وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسمارٹ گورننس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ادویات کی تیاری کے شعبوں میں چین کے تعاون کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ہواوے (Huawei) اور ہیومن ویل ہیلتھ کیئر گروپ (Humanwell Healthcare Group) کے ساتھ شراکت داری کی تجاویز پیش کی ہیں، تاکہ سندھ میں شہری انتظام، طبی مصنوعات کی تیاری اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یہ تجاویز چین کے شہر ووہان میں ہواوے کے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے شہری انتظام کے عالمی ماڈل مرکز، ووہان مصنوعی ذہانت کمپیوٹنگ سینٹر اور ہیومن ویل ہیلتھ کیئر گروپ کے ہیڈکوارٹرز کے دوروں کے دوران پیش کیں۔ ہیومن ویل ہیلتھ کیئر گروپ کو رینفو فارماسیوٹیکل گروپ (Renfu Pharmaceutical Group) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ چین کے سرکاری دورے پر اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت عوامی خدمات کو بہتر بنانے، بڑھتے ہوئے شہروں کا انتظام سنبھالنے اور صنعتی صلاحیت میں اضافے کے لیے ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق چین کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ ہواوے کے تعاون سے قائم ووہان سٹی آپریشن سینٹر میں وزیراعلیٰ سندھ کو ایک مربوط نظامِ حکمرانی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ یہ نظام ٹریفک کے انتظام، ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے، عوامی خدمات اور شہری منصوبہ بندی کے لیے حقیقی وقت میں ڈیٹا کے تجزیے، مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ نگرانی کے ذرائع استعمال کرتا ہے۔ ووہان کو ڈیٹا کی بنیاد پر شہری انتظام کا عالمی نمونہ قرار دیتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی حکومتوں کو مسائل کے بحران بننے سے پہلے ان کی نشاندہی کرنے اور فوری طور پر حل فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی کو بھی ایسے ہی نظام خصوصاً ٹریفک کی بھیڑ، پانی کے انتظام، ٹھوس کچرے کو ٹھکانے لگانے اور شہری سیلاب جیسے مسائل سے نمٹنے میں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں ایک آزمائشی منصوبہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی، جس کا محور سیلاب سے پیشگی آگاہی اور شہر کے انتظامی امور کی نگرانی ہوگا۔ ابتدائی مرحلے میں اس منصوبے کا دائرہ ایک ضلع تک محدود رکھا جائے گا، جس کے بعد اسے شہر کے دیگر علاقوں تک توسیع دی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے لیے اسمارٹ سٹی آپریشنز پلیٹ فارم تیار کرنے کی غرض سے ہواوے کے ساتھ ایک عملی شراکت داری کے امکانات خصوصاً سیلاب کی پیش گوئی، ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے اور شہری انتظام کو مضبوط بنانے کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے زور دیا کہ سندھ روایتی انداز میں ٹیکنالوجی خریدنے کے بجائے طویل مدتی شراکت داری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے مقامی اداروں اور ماہرین کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ڈیٹا سینٹرز کے قیام، علم و ٹیکنالوجی کی منتقلی، تربیتی پروگراموں اور پائیدار عملی ماڈلز کے شعبوں میں تعاون کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے سندھ حکومت کے افسران کے لیے ووہان سٹی آپریشن سینٹر کے مطالعاتی دوروں اور ہواوے، سندھ کی جامعات اور تکنیکی اداروں کے درمیان زیادہ تعاون کی بھی تجویز پیش کی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ووہان اے آئی کمپیوٹنگ سینٹر میں وفد کو مرکز کے آپریشنز، تحقیقی تعاون اور صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کو معاونت فراہم کرنے میں اس کے کردار کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق 2021ء میں قائم ہونے والے اس مرکز کی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھا کر 400 پیٹافلاپس تک پہنچا دی گئی ہے، جس سے جامعات، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تحقیق اور تجارتی مقاصد کے لیے جدید کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مرکز کے مشترکہ بنیادی ڈھانچے کے ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طریقۂ کار کے ذریعے جامعات، محققین اور نئے کاروباری ادارے اپنے طور پر بھاری سرمایہ کاری کیے بغیر جدید کمپیوٹنگ سہولیات سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نوجوان آبادی، وسعت پذیر ٹیکنالوجی کے شعبے اور ممتاز تعلیمی اداروں کے باعث سندھ خطے میں جدت اور ڈیجیٹل کاروبار کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کراچی ایجوکیشن سٹی کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدت اور جدید ٹیکنالوجیز کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے سندھ حکومت کے منصوبوں کو بھی اجاگر کیا۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ کی جامعات اور محققین کو مصنوعی ذہانت کی تربیت اور کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی فراہم کرنے، اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری کے لیے تکنیکی معاونت اور انجینئرز، محققین اور سرکاری افسران کی استعداد بڑھانے کے پروگراموں میں تعاون کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت معیشتوں اور معاشروں کے مستقبل کی تشکیل کرے گی۔ سندھ اس تبدیلی کے عمل میں فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

