وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت رین ایمرجنسی کے حوالے سے اجلاس،وزیر بلدیات، میئر کراچی کی بھی شرکت

** * وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت میں رین ایمرجنسی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا

** * اجلاس میں صوبائی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی ناصر حسین شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، صوبائی مشیر نجمی عالم، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل اظہر وقاص، سینئر ممبر بورڈ آف روینیو بقاء اللہ انڑ، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، ڈی جی پرووینشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سلمان شاہ، کورپس ہیڈ کوارٹر اور کوم کار کے نمائندے، پاکستان میٹرولاجیکل ڈپارٹمینٹ کے ڈائریکٹر امیر حیدر لغاری اور دیگر شریک ہوئے

** * وزیر آبپاشی جام خان شورو، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانو، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز بذریعہ وڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے

** * اجلاس کے ابتدا میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں پلاسٹک کی بوتلیں بند کر دی ہیں

** * اجلاس میں تمام شرکاء کے سامنے پانی کی بوتل کی جگہ شیشے کے جگ رکھے گئے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

** * ماحول کی بہتری کیلئے پلاسٹک بیگ، بوتلیں اور دیگر اشیاء کا استعال ترک کرنا ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

** * ہمیں ماحول کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

** * وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے بھر میں جاری برسات سے متعلق بریفنگ

** * سکھر میں سب سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، کمشنر سکھر فیاض عباسی کی اجلاس میں بریفنگ

** * اس کے بعد دادو اور جیکب آباد میں بہت بارشیں ہوئی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی

** * پمپ اسٹیشنز پر بجلی نہ ہونے یا زیادہ لوڈشیڈنگ کے باعث برسات کے پانی کی نکاسی میں دشواری ہو رہی ہے، میئر سکھر

** * سکھرمیں 24 گھنٹوں کے دوران بارش کے 4 اسپیل ہوئے جس میں 263 بارش رکارڈ ہوئی، ڈی سی سکھر ایم بی دھاریجو

** * سکھر میں 21 لوگ زخمی ہوئے، 48 گھروں کو نقصان پہنچا اور 5 بھیسیں مر گئی، وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی

** * سکھر میں گھنٹہ گھر جیل گارڈن، بروہی اور قریشی گوٹھ، ببرلو بائی پاس کے علاقوں سے نکاسی آب جاری ہے، کمشنر سکھر

** * * * * * ضلع سکھر:

** * نیو سکھر میں 174 ملی میٹرز اور سکھر سٹی میں 227 ملی میٹر بارش رکارڈ کی گئی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی

** * روہڑی میں 171 ملی میٹرز، پنوعاقل میں 111 ملی میٹرز، صالح پٹ میں 91 ملی میٹرز بارشیں ہوئی ہیں

** * * * * * ضلع خیر پور:

** * خیرپور میں 106 ملی میٹرز، کنگری میں 105 ملی میٹرز، سوبھو دیرو میں 45 ملی میٹرز، کوٹ ڈیجی میں 40 ملی میٹرز، نارا میں 30 ملی میٹرز، فیض گنج میں 21 ملی میٹرز، ٹھری میر واہ 19 ملی میٹرز اور گمبٹ 17 ملی میٹرز ریکارڈ کی گئی

** * * * * * ضلع گھوٹکی:

** * گھوٹکی ضلع میں سب سے زیادہ بارشیں 45 ملی میٹرز خان گڑھ میں ریکارڈ ہوئی

** * ضلع گھوٹکی کے دیگر تعلقوں میں 16 ملی میٹرز سے زیادہ بارش ریکارڈ نہیں ہوئی، وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی

** * * * * ضلع لاڑکانو:

** * لاڑکانو میں 51 ملی میٹرز، قمبر میں 59 ملی میٹرز، وارھ میں 56 ملی میٹرز باقرانی 23 ملی میٹرز اور ڈوکری میں 23 ملی میٹرز بارسات رکارڈ ہوئی

** * * * * * ضلع جیکب آباد

** * جیک آباد میں 104 ملی میٹرز، ٹھل میں 74 ملی میٹرز، گڑھی خیرو میں 33 ملی میٹرز بارش رکارڈ ہوئی

** * نوشہرو فیروز میں 64 ملی میٹرز، کنڈیارو میں 57 ملی میٹرز، مورو میں 45، بھریا میں 42 ملی میٹرز، سانگھڑ میں 58 ملی میٹرز، سنجھورو میں 37 ملی میٹرز بارش رکارڈ ہوئی

** * دادو میں 87 ملی میٹرز، جوہی میں 116 ملی میٹرز، خیرپور ناتھن شاہ 181 ملی میٹرز، میھڑ میں 133 ملی میٹرز بارش رکارڈ ہوئی

** * میرپورخاص میں 54 ملی میٹرز، حسن بخش مری میں 54 ملی میٹرز، مٹیاری میں 36 ملی میٹرز بارش ریکارڈ ہوئی

** * وزیراعلیٰ سندھ کی ایم این وی ڈرین، کینجھر جھیل کی محکمہ آبپاشی کو نگرانی کرنے ہدایت

** * وزیراعلیٰ سندھ نے تمام بلدیاتی اداروں، ضلع انتظامیہ کو شہروں اور دیہاتوں میں بارش کی نکاسی یقینی بنانے کی ہدایت

** * جہاں نکاسی آب کی ضرورت ہو وہاں مشینری پہچائی جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کو ہدایت

** * ہر جگہ مشینری اور لوگوں کی سہولیات کیلئے سامان پہنچا دیا ہے، ڈی جی (پی ڈٰ ایم اے) سلمان شاہ

** * جہاں مزید مشینری یا لوگوں کیلئے سامان کی ضرورت ہو ڈی سیز بتائیں گے وہاں پہچائی جائیں، سلمان شاہ

** * وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ تمام انتظامیہ اور بلدیاتی ادارے سڑکوں پر ہوں

** * عوام کی سہولتیات کے لئے تمام ذرائع بروئے کار لائے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ

** * لوگوں کی جان اور مال سب سے زیادہ اہم ہیں، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

** * ہر 3 گھںٹوں کے بعد رپورٹ دی جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت

** * آج اتوار کو آپ کو یہاں بلانے کا مقصد برسات متاثرہ اضلاع کے مسائل کو حل کرنا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

** * حیسکو اور سیپکو سے بات کریں، وزیراعلیٰ سندھ کی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ناصر شاہ کو ہدایت

