21 اگست 1961 . تاریخ وصال ۔ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ۔

امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاءاللہ شاہ بخاری صاحب رحمت اللہ علیہ 1891ء میں پٹنہ کے ایک بزرگ حضرت سید مولوی ضیاء الدین احمد صاحب رح کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کا آبائی وطن موضع ناگڑیاں ضلع گجرات پنجاب، (پاکستان) تھا۔ لیکن آپ کے والد صاحب جناب حضرت مولوی ضیاء الدین احمد رح نے اللہ کریم کی راہ میں بسلسلہ تبلیغ پٹنہ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔

جناب حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب رحمت اللہ علیہ ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد امرتسر آ گئے جہاں مفتی غلام مصطفی قاسمی سے صرف و نحو اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ 1915ء میں پیر سید مہر علی شاہ آف گولڑہ شریف کے ہاتھ پر بیعت کی۔

جناب حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب رحمت اللہ علیہ زمانہ طالب علمی ہی میں سیاسی تحریکوں میں حصہ لینے لگے تھے۔ لیکن آپ کی سیاسی زندگی کی ابتدا 1918ء میں کانگرس اور مسلم لیگ کے ایک مشترکہ جلسے سے ہوئی۔ جو تحریک خلافت کی حمایت میں امرتسر میں منعقد ہوا تھا۔ سیاسی زندگی بھر پور سفروں میں گزاری اور ہندوستان کے تمام علاقوں کے دورے کئے۔ اپنے زمانے کے معروف ترین مقرر تھے اور لوگ ان کی تقریریں سننے کے لیے دور دور سے آتے تھے۔ آپ امیر شریعت اور "ڈنڈے والا پیر ” کے نام سے معروف تھے۔ جناب حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب رحمت اللہ علیہ انگریز اور فتنہ قادیانیت دشمنی میں صف اول میں رہے۔

جناب حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب رحمت اللہ علیہ غاصب انگریزوں و فتنہ قادیانیت کی سخت مخالفت کرنے کی وجہ سے مجموعی طور پہ اٹھارہ سال غاصب انگریز کے عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے لیکن آفرین ہے اس سید بادشاہ رح کے پایہ استقلال میں ذرہ برابر بھی جنبش نہیں آئی۔

جناب حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب رحمت اللہ علیہ 1929ء میں اپنے رفقا کے ساتھ مل کر مجلس احرار اسلام کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ اور کئی سال اس کے صدر رہے۔ مجلس احرار تحریک پاکستان کی شدید مخالف جماعت تھی لیکن بعد ازاں آپ پاکستان کے حامی بن گئے۔ مارچ 1930ء میں لاہور میں ایک جلسے میں علامہ سید انور شاہ کاشمیری نے انہیں ’’امیر شریعت‘‘ کا خطاب دیا اور آپ کے ہاتھ پر ہزاروں افراد کے ہمراہ بیعت جہاد کی۔ آپ نے تحفظ ختم نبوت کی تحریک میں بھی فعال حصہ لیا۔

قدرت نے آپ کو خطابت کا بے پناہ ملکہ ودیعت کر رکھا تھا۔ اس فن میں بہت کم لوگ آپ کے مقابلے کے گزرے ہیں۔ اردو، فارسی کے ہزاروں اشعار یاد تھے۔ خود بھی شاعر تھے اور ندیم تخلص کرتے تھے۔ ان کی زیادہ تر شاعری فارسی میں تھی۔ سواطع الالہام کے نام سے آپ کا مجموعہ کلام شائع ہوچکا ہے۔ برصغیر کی تقسیم سے قبل امرتسر میں قیام پزیر تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ملتان آ گئے اور یہاں ہی 21 اگست 1961ء کو وفات پائی اور ملتان میں قبرستان جلال باقری، باغ لنگے خان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

اللہ تعالیٰ شاہ صاحب کو جواررحت میں جگہ عطا فرمائے .

آمین ثم آمین ۔

جناب حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب رحمت اللہ علیہ کی سوانح حیات و خدمات کے متعلق متعدد کتب موجود ہیں ۔جن میں سے ’’ حیات امیر شریعت ‘‘از جانباز مرزا ، مطبع چٹان پریس لاہور اور برصغیر کے مشہور خطیب و ادیب علامہ شورش کاشمیری مرحوم کی تصنیف ’’ سید عطاء اللہ شاہ بخاری سوانح و افکار‘‘۔ سید عطا اللہ شاہ صاحب کی سوانح کے بارے میں نہایت مستند اور مکمل تصانیف ہیں۔ اس کے علاوہ رسائل وجرائد اور اخبارات میں ان کے متعلق سیکڑوں مضامین طبع ہوچکے ہیں ۔

 

تحقیق و تحریر ۔

شاہد_محمود

جواب دیں

Back to top button