*میئر کراچی نے تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں’’بندر روڈ سے کیماڑی،خواتین اور خاندان میلہ 2026‘‘ کا افتتاح کردیا*

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں ’’بندر روڈ سے کیماڑی، خواتین اور خاندان میلہ 2026‘‘ کا بطور مہمان خصوصی افتتاح کردیا۔ اس موقع پر سٹی کونسل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، سٹی کونسل اراکین اور دیگر بھی موجود تھے، منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مئیر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میلے کے انعقاد کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے پیغام کو اجاگر کرنے کے ساتھ کراچی میں ثقافتی، سماجی اور خاندانی تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور خاندانوں کو صحت مند تفریحی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ’’بندر روڈ سے کیماڑی‘‘ فیملی فیسٹیول شہریوں کو تفریح کے بہتر مواقع فراہم کرے گا اور خاندانوں کو ایک ساتھ خوشگوار وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں صحت مند تفریحی سرگرمیوں کا فروغ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ شہر کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے اور شہریوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایسے میلوں اور تقریبات کا انعقاد اہمیت رکھتا ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کی رونقیں بحال کرنا اور شہر کو خوشیوں کا مرکز بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ شہر میں ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں کے انعقاد سے شہری زندگی میں مثبت تبدیلی لانے میں مدد ملے گی، جبکہ ایسے پروگرام شہریوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور خاندانی ماحول کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ مئیر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہریوں کے لیے تفریحی مواقع میں اضافے کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ ’’بندر روڈ سے کیماڑی، خواتین اور خاندان میلہ 2026‘‘ خواتین کو بااختیار بنانے کے پیغام کے ساتھ کراچی کی ثقافت اور خاندانی تفریح کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں آنے والے دنوں میں عالمی بریانی فیسٹیول منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد پلاؤ اور مچھلی کے فیسٹیول کے انعقاد کا بھی ارادہ ہے۔ ہمارا مقصد شہریوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرنا اور کراچی کے تاریخی ورثے کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ ایمپریس مارکیٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ماضی میں یہاں گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، جبکہ آج اس مقام پر رونقیں اور خوشیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل کراچی کے تاریخی ورثے کا رخ کرے اور ان مقامات سے شہر کی ثقافت اور تاریخ کو سمجھے۔ ماضی میں بوہرا فوڈ فیسٹیول منعقد کیا گیا، انہوں نے کہا کہ جب نیت صاف ہو تو منزل آسان ہوجاتی ہے۔ ہم اس تاریخی مقام کو مزید فعال بنانے اور یہاں شہریوں کے لیے مختلف سرگرمیوں کے انعقاد کی ہر ممکن کوشش کریں گے، جبکہ آئندہ پروگرام میں موسیقی کی تقریب بھی منعقد کرنے کا ارادہ ہے۔انہوں نے شہر میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے حوالے سے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ عام شہریوں کو ہوتا ہے۔ ناتھا خان لنک روڈ پر کام کے دوران وہ شہریوں کے چہروں پر خوشی دیکھتے ہیں، جبکہ سڑک بہتر ہونے سے پہلوان گوٹھ اور گلستانِ جوہر کے رہائشیوں کو بھی سہولت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والے تنقید کرتے رہیں گے، تاہم شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کام جاری رہے گا۔ میئر کراچی نے شہر میں تجاوزات کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت شہر بھر میں تجاوزات موجود ہیں اور انہوں نے محکمہ انسدادِ تجاوزات کو اس سلسلے میں وارننگ دی ہے۔ بعض ٹاؤن چیئرمینز نے بھی تجاوزات کے خاتمے کے لیے تعاون طلب کیا ہے۔ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، بلدیہ عظمیٰ کراچی اور پولیس کو اس مسئلے کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی افسر کے خلاف غلط کام کرنے کی شکایت سامنے آئی تو کارروائی کی جائے گی۔ سیاسی دباؤ کو قانون کے مطابق کام کرنے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ پارکنگ فیس کے معاملے پر میئر کراچی نے کہا کہ اگر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے کسی سڑک پر پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے، کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلے کے مطابق پارکنگ فیس ختم کرنے پر متعلقہ ٹاؤنز کو بھی عمل درآمد کرنا چاہیے۔ میئر کراچی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی بریانی فیسٹیول میں شہری بھرپور شرکت کریں اور کراچی کے کھانوں کو دنیا بھر میں متعارف کرایا جائے انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس فیسٹیول کے ذریعے کراچی کی بریانی کی مقبولیت کو مزید اجاگر کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button