ادویہ سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری
دریں اثنا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہیومن ویل ہیلتھ کیئر گروپ کو پاکستان اور علاقائی منڈیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سندھ میں ادویات کی تیاری کے کارخانے قائم کرنے کی دعوت دی۔ ووہان کے ایسٹ لیک ہائی ٹیک ڈیولپمنٹ زون میں کمپنی کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر سید مراد علی شاہ کو کمپنی کے کاروباری آپریشنز، تحقیقی صلاحیت، عالمی توسیعی حکمتِ عملی اور ادویہ سازی کے شعبے میں اس کے کردار پر بریفنگ دی گئی۔ مذاکرات میں ادویات کی تیاری، فعال دواسازی کے اجزا (Active Pharmaceutical Ingredients — APIs)، طبی شعبے میں جدت اور سندھ کے لائف سائنسز کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ممکنہ تعاون پر توجہ مرکوز رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہیومن ویل کو چین کے معروف دواساز گروپس میں سے ایک قرار دیتے ہوئے خصوصاً بے ہوشی کی ادویات، درد کے علاج اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں اس کی مہارت کو سراہا۔ انہوں نے بین الاقوامی معیار کے مطابق ادویات تیار کرنے کے حوالے سے کمپنی کی ساکھ کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ادویہ سازی کی صنعت تیزی سے ترقی کررہی ہے، تاہم یہ اب بھی خام مال اور دواسازی کے اجزا کی درآمد پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ اپنے اسٹریٹجک محلِ وقوع، صنعتی بنیادی ڈھانچے، ہنرمند افرادی قوت اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے باعث ادویہ سازی میں سرمایہ کاری کے لیے ایک پُرکشش مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں فارماسسٹس، کیمسٹس، انجینئرز اور طبی شعبے سے وابستہ ماہرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ہمارے اسپیشل اکنامک زونز، جدید بندرگاہوں اور سرمایہ کاری کے لیے مراعات کے ساتھ مل کر یہ صوبہ ادویات کی تیاری کے لیے ایک انتہائی مسابقتی مقام فراہم کرتا ہے۔ سید مراد علی شاہ نے چینی کمپنی کی قیادت کو آگاہ کیا کہ دھابیجی، بن قاسم اور خیرپور میں قائم اسپیشل اکنامک زونز ٹیکس میں چھوٹ اور کسٹم ڈیوٹی میں رعایت سمیت مالی مراعات فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے درآمدات اور برآمدات کے لیے پورٹ قاسم کی رابطہ سہولتوں کو بھی اجاگر کیا۔ افریقہ میں ہیومن ویل کی پیداواری سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کمپنی کو سندھ میں بھی اسی نوعیت کا ماڈل اپنانے اور صوبے کو ادویات کی تیاری اور برآمدات کا مرکز بنانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کو نہ صرف پاکستان بلکہ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا سمیت وسیع تر خطے کے لیے بھی ادویات کی تیاری کا ایک مثالی مرکز سمجھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہیومن ویل کو کراچی میں ایک تکنیکی وفد بھیجنے کی دعوت دی، تاکہ فعال دواسازی کے اجزا (APIs)، تیار شدہ ادویات اور صحت سے متعلق دیگر شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے کمپنی کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت، سندھ انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کے عمل میں سہولت فراہم کرے گی اور متعلقہ ضابطہ جاتی اداروں، بشمول ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مدد دے گی۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ادویہ سازی اور صحت کے شعبوں میں تعاون پاکستان اور چین کے وسیع تر اقتصادی اشتراک کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔ اس سے مقامی سطح پر ادویات کی تیاری مضبوط ہوگی، ادویات تک رسائی بہتر ہوگی، ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان دوروں کے دوران زیرِ بحث آنے والی تجاویز پر عمل درآمد کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) کے ذریعے پیش رفت کی جائے گی، جس پر سندھ حکومت رواں ہفتے کے اواخر میں شنگھائی میں ہونے والی سندھ انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کانفرنس کے موقع پر ہواوے کے ساتھ دستخط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ وفد میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، وزیر زراعت محمد بخش خان مہر، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی بورڈ نجم احمد شاہ، معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید قمر، سیکریٹری سرمایہ کاری راجہ خرم شہزاد اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔






