ایل ڈی اے کی اربوں روپے کمرشلائزیشن فیس وصول کرنے کے لئے رہائشی شہر کو کمرشل کرنے کی منصوبہ بندی، شہریوں میں تشویش، احتجاج

ایل ڈی اے کی طرف سے وحدت روڈ کو کمرشل کرنے کے فیصلے پر نیو مسلم ٹاؤن کے مکینوں سے شدید احتجاج کیا ہے۔نقشہ سٹاپ تا ملتان چونگی وحدت روڈ کی کمرشلائزیشن سے نیو مسلم ٹاؤن اور مین روڈ سے ملحقہ رہائشی علاقے متاثر ہونگے۔مکینوں نے ایل ڈی اے کی طرف سے 8 اہم شاہراہوں کی عوامی شنوائی کے دوران بھی چیف ٹاؤن پلانر اور دیگر افسران کو احتجاج نوٹ کروایا تاہم اس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ایل ڈی اے کی طرف سے سڑکوں کو کمرشل کرنے سے قبل نہ تو عوامی آگاہی کے لئے ضروری تقاضوں کو پورا کیا گیا نہ ہی محکمہ ماحولیات ،ایم سی ایل اور دیگر متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا گیا۔عوامی شنوائی کے لئے شہریوں کو میڈیا کے ذریعے آگاہ نہ کیاگیا پانچ منٹ میں عوامی شنوائی کے لئے منعقدہ تقریب ختم کر دی گئی جس میں لوگوں کوسننا گوارا نہ کیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ ڈی جی ایل ڈی اے کی جانب سے شعبہ ٹاؤن پلاننگ وکمرشلائزیشن کو رواں مالی سال کمرشلائزیشن فیس و کنورژن فیس کی مد میں بڑھا ہدف دیا گیا ہے جس کی وجہ سے عوامی مسائل،مشکلات اور شہریوں کے سکون کو مدنظر رکھنے کی بجائے باقی رہائشی شہر کو بھی کمرشل کر کے انکم ٹارگٹ پورا کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔یہی وجہ ہے کہ متاثرہ مکینوں کو نہ تو مناسب طور پر اعتراضات یا تجاویز کے موقع دیئے گئے نہ ہی ان کی فریاد سنی گئی الٹا عوامی شنوائی میں سب اچھا کی رپورٹ ڈی جی ایل ڈی اے کو بجھوا دی گئی۔دیگر شاہراہوں خیابان فردوسی جوہر ٹاؤن، قاضی عیسی روڈ، کیمپس برج روڈ، ٹولنٹن مارکیٹ روڈ،ابوالحسن اصفہانی روڈ، سبزہ زار مین بلیوارڈ اور ہمدرد جیل روڈ کے حوالے سے بھی ماحولیاتی رپورٹ مرضی کی مرتب کی گئی ہے جس میں ایل ڈی اے اور نیسپاک کا گٹھ جوڑ شامل ہے۔بلدیہ عظمٰی لاہور کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز، لینڈ سب ڈویژنز اور غیر قانونی کمرشل تعمیرات کے خلاف ناکامی کے بعد ایل ڈی اے نے رہائشی علاقوں کو کمرشل کر کے اربوں روپے کا ریونیو وصول کرنے کی پلاننگ کی ہے۔جس کے بعد زرعی رقبہ کے بعد لاہور کا رہائشی ایریا بھی سکڑ جائے گا اور جو مکین رہ جائیں گے ان کا سکون برباد ہوگا۔موجودہ ڈی جی ایل ڈی اے کی توجہ بھی زیادہ آمدن جمع کرنے پر مرکوز ہے تاکہ پنجاب حکومت کو خوش کرنے کے لئے ترقیاتی منصوبوں کے لئے خاطرخواہ فنڈز جمع کئے جا سکیں۔عوامی شنوائی میں ایل ڈی اے کی طرف سے نظر انداز کئے جانے کے بعد نیو مسلم ٹاؤن اور دیگر آبادیوں کے متاثرہ مکینوں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ایل ڈی اے کے فیصلے سے مین روڈز کے رہائشیوں اور تاجر مافیا کو تو فائدہ پہنچے گا باقی پوری آبادیوں کو امن و سکون تباہ ہو جائے گا۔شہریوں نے وزیر اعلٰی پنجاب مریم نوازشریف اور وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد سے اپیل کی ہے کہ ان کے اعتراضات دور کئے بغیر ایل ڈی اے کو کمرشلائزیشن کے حوالے سے مزید کسی نوٹیفکیشن سے روکا جائے۔

جواب دیں

Back to top button