میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے عباسی شہید اسپتال میں نو تعمیر شدہ ”قائد عوام او پی ڈی بلاک“ کا افتتاح کردیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے عباسی شہید اسپتال کے نو تعمیر شدہ ”قائد عوام او پی ڈی بلاک“ کا افتتاح کردیا جس کے بعد نئے بلاک میں او پی ڈی سروسز فعال کردی گئی ہیں، اس موقع پر کے ایم سی سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، سٹی کونسل کے اراکین، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بھی موجود تھے، منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ نئے او پی ڈی بلاک کے فعال ہونے سے مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی جبکہ عباسی شہید اسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اور اہم پیشرفت ہوئی ہے، میئر کراچی نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال پہنچنے پر انہوں نے انتظامیہ سے سب سے پہلے صفائی ستھرائی، عمارت کی دیکھ بھال اور حفظانِ صحت سے متعلق خدمات کے بارے میں دریافت کیا، سرکاری اسپتالوں میں صفائی اور دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنا، میئر کراچی نے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ تین سے چار ماہ میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے کام مکمل کرکے شہریوں کی مشکلات ختم کرنے کی کوشش کریں گے، ہم شہریوں کو عارضی ریلیف کے بجائے ان کے مسائل کا مستقل حل فراہم کرنا چاہتے ہیں اور ترقیاتی کام نیک نیتی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ کہا جاتا تھا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں، لیکن اب عملی طور پر ترقیاتی کام کرکے دکھائے جارہے ہیں۔ شہری خود فیصلہ کریں کہ انہیں شہر میں کام چاہیے یا صرف بہانے، کراچی کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہا ہے اور کون مایوسی پھیلا کر اپنی تشہیر میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو مایوسی اور اپنی تشہیر کے ذریعے شہر کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے مسائل بہتر بنانے کے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے۔ تعمیر ہونے والی سڑکوں کی حفاظت بھی علاقے کے مکینوں کی ذمہ داری ہے، شہری اس بات کو یقینی بنائیں کہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو نہ تو کوئی دوبارہ توڑے اور نہ ہی کوئی غیر ضروری طور پر انہیں کھودے۔ میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے لیے دستیاب تمام وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان وسائل کو شہر کی ترقی اور شہریوں کی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کیا جائے گا۔ افراد کے آنے جانے سے ادارے متاثر نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ایسے نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جو شخصیات کے بجائے اداروں کے تحت چلیں۔ میں رہوں یا نہ رہوں، شہر اور حکومت کو قائم رہنا ہے، اس لیے اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ ترقیاتی کام اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ بعض کام حکومت کو خود کرنے چاہئیں جبکہ کچھ منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیے جاسکتے ہیں تاکہ دستیاب وسائل اور نجی شعبے کی صلاحیتوں سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھایا جاسکے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے معاملات کی نگرانی اور بہتری کے لیے ”فرینڈز آف کراچی“ کے نام سے ایک بورڈ قائم کرنے کا ارادہ ہے، جس میں سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ بورڈ اسپتال اور شہر کے معاملات کی نگرانی کے ساتھ ان کی بہتری کے لیے بھی کام کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایسا مؤثر اور مستحکم نظام قائم کرنا ہے جو کسی ایک شخصیت کا محتاج نہ ہو بلکہ ادارہ جاتی بنیادوں پر کام کرے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پہلے مرحلے میں اسپتال کی طبی خدمات کو فعال اور مؤثر بنانا ہماری ترجیح ہے، اس کے بعد دوسرے مرحلے میں اسپتال کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ادویات کی فراہمی کے طریقہ کار پر بھی کام کیا جائے گا۔ ماضی میں مریض اسپتال آتے تھے تو انہیں ڈاکٹرز اور مطلوبہ طبی سہولیات دستیاب نہیں ہوتی تھیں، تاہم اب اسپتال میں طبی خدمات کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ اسپتال میں پروفیسرز کی موجودگی سے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی، کیونکہ پروفیسرز نہ صرف مستقبل کے ڈاکٹرز کی تربیت اور تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں بلکہ اپنی کلینیکل خدمات کے ذریعے مریضوں کے علاج میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک ادویات کی فراہمی کا مؤثر نظام نہیں بن جاتا، ادویات کی پروکیورمنٹ نہیں کروں گا، ہماری کوشش ہوگی کہ ادویات کی خریداری اور ان کی مریضوں تک فراہمی کے درمیان موجود خامیوں کو دور کرکے ایک شفاف اور قابلِ عمل نظام قائم کیا جائے۔