میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں ایک طویل عرصے کے بعد ترقیاتی کاموں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور شہر کے ساتوں اضلاع میں بلاامتیاز ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی نظام موجود ہے جبکہ کراچی ایک منفرد شہر ہے جہاں میئر اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ٹاؤن چیئرمین عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں، شہر میں جاری ترقیاتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلدیاتی نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے، اختیارات اور وسائل کی کمی کا عذر پیش کرنے کے بجائے کام کرنے کی دلچسپی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے، ہم نے پہل کرکے کام کیا اور اب شہر کے مختلف ٹاؤنز میں بھی ترقیاتی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، سٹی کونسل کی رکن مسرت نیازی سمیت دیگر بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی پاکستان کا صنعتی دارالحکومت ہے اور جب ہم نے شہر کی ذمہ داری سنبھالی تو سیوریج ٹریٹمنٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں کراچی کے شہریوں سے سیوریج ٹریٹمنٹ کے حوالے سے کام کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس پر عملی پیشرفت کی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی حمایت سے کراچی میں پاکستان کا پہلا صنعتی پانی کی صفائی کا منصوبہ مکمل کیا گیا، جس کا افتتاح چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کیا، جبکہ مزید 65 ملین گیلن یومیہ پانی کی ٹریٹمنٹ کی سہولت کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ کوشش ہے کہ آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ منصوبہ بھی مکمل کرلیا جائے، جس کے بعد ہارون آباد، گٹر باغیچہ کے مقام پر مجموعی طور پر 100 ملین گیلن یومیہ پانی کی ٹریٹمنٹ ممکن ہوسکے گی، یہ ایک اہم کامیابی ہے اور اس کا کریڈٹ شہر کے عوام اور ان کی منتخب قیادت کو جاتا ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ صحت اور کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کشمیر روڈ پر کراچی کا پہلا اسپورٹس کمپلیکس قائم کیا گیا مگر اس کے بعد طویل عرصے تک بین الاقوامی معیار کا کوئی بڑا اسپورٹس کمپلیکس تعمیر نہیں ہوسکا۔ موجودہ سٹی کونسل اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں بلدیہ ٹاؤن، ضلع کیماڑی جیسے علاقے میں شاندار اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا گیا جس کا افتتاح چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کیا، اس منصوبے کی بدولت پسماندہ علاقے کو بھی جدید کھیلوں کی سہولیات میسر آئیں،انہوں نے اسپنسر آئی اسپتال کے حوالے سے کہا کہ یہ تاریخی ادارہ 1938 میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور 1940 میں اسے فعال کیا گیا تھا، اس وقت کی مقامی قیادت شہریوں کو آنکھوں کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اس ادارے کا قیام عمل میں لائی اور 1976 میں بلوچستان میں زلزلے کے موقع پر بھی اس کے عملے اور ایمبولینس نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا تاہم بعد کے ادوار میں اس ادارے کو نظرانداز کیا گیا اور 2022-23 تک اس کی حالت یہ ہوچکی تھی کہ وہاں سرجری اور دیگر طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی تھیں، ہم نے فیصلہ کیا کہ اس اسپتال کو دوبارہ فعال کیا جائے،
اس مقصد کے لیے سٹی کونسل سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے کی منظوری حاصل کی گئی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین اور اتحادیوں نے تعاون کیا، آج اسپنسر آئی اسپتال میں روزانہ تقریباً 350 مریض او پی ڈی کی سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔ ان میں لیاری، صدر، بلدیہ، ماڑی پور، ملیر، کورنگی، ضلع شرقی اور وسطی سمیت کراچی کے مختلف علاقوں کے شہری شامل ہیں جبکہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب سے آنے والے مریض بھی یہاں علاج کرارہے ہیں۔موتیے کی سرجری اور لیزر کے ذریعے علاج کی سہولت مفت فراہم کی جارہی ہے، نجی اسپتالوں میں موتیے کے آپریشن پر 30 سے 35 ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے لیکن اس ادارے میں شہریوں کو یہ سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جارہی ہے، ہفتہ وار اوسطاً 60 سے 70 مریض موتیے کی سرجری اور متعلقہ سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں سے ملاقات کی جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ بھی اس منصوبے کا افتتاح کرنے آئے، انہوں نے کہا کہ اسپنسر آئی اسپتال کی بحالی اس کی مثال ہے کہ تاریخی اداروں کو فعال بنا کر عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔صفائی ستھرائی کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں تین جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن قائم کیے جارہے ہیں جن میں سے ایک قیوم آباد، بلوچ کالونی ایکسپریس وے، دوسرا شرافی گوٹھ اور تیسرا گٹر باغیچہ میں تعمیر کیا جارہا ہے، ان تینوں منصوبوں پر کام آخری مراحل میں ہے اور رواں سال کے اختتام تک انہیں فعال کردیا جائے گا، ان کے ذریعے کچرے کو مشینی طریقے سے جمع کرکے لینڈ فل سائٹس تک منتقل کیا جاسکے گا، انہوں نے کہا کہ جام چاکرو لینڈ فل سائٹ کو جدید اور مشینی نظام کے تحت چلانے اور کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے، اس منصوبے کے ایک سیل کا تقریباً 20 فیصد کام مکمل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے اس کا افتتاح کیا تھا جبکہ مکمل منصوبہ رواں سال کے اختتام یا جنوری تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، صفائی ستھرائی کے شعبے میں تقریباً 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1974 میں عباسی شہید اسپتال کی بنیاد رکھی تھی لیکن بعد کے ادوار میں اس ادارے کو سیاسی مداخلت اور بدانتظامی کا سامنا کرنا پڑا، اسپتال کے نئے بلاک کی تعمیر 52 سال بعد مکمل کی گئی ہے جو تقریباً دو لاکھ مربع فٹ رقبے پر مشتمل گراؤنڈ پلس فائیو منزلہ عمارت ہے، اس نئے بلاک میں اسی ہفتے او پی ڈی سروسز فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ شہریوں کو فوری طور پر طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں، جہاں جلدی امراض، امراض قلب، خصوصی بچوں کے علاج اور عمومی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اسی طرح سرفراز رفیقی شہید اسپتال میں پاکستان کا پہلا پبلک سیکٹر بریسٹ ری کنسٹرکشن سینٹر قائم کیا جارہا ہے جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دسمبر میں فعال کرنے کا ہدف ہے، اس منصوبے کی قیادت بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی سرجن ڈاکٹر عمر دراز کررہے ہیں،میئر کراچی نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کی شاندار بحالی کے بعد شہر کی دیگر تاریخی مارکیٹوں کی بحالی کا کام بھی جاری ہے، سول لائنز مارکیٹ، حسن علی ہوتی مارکیٹ، ڈینسو ہال، کے ایم سی بلڈنگ، لی مارکیٹ، سولجر بازار مارکیٹ اور مچھلی میانی مارکیٹ کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، ان منصوبوں کو دسمبر کے اختتام تک مکمل کرکے فعال کرنے کا ہدف ہے، ان تاریخی عمارتوں اور مارکیٹوں کو نئی نسل کے سامنے شہر کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کرنا ضروری ہے، ایمپریس مارکیٹ کو کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ثقافتی تقریبات کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے اور دیگر بحال ہونے والی مارکیٹوں میں بھی اسی طرز پر سرگرمیاں شروع کی جائیں