آج 19 اگست اردو شاعری میں کم عمری میں استاد کا لقب پانے والے استاد قمر جلالوی کا یومِ ولادت ھے

آج 19 اگست اردو شاعری میں کم عمری میں استاد کا لقب پانے والے استاد قمر جلالوی کا یومِ ولادت ھے ۔

تاریخ پیدائش : 19 اگست 1887ء

تاریخ وفات : 24 اکتوبر 1968ء

 

اردو شاعر۔قمر جلالوی کی پیدائش 19 ، اگست 1887 ء میں علی گڑھ کے قریب ایک تہذیبی قصبہ جلال میں ہوئی اور انہوں نے آٹھ سال کی عمر سے ہی اشعار موزوں کرنے شروع کردیے۔ انہوں نے کسی بڑے تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ مگر ان کی آواز میں غضب کا درد اور کرب تھا، اور ترنم بھی اچھا تھا جس کی وجہ سے سامعین ان کے کلام سے متاثر ہو تے۔

کم عمری میں ہی قمر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے ان کی شہرت جلال سے نکل کر علی گڑھ پہنچی اور علی گڑھ سے ملک کے دوسرے حصوں میں۔ وہ جلال سے نکل کر میرٹھ چلے گئے اور ایک سائیکل مرمت کی دکان میں میں کام کرنے لگے۔ 24 سال کی عمر میں ہی انہوں نے بہت سے نوخیز شعرا کو اصلاح دینی شروع کر دی تھی۔ تقسیمِ ملک کے بعد وہ پاکستان چلے گئے لیکن وہاں بھی ان کے معاشی حالات ویسے ہی رہے البتہ جب علامہ رشید ترابی کو پتا چلا کہ قمر جلالوی جیسا باکمال شاعر کراچی کی ایک سائیکل کی دکان پر پنکچر لگاتا ہے تو انہوں نے ان کو بلا کر اپنے پاس رکھا اور پاکستانی حکومت سے ان کا وظیفہ مقرر کروایا۔

اپنی قادر الکلامی کے سبب وہ 30 برس کی عمر میں ہی استاد قمر جلالوی کہے جانے لگے تھے۔ یہاں تک کہ یہ لفظ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ انہوں نے بہت سے شعرا کے کلام پر اصلاح دی لیکن اپنے کلام کی اشاعت سے بے نیاز رہے۔ وہ بہت خوددار طبیعت کے مالک تھے اس لیے کبھی انہو ں نے کسی کے سامنے دامنِ طلب دراز نہیں کیا اور شاید یہی وجہ رہی کہ ان کی زندگی میں ان کے مجموعہٴ کلام کی اشاعت تک نہیں ہو سکی۔ بعد میں ان کی صاحبزادی کنیز جلالوی نے جو کلام انہیں مل سکا اسے جمع کر کے شائع کروا دیا۔ جو ’رشک قمر‘، ’اوجِ قمر‘ اور ’تجلیاتِ قمر‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ لیکن یہ مکمل کلام نہیں ہے کیوںکہ استاد قمر جلالوی کی غزلیں ان کے مداحوں اور شاگردوں نے اڑا لی تھیں۔ جو اپنے نام سے مشاعروں میں پڑھتے تھے اور بہت سا کلام دوسرے شعرا کے نام سے شائع بھی ہو گیا۔استاد قمر جلالوی کو مرثیہ نگاری میں بھی کمال حاصل تھا انہوں نے خاصی تعداد میں نوحے اور مراثی لکھے ہیں۔ جنہیں ”غم جاوداں“ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔24 ، اکتوبر 1968ء کو 91 سال کی عمر میں کراچی ہوا۔

قمرجلالوی کو زبان پر بلا کی دسترس حاصل تھی۔ اسی لیے ان کے یہاں فکر کی شدت کم ہے اور زبان کا ذائقہ بہت زیادہ۔ ان کے اشعار سہل ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے اور سامع کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی سادگی کی وجہ سے قمر کے کلام کو ایسی زبردست مقبولیت حاصل ہوئی کہ ہندو پاک کا شاید ہی کوئی ا یسا نامور گلوکار اور گلوکارہ ہو جس نے ان کے کلام کو اپنی آواز نہ دی ہو۔ بلکہ ان کی کچھ غزلوں کو پاکستان کے کئی گلو کاروں اور قوالوں نے صدا بند کیا ہے۔ قمر جلالوی کی چند گائی جانے والی غزلیں بے حد مشہور ہوئیں:

 

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں ۔۔۔ حبیب ولی محمد، منی بیگم

مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے ۔۔۔ منی بیگم

میرا خاموش رہ کر بھی انھیں سب کچھ سنا دینا ۔۔۔ عابدہ پروین

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو ۔۔۔ نورجہاں

آئے ہیں وہ مزار پہ ۔۔۔ صابری برادران

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کتابیات ۔۔۔۔۔۔

ان کی درج ذیل کتابیں شائع ہو چکی ہیں:

رشکِ قمر

اوج ِ قمر

تجلیاتِ قمر

غمِ جاوداں

عقیدتِ جاوداں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نمونہ کلام۔۔۔۔۔

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو

 

دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے

کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو

 

چمن مین جانا تو صیّاد دیکھ بھال آنا

اکیلا چھوڑ کے آیا ہوں آشیانے کو

 

چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت

طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو

 

مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے

حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو

 

سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے

کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو

 

دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام

ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو

 

اب آگے اس میں تمہار ابھی نام آئے گا

جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو

 

قمر ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی

چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے

 

انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے

تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے”

 

مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے

کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے

 

بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

 

ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم

ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

 

بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے

اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

 

وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے

قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

 

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو

جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

 

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے

دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

 

بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شبِ فرقت والوں سے

وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں

 

پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو

سنتے ہیں‌کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

 

کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں، ہے بھی تو فقط رسوائی کا

تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے، ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں

 

تاروں کی بہاروں میں ‌بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو

پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارہ کرتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے

چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے

 

چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میں

دو گھڑی کے لئے صیّاد زباں ٹھہری ہے

 

آہِ پُر سوز کو دیکھ اے دلِ کمبخت نہ روک

آگ نِکلی ہے لگا کر یہ جہاں ٹھہری ہے

 

صُبح سے جنبشِ ابرو و مژہ سے پیہم

نہ تِرے تیر رُکے ہیں نہ کماں ٹھہری ہے

 

دم نکلنے کو ہے ایسے میں وہ آجائیں قمر

صرف دم بھر کے لیے رُوح رواں ٹھہری ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی کا نام لو بے نام افسانے بہت سے ہیں

نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں

بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو

تری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہاروں میں یہ بھی ستم دیکھتے ہیں

کہ جلتا ہے گھر اور ہم دیکھتے ہیں

زمانے کو ان کے کرم دیکھتے ہیں

مگر اپنی قسمت کو ہم دیکھتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے

چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قمر اک دن سفر میں خود ہلالِ عید بن جاؤں

اگر قبضے میں میرے گردشِ ایام آجائے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاندنی کی سیر ان کے ساتھ یہ حسرتِ فضول

اے قمر نفرت ہے ان کو چاند کی تنویر سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے قمر صبح ہوئی اب تو اٹھو محفل سے

شمع گل ہو گئی رخصت ہوئے پروانے تک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیر فلک کو بام پہ آئے وہ جو قمر

تاروں نے آسماں کو چراغاں بنا دیا

جواب دیں

Back to top button