میئر کراچی نے کہا کہ اسپتال کے معاملات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی نشاندہی سب سے پہلے میڈیا نے کی جس کے بعد فوری ایکشن لیتے ہوئے چھاپہ مارا گیا۔ کارروائی کے دوران اہم شواہد سامنے آئے ہیں اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ گریڈ۔18 کے افسر حنان بھٹو اس معاملے کی انکوائری کررہے ہیں اور رپورٹ مکمل ہوتے ہی اس کی تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر سامنے آنے والی غیر ذمہ داری کے باعث میرے حکم پر ایک شخص کو معطل کیا گیا ہے، تاہم انکوائری رپورٹ آنے کے بعد معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ صحت اور میڈیکل کے حوالے سے دیگر انکوائریز بھی جاری ہیں اور ان کی تکمیل کے بعد تمام تفصیلات میڈیا کو فراہم کی جائیں گی۔میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ انکوائریز ہوتی رہتی ہیں لیکن اس خوف سے کام کرنا نہیں چھوڑا جاسکتا کہ کہیں کسی معاملے کی انکوائری نہ ہوجائے۔ افسران کو کام کرنے کے لیے حوصلہ اور اعتماد دینا ضروری ہے، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اسپتال فعال ہوا ہے یا نہیں، غیر ضروری تفصیلات میں الجھ کر عوامی خدمت کے عمل کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال تک اختیارات اور وسائل نہ ہونے کا جواز پیش کیا جاتا رہا لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ترقیاتی کاموں کے لیے وسائل کہاں سے آرہے ہیں؟ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز اپنے اکاؤنٹس میں رکھے گئے جبکہ گیس کٹنگ کی مد میں ملنے والے اربوں روپے بھی اکاؤنٹس میں جمع رہے۔ بعض اکاؤنٹس میں رقم منافع بخش سرٹیفکیٹس میں بھی رکھی گئی جس کی جانچ ہونی چاہیے کہ یہ وسائل کس مقصد کے لیے مختص کیے گئے تھے اور انہیں شہریوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیوں نہیں کیا گیا۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کے وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کے استعمال کے حوالے سے شفافیت ہونی چاہیے۔ اگر حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم کیے گئے تھے اور دیگر ذرائع سے بھی اربوں روپے حاصل ہوئے تو ان وسائل کو شہریوں کے مسائل حل کرنے اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اکاؤنٹس میں رقم منافع بخش سرٹیفکیٹس میں رکھنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جانا ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ دستیاب وسائل کو شہریوں کی ضروریات کے مطابق استعمال کیا گیا یا نہیں۔ میئر کراچی نے حافظ نعیم الرحمان کے ایک ایونٹ کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا ایونٹ کس ہوٹل میں منعقد ہوا اور اس کے اخراجات کہاں سے ادا کیے گئے؟ ایونٹ کی بکنگ کس نے کرائی تھی، اس معاملے کو بھی چیک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنے پروگراموں اور تقریبات کے اخراجات کے حوالے سے شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ شہریوں کو معلوم ہو کہ ان تقریبات کے لیے وسائل کہاں سے فراہم کیے گئے۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ اپنے پروگرام فائیو اسٹار ہوٹلوں یا پی سی ہوٹل کے بجائے عوامی مقامات پر منعقد کرتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کو عوام کے درمیان رہ کر کام کرنا چاہیے، نہ کہ مہنگے ہوٹلوں میں تقریبات منعقد کرکے اپنی سرگرمیاں محدود رکھنی چاہئیں۔ بعد ازاں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیرانتظام ضلع وسطی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں اقرا یونیورسٹی ہِل ویو روڈ کی بہتری اور بحالی کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا،انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر 10کروڑ 17 لاکھ روپے لاگت آئے گی جس کے تحت 4100 رننگ فٹ سڑک کی تعمیر و بحالی کا کام کیا جائے گا۔ منصوبے میں 2 لاکھ ایک ہزار 300 مربع فٹ رقبے پر اسفالٹ بچھانے کے علاوہ 9 ہزار رننگ فٹ کرب اسٹون نصب کیے جائیں گے جبکہ سڑک کی تعمیر و بحالی کے لیے ایک لاکھ 650 مکعب فٹ ایگریگیٹ استعمال کیا جائے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ضلع وسطی میں سڑکوں کی بہتری اور بحالی کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، شہر کی سڑکوں کو بہتر بنانے اور شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقرا یونیورسٹی ہِل ویو روڈ کی تعمیر و بحالی سے علاقے کے مکینوں اور یہاں سے گزرنے والے شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے گی۔

جواب دیں

Back to top button