گی،انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی اب اپنے وسائل سے بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کررہی ہے، چکور نالہ ایکسپریس وے تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے کے ایم سی کے اپنے فنڈز سے تعمیر کیا جارہا ہے جس کے لیے نہ وفاقی حکومت نے فنڈز فراہم کیے اور نہ ہی صوبائی حکومت سے رقم حاصل کی گئی، اس منصوبے سے شہر کی بڑی آبادی کو فائدہ ہوگا اور گلستان جوہر جانے والے شہریوں کو ٹریفک کی طویل قطاروں سے نجات ملے گی، ناتھا خان کے مقام سے گزرنے والی اس متبادل شاہراہ کے ذریعے شہری تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کا سفر دو سے ڈھائی منٹ میں طے کرسکیں گے، اس منصوبے کے ساتھ ایک وی جنکشن اور اضافی پل بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ گلستان جوہر، پہلوان گوٹھ، حبیب یونیورسٹی اور ایئرپورٹ کی طرف جانے والے شہریوں کو الگ الگ راستے فراہم کیے جاسکیں، منصوبے کا بنیادی کام مکمل ہوچکا ہے اور آئندہ 30 سے 35 روز میں فنشنگ کے بعد اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا، ناتھا خان کے پل کے ساتھ تین لین پر مشتمل متبادل ٹریک بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ شاہراہ فیصل پر ٹریفک کا دباؤ کم کیا جاسکے،انہوں نے کہا کہ گلستان جوہر سے یونیورسٹی روڈ تک متبادل رابطہ سڑک کی تعمیر بھی جاری ہے جس میں پہلوان گوٹھ کی جانب جانے والا تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر کا حصہ شامل ہے، مجموعی طور پر تقریباً 9کلومیٹر طویل دو رویہ شاہراہ تعمیر کی جارہی ہے جو ملیر اور ضلع شرقی کو ملاتے ہوئے گلستان جوہر کو یونیورسٹی روڈ سے منسلک کرے گی، حبیب یونیورسٹی سے پی ایچ اے اپارٹمنٹس تک تقریباً ڈھائی کلومیٹر حصے کی ایک جانب بنیادی کارپٹنگ مکمل ہوچکی ہے اور دوسری جانب کام جاری ہے، ہمارا ہدف ہے کہ جنوری تک اسے یونیورسٹی روڈ تک مکمل کرلیا جائے،میئر کراچی نے کہا کہ جہانگیر روڈ کی تعمیر نو بھی ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ذریعے سہراب گوٹھ اور گڈاپ کی جانب سے شہر میں آنے والے لاکھوں شہریوں کو سہولت حاصل ہوگی، کے ایم سی نے جہانگیر روڈ پر عارضی مرمت کے بجائے مکمل بحالی کا فیصلہ کیا اور پہلے نکاسی آب اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنا کر لیکجز ختم کیے گئے اور نئی لائنیں بچھائی گئیں۔ تقریباً ڈھائی کلومیٹر طویل سڑک کی بحالی سے پانچ کلومیٹر کا روڈ سیکشن بہتر ہوا ہے، جسے شہری روزانہ استعمال کررہے ہیں، اس منصوبے کے اگلے مرحلے میں تین ہٹی سے سہراب گوٹھ تک ایس ایم توفیق روڈ کی بحالی کا کام جاری ہے جہاں پہلے سیوریج لائن بچھائی گئی اور اس کے بعد سڑک کی کارپٹنگ کی جارہی ہے، اسی طرح گلبائی سے شیرشاہ تک سڑک کی بحالی پر تقریباً دو ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں، اس منصوبے کا ایک حصہ آئندہ ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف ہے،انہوں نے کہا کہ ضلع کیماڑی اور ضلع غربی کو ملانے والی طوری بنگش روڈ بھی ایک اہم رابطہ شاہراہ ہے جس کی تعمیر و بحالی پر کام جاری ہے، تقریباً پانچ کلومیٹر طویل اس سڑک سے اتحاد ٹاؤن اور اتحاد کالونی سمیت مختلف علاقوں کے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے، سڑک کی کارپٹنگ جاری ہے اور کوشش ہے کہ رواں سال کے اختتام تک اسے مکمل کرلیا جائے، اسی طرح مرزا آدم خان روڈ کی بحالی سے لیاری، گارڈن، اولڈ سٹی ایریا، مچھر کالونی اور ماڑی پور کے شہریوں کو آمدورفت کے لیے ایک بہتر متبادل راستہ فراہم ہو گا۔ میئر کراچی نے بتایا کہ شہر میں تقریباً 140 مزید سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور آئندہ دو سے تین روز میں ورک آرڈرز جاری ہونے کے بعد رواں ہفتے کے اختتام تک کام شروع کردیا جائے گا، ان رابطہ سڑکوں پر تقریباً 13 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، اگرچہ ان میں سے بعض سڑکیں براہ راست کے ایم سی کی ذمہ داری میں نہیں آتیں، تاہم شہر اور شہریوں کی بہتری کے لیے ان منصوبوں کو بھی مکمل کیا جائے گا، کراچی کی 41 اہم شاہراہوں پر اسٹریٹ لائٹنگ کا نظام بھی تبدیل کیا جارہا ہے جس پر تقریباً ایک ارب روپے خرچ ہوں گے، اس منصوبے کے ورک آرڈرز جاری ہوچکے ہیں اور کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ آئندہ دو سے ڈھائی ماہ میں اسے مکمل کرنے کا ہدف ہے،میئر کراچی نے کہا کہ گارڈن نشتر روڈ پر ایک ارب روپے کی لاگت سے نیا فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا جس کا سنگ بنیاد 20 نومبر تک رکھنے کا منصوبہ ہے، کے ایم سی اپنے وسائل سے اس منصوبے پر کام کرے گی اور اسے 100 دن میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے ہ تاکہ علاقے میں ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ عرصے میں مختصر مدت کے اندر مختلف فلائی اوورز کی تعمیر مکمل کی گئی ہے اور اب نشتر روڈ کا منصوبہ بھی اسی رفتار سے مکمل کیا جائے گا،پانی کی فراہمی کے حوالے سے میئر کراچی نے کہا کہ لیاری کے شہریوں کو پانی کی فراہمی بہتر بنانے اور پانی کی چوری روکنے کے لیے کے تھری کی 10 ملین گیلن یومیہ گنجائش کی ایلیویٹڈ لائن کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا تاہم تمام رکاوٹوں کے باوجود کام مکمل کیا گیا ہے، آئندہ سات سے آٹھ روز میں لائن کی ٹیسٹنگ کی جائے گی جس کے بعد اس کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا، اس منصوبے سے لیاری کے شہریوں کو پانی کی فراہمی میں بہتری آئے گی، میئر کراچی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات شفافیت کے ساتھ شہریوں تک پہنچانے کے لیے کے ایم سی کی ویب سائٹ پر منصوبوں کی معلومات فراہم کی جارہی ہیں تاکہ عام شہری بھی جان سکیں کہ شہر میں کہاں اور کون سے ترقیاتی کام ہورہے ہیں، مالی سال کے آغاز میں اعلان کیا گیا تھا کہ کے ایم سی ترقیاتی منصوبوں پر 68 سے 70 ارب روپے خرچ کرے گی اور موجودہ پیشرفت اسی عزم کا اظہار ہے، ہماری کوشش ہے کہ تمام منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرکے شہریوں کو عملی ریلیف فراہم کیا جائے،انہوں نے کراچی کے ٹاؤنز کی کارکردگی کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کی ترقی کسی ایک میئر، وزیراعلیٰ یا وزیر بلدیات کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بلدیاتی نظام میں ٹاؤنز کو اسی لیے شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوامی مسائل حل کرسکیں۔ گزشتہ دو سے تین سال کے دوران مختلف ترقیاتی کاموں اور یوٹیلیٹی اداروں کی روڈ کٹنگ کے باعث شہر کی متعدد سڑکیں متاثر ہوئیں جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب ٹاؤنز نے بھی سڑکوں کی بحالی کے کام شروع کردیے ہیں، ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان منصوبوں پر مزید تیزی سے کام کیا جائے تاکہ کے ایم سی اور ٹاؤنز کے ترقیاتی اقدامات ایک دوسرے کی معاونت کرسکیں،میئر کراچی نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے بعد انہیں دوبارہ کھودنے سے روکنے کے لیے کے ایم سی اور ٹاؤنز کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی اور تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے کے ذریعے اپنے کام مکمل کرنے چاہئیں۔ اسی طرح فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر غیرقانونی تجاوزات، کرسیاں، میزیں اور موٹر سائیکلیں کھڑی کرکے راستے بند کرنے کے رجحان کی بھی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ کے ایم سی اس سلسلے میں ٹاؤنز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ شہریوں کو صاف ستھری، کشادہ اور بہتر سڑکیں اور فٹ پاتھ فراہم کیے جاسکیں۔ کراچی کی ترقی کا سفر جاری رکھا جائے گا۔






