو
اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے
ٹھنڈی سفید چادروں پہ جاگیں دیر تک
تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
برفیلے موسموں کی کسی سرد رات میں
جا کر اسی پہاڑ کے پہلو میں بیٹھ کر
وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں
دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک نظم
یہ راہ بہت آسان نہیں
جس راہ پہ ہاتھ چھڑا کر تم
یوں تن تنہا چل نکلی ہو!
اس خوف سے شاید، راہ بھٹک جاؤ نہ کہیں
ہو موڑ پہ میں نے نظم کھڑی کر رکھی ہے !
تھک جاؤ اگر
اور تم کو ضرورت پڑ جائے
اک نظم کی اُنگلی تھام کے واپس آ جانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکیچ
یاد ہے اِک دن
میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے
سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے
چھوٹے سے اِک پودے کا
ایک سکیچ بنایا تھا
آ کر دیکھو
اس پودے پر پھول آیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواب کی دستک
صبح صبح اِک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا، دیکھا
سرحد کے اُس پار کچھ مہمان آئے ہیں
آنکھوں سے مانوس تھے سارے
چہرے سارے سُنے سنائے
پاؤں دھوئے ، ہاتھ دھُلائے
آنگن میں آسن لگوائے
اور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے
پوٹلی میں مہمان مِرے
پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے
آنکھ کھلی تو دیکھا گر میں کوئی نہیں تھا
ہاتھ لگا کر دیکھا تو تنور ابھی تک بُجھا نہیں تھا
اور ہو نٹوں پر میٹھے گڑ کا ذائقہ اب تک چپک رہا تھا
خواب تھا شاید
خواب ہی ہو گا
سرحد پر کل رات، سُنا ہے، چلی تھی گو لی
سرحد پر کل رات، سُنا ہے
کچھ خوابوں کا خون ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریشم کا یہ شاعر
توت کی شاخ پہ بیٹھا کوئی
بُنتا ہے ریشم کے تاگے
لمحہ لمحہ کھول رہا ہے
پتہ پتہ بین رہا ہے
اِک اِک سانس کو کھول کے اپنے تن پر لپٹاتا جاتا ہے
اپنی ہی سانسوں کا قیدی
ریشم کا یہ شاعر اِک دن
اپنے ہی تاگوں میں گھٹ کر مر جائے گا
۔۔۔۔۔
احتیاط
دیکھو آہستہ چلو
اور بھی آہستہ چلو
دیکھنا سوچ سمجھ کر ذرا پاؤں رکھنا
زور سے بج نہ اُٹھے پیروں کی آواز کہیں
کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی میں
خواب ٹوٹا تو کوئی جاگ نہ جائے دیکھا
کو ئی جاگا تو وہیں خواب بھی مر جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیمار یاد
اِک یاد بڑی بیمار تھی کل
کل ساری رات اُس کے ماتھے پر
برف سے ٹھنڈے چاند کی پٹی رَکھ رَکھ کر
اِک اِک بوند دِلا سا دے کر
از حد کو شش کی اس کو زندہ رکھنے کی
پو پھٹنے سے پہلے لیکن
آخری ہچکی لے کر وہ خاموش ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکشاف
نام سوچا نہ تھا کبھی اپنا
جو بھی یوں جس کسی کے جی آیا
اس نے ویسے ہی بس پُکار لیا
تم نے اِک موڑ پر اچانک جب
مجھ کو گلزار کہہ کے دی آواز
اِک سیپی سے کھل گیا موتی
مجھ کو اِک معنی مل گئے جیسے
اب مرا نام خوبصورت ہے
پھر سے اس نام سے بُلا ؤ تو!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بُڑھیا رے
بُڑھیا رے ترے ساتھ تو میں نے
جینے کی ہر شے بانٹی ہے
دانہ پانی، کپڑا لتّا، نیندیں اور جگراتے سارے
اولادوں کے جننے سے بسنے تک اور بچھڑنے تک
عمر کا ہر حصہ بانٹا ہے
تیرے ساتھ جدائی بانٹی، روٹھ، صلاح تنہائی بھی
ساری کارستانیاں بانٹیں، جھوٹ بھی سچ بھی
میرے درد سہے ہیں تُو نے
تیری ساری پیڑیں میرے پیروں سے ہو کر گزری ہیں
ساتھ جیے ہیں
ساتھ مریں
یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے
دونوں میں سے ایک کو اِک دن
دوجے کو شمشان پہ چھوڑ کر
تنہا واپس لوٹنا ہوگا
بُڑھیا رے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نٹ کھٹ
گیلی گیلی سی دھوپ کے گچھّے
ٹھنڈی ٹھنڈی سی آگ کی لپٹیں
سرخ چمکیلا گُل مہر کا پیڑ
نیم تاریک بند کمرے سے
جب بھی دروازہ کھول کر نکلوں
سرخ چمکیلی دھوپ کا چھینٹا
ایسے لگتا ہے آنکھ پر آ کر
جیسے چنچل شریر اِک بچّہ
چوری چوری کواڑ سے کودے
"ہاہ” کہہ کر ڈرائے اور ہنس دے