** * حیسکو اور سیپکو کو کہیں پمپنگ اسٹیشنز پر بجلی بلاتعطل بحال رکھیں، وزیراعلیٰ سندھ کی وزیر پی اینڈ ڈی کو ہدایت

** * حیدرآباد ڈویژن کے ساتھ انتظامیہ سے رابطے میں ہیں، وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن

** * بارش کے پیش گوئی سے حیدرآباد انتظامیہ متحرک ہے، سینر وزیر شرجیل میمن

** * صوبے بھر کے بلدیاتی نمائدوں سے رابطے میں ہوں، وزیر بلدیات سعید غنی

** * جہاں جو ضرورت ہے وہ محکمہ بلدیات پوری کر رہا ہے، وزیر بلدیات سعید غنی

کراچی (18 اگست ) مقامی حکومتیں اور ضلعی انتطامیہ پوری سرکاری مشینری کو باہر لے آٗئیں، بارش متاثرین کی امداد کریں، محکمہ آبپاشی پٹرولنگ بڑھادے تاکہ بیراجوں اور نہروں کو شگاف پڑنے سے بچایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلیٰ سطح کے رین ایمرجنسی اجلاس میں احکامات جاری کردیے۔ اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سکھر، دادو، جیکب آباد اور نوشہرو فیروز میں 101 سے 247 ملی میٹر تک بارش ہوئی ہے جس سے سڑکیں اور گلیاں ڈوب گئی ہیں۔ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور بارش کا پانی نکالنے کےلیے کارروائیاں تیز کی جائیں۔ اجلاس اتوار کی صبح وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی ، مشیر نجمی عالم، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل اظہر وقاص ، سینئر ممبر بورڈ آف روینیو بقااللہ انڑ، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ ، کور ہیڈکوارٹر اور کوم کار کے نمائندوں، ڈائریکٹر محکمہ موسمیات امیر حیدر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ ویڈیو لنک پر وزیر آبپاشی جام خان شورو، میئر سکھر ارسلان شیخ، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ ، شہید بےنظیر آباد اور میرپورخاص کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز اجلاس میں شریک ہوئےْ ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کمشنرز کی رپورٹس کے مطابق سکھر میں دو سو ستائیس، دادو ایک سو اکیاسی، جیکب آباد ایک سو چار، خیرپورر ایک سو ایک اور نوشہرو فیروز میں انہتر ملی میٹر بارش ہوئی ہے جو انتہائی زیادہ ہے۔ وزیر بلدیات سعید غنی نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا کہ انہوں نے سندھ بھر میں بلدیاتی اداروں کو الرٹ کردیا ہے اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کےلیے تمام ضروری سہولیات فراہم کردی ہیں۔ کشمنر سکھر فیاض عباسی نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران سکھر میں چار مرتبہ بارش ہوئی، جس دوران مجموعی طور پر سکھر میں 263 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جبکہ نیو سکھر میں 174 ملی میٹرز اور سکھر سٹی میں 227 ملی میٹرز، روہڑی میں 171 ملی میٹرز، پنوعاقل میں 111 ملی میٹرز، صالح پٹ میں 91 ملی میٹرز بارشیں ہوئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تین مرتبہ کی بارش کے بعد سڑکوں اور گلیوں سے تین چار گھنٹے میں پانی نکال لیا گیا تھا جبکہ چوتھی مرتبہ کی بارش کا پانی نکالنے کا کام جاری ہے۔ خیرپور شہر میں 106ملی میٹر جبکہ کنگری میں 105 ملی میٹرز، سوبھو دیرو میں 45 ملی میٹرز، کوٹ ڈیجی میں 40 ملی میٹرز، نارا میں 30 ملی میٹرز، فیض گنج میں 21 ملی میٹرز، ٹھری میر واہ 19 ملی میٹرز اور گمبٹ 17 ملی میٹرز ریکارڈ کی گئی۔ خیرپور شہر سے پانی کا اخراج مکمل ہوگیا ہے۔ گھوٹکی ضلع میں سب سے زیادہ بارشیں 45 ملی میٹرز خان گڑھ میں ریکارڈ ہوئی، جبکہ ضلع گھوٹکی کے دیگر تعلقوں میں 16 ملی میٹرز سے زیادہ بارش ریکارڈ نہیں ہوئی۔ کمشنر لاڑکانو غلام مصطفیٰ پھل نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ لاڑکانو میں 51 ملی میٹرز، قمبر میں 59 ملی میٹرز، وارھ میں 56 ملی میٹرز باقرانی 23 ملی میٹرز اور ڈوکری میں 23 ملی میٹرز بارسات رکارڈ ہوئی۔ جیک آباد میں 104 ملی میٹرز، ٹھل میں 74 ملی میٹرز، گڑھی خیرو میں 33 ملی میٹرز بارش رکارڈ ہوئی۔ شکارپور 41 اور ڈویژن کے دیگر علاقوں میں 70 سے 56 ملی میٹرز بارش رکارڈ ہوئی ہے۔ کمشنر حیدرآباد بلال میمن نے بتایا کہ دادو ضلع کے خیرپور ناتھن شاہ اور جوہی تعلقوں میں بالترتیب 181 اور 133 ملی میٹر ، دادو میں 87 ملی میٹرز اور میھڑ میں 133 ملی میٹرز بارش رکارڈ ہوئی۔ جامشورو کے علاقوں تھانو بولا خان میں 33، مٹیاری 36، ٹنڈو الہ یار 24، میرپورخاص میں 54 ملی میٹرز، حسین بخش مری میں 54 ملی میٹرزبارش رکارڈ ہوئی، اسی طرح میرپور خاص میں چون ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کمشنر شہید بےنظیرآباد نے اجلاس کو بتایا کہ نوشہرو فیروز میں 64 ملی میٹرز، کنڈیارو میں 57 ملی میٹرز، مورو میں 45، بھریا میں 42 ملی میٹرز، سانگھڑ میں 58 ملی میٹرز، سنجھورو میں 37 ملی میٹرز اور دوڑ میں 25 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ڈی ایم اے نے 35 ڈیزل انجن، 8 پانی نکالنے والی مشینیں، 2 میراج ٹیک، 12 ٹریکٹرز فراہم کردیے ہیں۔ نقصانات کے حوالےسے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ 21 افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ 48 گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور پانچ بھینسیں بھی مرگئی ہیں۔ ڈی جی (پی ڈی ایم اے) نے وزیراعلیٰ سدنھ کو بتایا کہ 26 ہزار 15خیمے، 80 ہزار 750 مچھردانیاں، 25ہزار 650 چٹائیاں، 12 ہزار تین سو کاٹن کے گدے، 12 ہزار 900 دریاں، 7 ہزار 700 ہائی جین کٹس اور 25 ہزار 750 جیری کین بارش سے متاثرہ علاقوں کو روانہ کردی گئی ہیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ وہ کمشنر حیدرآباد کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلیے تمام متعلقہ محکموں کو چوکس کردیا ہے۔ اجلاس میں تمام اضلاع کے ڈی سیز نے حیسکو اور سیپکو کی جانب سے بجلی کی بندش کی شکایت کی گئی جس کے باعث پانی کی نکاسی کا کام برے طریقے سے متاثر ہو رہا ہے جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور توانائی سید ناصر حسین شاہ کو ہدایت کی کہ وہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے بات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پمپنگ اسٹیشنز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ کیرتھر پہاڑی سلسلے پر بارشوں اور سیلاب کی صورتحال سے آگاہ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسٹرکچر سیلاب کی حالیہ پیش گوئی سے نمٹنے کے قابل ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کہ کہ سکھر چیف انجنیئر اور چیف انجنیئر نکاسی آب چوکس رہیں اور سیلاب سے حساس علاقوں پر گہری نظر رکھیں۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ وہ سیلابی صورتحال کا خود جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےمحکمہ آبپاشی کو ایم این وی ڈرین اور کینجھر جھیل کی بھی نگرانی کرنے ہدایت دی۔

جواب دیں

Back to top button