پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے اور دھوئیں کے اخراج کے خلاف محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے کارروائیاں مزید تیز کر دیں۔ صوبے کے آٹھ اضلاع حافظ آباد، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، قصور، سیالکوٹ، سرگودھا اور گوجرانوالہ میں مجموعی طور پر 593 آتشزدگی کے واقعات کی نشاندہی کی گئی جبکہ 581 مقامات پر آگ بجھانے کی کارروائیاں مکمل کی گئیں۔ انسدادِ اسموگ آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے خصوصی نائٹ اسکواڈز، سیٹلائٹ نگرانی اور کوئیک رسپانس یونٹس کو مزید متحرک کر دیا گیا ہے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ڈی جی ادارہ تحفظ ماحول پنجاب عبداللہ نیئر شیخ نے موٹرویز اور جی ٹی روڈز کے اطراف مختلف مقامات کے اچانک دورے کیے اور فیلڈ ٹیموں، کوئیک رسپانس یونٹس اور آگ بجھانے کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ ڈی جی نے موقع پر تعینات عملے کی موجودگی، مشینری کی دستیابی اور آتشزدگی کے واقعات پر فوری ردعمل کو چیک کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کسی بھی علاقے میں آگ لگنے کا واقعہ نظرانداز نہ ہو اور رات کے اوقات میں بھی نگرانی کا عمل مکمل طور پر فعال رکھا جائے۔آتشزدگی کے واقعات کی بروقت نشاندہی میں پنجاب کلائمیٹ واچ ہب کا سیٹلائٹ مانیٹرنگ نظام کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے فائر انوملیز (آگ کے ممکنہ مقامات) کی مسلسل نشاندہی کی جا رہی ہے، جبکہ پنجاب کلائمیٹ واچ کا عملہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے سیٹلائٹ سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے اور آگ کے مشتبہ مقامات کی نشاندہی کے بعد متعلقہ اضلاع کی فیلڈ ٹیموں کو فوری اطلاعات فراہم کرتا ہے۔اس جدید نظام کے ذریعے دور دراز زرعی علاقوں میں لگنے والی آگ کی بھی بروقت نشاندہی ممکن ہو رہی ہے، جہاں معمول کی گشت یا عوامی شکایات کے ذریعے واقعات کا علم تاخیر سے ہو سکتا ہے۔

پنجاب کلائمیٹ واچ ہب سے موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر ضلعی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر صورتحال کی تصدیق کرتی ہیں اور کوئیک رسپانس یونٹس کے ذریعے آگ بجھانے کی کارروائی شروع کر دیتی ہیں۔محکمہ تحفظ ماحول نے سیٹلائٹ نگرانی اور زمینی کارروائیوں کو مربوط کرتے ہوئے خصوصی نائٹ اسکواڈز کو بھی مزید فعال کر دیا ہے۔ ان ٹیموں کو رات کے اوقات میں زرعی علاقوں، موٹرویز، جی ٹی روڈز اور دیگر حساس مقامات پر مسلسل گشت اور نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد آگ لگنے کے واقعات کو ابتدائی مرحلے میں روکنا اور دھوئیں کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے پہلے قابو میں لانا ہے۔صوبے کے 10 ہاٹ اسپاٹ اضلاع میں کوئیک رسپانس یونٹس کے ذریعے کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے 67 کوئیک رسپانس مراکز کا نیٹ ورک استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان مراکز کو آگ بجھانے کے لیے ضروری مشینری، ٹریکٹر ماؤنٹڈ فائر باؤزرز اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے فعال رکھا گیا ہے تاکہ سیٹلائٹ یا فیلڈ نگرانی سے موصول ہونے والی اطلاع پر فوری کارروائی کی جا سکے۔ڈی جی ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ نے فیلڈ افسران کو ہدایت کی ہے کہ نگرانی محض دفتری رپورٹس تک محدود نہ رہے بلکہ افسران خود موقع پر موجود رہ کر کارروائیوں کی نگرانی کریں۔ پنجاب کلائمیٹ واچ ہب، ضلعی ٹیموں اور کوئیک رسپانس یونٹس کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنایا جائے اور آگ کے ہر اطلاع شدہ واقعے پر فوری فیلڈ کارروائی کی جائے۔محکمہ تحفظ ماحول کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کے ساتھ رابطے بھی مزید مضبوط کیے جا رہے ہیں تاکہ فصلوں کی کٹائی کے موسم میں باقیات جلانے کے رجحان کی روک تھام کی جا سکے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ ماحولیاتی قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ڈی جی عبداللہ نیئر شیخ کے موٹرویز اور جی ٹی روڈز کے اطراف اچانک دوروں کا مقصد فیلڈ ٹیموں کی عملی کارکردگی، نگرانی کے نظام اور ہنگامی ردعمل کو براہ راست جانچنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ڈیوٹی میں غفلت، مقررہ مقامات سے غیر حاضری اور آگ کے واقعات پر کارروائی میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کے مطابق سیٹلائٹ ڈیٹا، پنجاب کلائمیٹ واچ ہب کی چوبیس گھنٹے نگرانی، خصوصی نائٹ اسکواڈز اور کوئیک رسپانس یونٹس کے مربوط نظام کے ذریعے صوبے میں فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انسدادِ اسموگ مہم کے تحت نگرانی اور کارروائیاں دن رات جاری رہیں گی۔