۔۔۔۔۔۔۔
پت جھڑ
جب جب پت جھڑ میں پیڑوں سے پیلے پیلے
پتے میرے لان میں آ کر گرتے ہیں
رات کو چھت پر جا کر میں
آکاش کو تکتا رہتا ہوں
لگتا ہے کمزور سا پیلا چاند بھی
پیپل کئے سوکھے پتے سا
لہراتا لہراتا میرے لان میں آ کر اترے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادتیں
سانس لینا بھی کیسی عادت ہے
جیے جانا بھی کیا روایت ہے
کوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیں
کوئی سایہ نہیں ہے آنکھوں میں
پاؤں بے حس ہیں، چلتے جاتے ہیں
اک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے
کتنے برسوں سے، کتنی صدیوں سے
جیے جاتے ہیں، جیے جاتے ہیں
عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں
۔۔۔۔۔۔
ریڈ
سرد موسم میں یہ برفیلی بلا خیز ہوائیں
گھر کی دیواروں میں سوراخ بہت ہیں
اور ہوا گھسی ہے سوراخوں سے یوں سیٹی بجاتی
جس طرح ریڈ میں آتے ہیں حوالدار تلاشی لینے
تیز سنگینیں چبھوتے ہوئے دھمکاتے ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرید
جی چاہے کہ
پتھر مار کے سورج ٹکڑے ٹکڑے کر دوں
سارے فلک پر بکھرا دوں اس کانچ کے ٹکڑے
جی چاہے کہ
لمبی ایک کمند بنا کر
دور افق پر ہُک لگاؤں
کھینچ کے چادر چیر دوں ساری
جھانک کے دیکھوں پیچھے کیا ہے
شاید کوئی اور فلک ہو!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعتراف
مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے!
اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتے
جب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا
پھر سے باندھ کے
اور سرا کوئی جوڑ کے اس میں
آگے بننے لگتے ہو
تیرے اس تانے میں لیکن
اک بھی گانٹھ گرہ بُنتر کی
کوئی دیکھ نہیں سکتا ہے
میں نے تو اک بار بُنا تھا ایک ہی رشتہ
لیکن اس کی ساری گرہیں
صاف نظر آتی ہیں میرے یار جلاہے!
۔۔۔۔۔
فلم ’’ اجازت ‘‘ میں گلزارکا ایک گانا
میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے
ایک دفعہ وہ یاد ہے تم کو
بن سائیکل کی بتی کا چالان ہوا تھا
ہم نے کیسے بھوکے،بے چاروں سی ایکٹنگ کی تھی
حوالدار نے الٹا ایک اٹھنی دے کر بھیج دیا تھا
ایک چونی میری تھی
وہ بھجوا دو
میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے
وہ لوٹا دو
ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں
اور میرے اک خط میں لپٹی رات پڑی ہے
وہ رات بھجوادو
میرا وہ سامان لوٹا دو
پت جھڑ ہیں کچھ۔۔۔ ہیں نا
پت جھڑ میں کچھ پتوں کے
گرنے کی آہٹیں
کانوں میں اک بار پہن کے لوٹ آئی تھی
پت جھڑ کی وہ شاخ ابھی تک کانپ رہی ہے
وہ شاخ گرا دو
میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک اکیلی چھتری میں جب
آدھے آدھے بھیگ رھے تھے
آدھے سوکھے،ادھے گیلے،
سوکھا تو میں لے آئی تھی
گیلا من شاید بستر کے پاس پڑا ھو
وہ بھجوا دو
میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک سو سولہ چاند کی راتیں
ایک تمھارے کاندھے کا تل
گیلی مہندی کی خوشبو
جھوٹ موٹ کے شکوے کچھ
جھوٹ موٹ کے وعدے بھی
سب یاد دلا دو
سب بھجوا دو
میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک ” اجازت "دے دو بس
جب اس کو دفناؤں گی
میں بھی وہیں سو جاؤں گی
…..
ہم نے دیکھی ہے اُن آنکھوں کی مہکتی خوشبو
ہاتھ سے چھو کے اِسے رشتوں کا الزام نہ دو
صرف احساس ہے یہ روح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو
ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو
پیار کوئی بول نہیں پیار آواز نہیں
ایک خاموشی ہے، سنتی ہے، کہا کرتی ہے
نہ یہ بجھتی ہے، نہ رکتی ہے نہ ٹھہری ہے کہیں
نور کی بوند ہے، صدیوں سے بہا کرتی ہے
صرف احساس ہے یہ، روح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو
مسکراہٹ سی کھلی رہتی ہے آنکھوں میں کہیں
اور پلکوں پہ اجالے سے جھکے رہتے ہیں
ہونٹ کچھ کہتے نہیں کانپتے ہونٹوں پہ مگر
کتنے خاموش سے افسانے رکے رہتے ہیں
صرف احساس ہے یہ روح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو
ہم نے دیکھی ہے اُن آنکھوں کی مہکتی خوشبو
ہاتھ سے چھو کے اِسے رشتوں کا الزام نہ دو






