پاکستان اور ترکیہ نے ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے، جبکہ ترکیہ کے قونصل جنرل مہمت ایمن شمشیک نے پنجاب کی ماحولیاتی پالیسیوں اور اسموگ و فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہا ہے۔ترکیہ کے قونصل جنرل مہمت ایمن شمشیک نے اپنی اہلیہ میلتیم شمشیک کے ہمراہ محکمہ تحفظ ماحول و موسمیاتی تبدیلی پنجاب کی سیکریٹری سلوت سعید سے محکمے کی گرین بلڈنگ لاہور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پنجاب اور ترکیہ کے ماحولیاتی اداروں کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے، تکنیکی مہارت کے تبادلے اور مشترکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات سلوت سعید نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے صاف، سرسبز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ پنجاب کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے فضائی معیار میں بہتری، ماحولیاتی نظم و نسق کے استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے وفد کو پنجاب کلائمیٹ واچ ہب کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارم ماحولیاتی نگرانی، فضائی معیار کی پیش گوئی اور ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلہ سازی کو یکجا کرتا ہے۔ محکمہ ماحولیات کا مقامی طور پر تیار کردہ پیش گوئی کا نظام زمینی مانیٹرنگ اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے لاہور، فیصل آباد اور دیگر شہری مراکز کے فضائی معیار سے متعلق پیشگی معلومات فراہم کرتا ہے۔وفد کو ایئربوٹ (EcoBot) کے بارے میں بھی بتایا گیا، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی شہری رہنمائی کا نظام ہے اور فضائی آلودگی کے دوران شہریوں کو ایئر کوالٹی کی معلومات اور احتیاطی تدابیر فراہم کرتا ہے۔سلوت سعید نے گرین اسکول سرٹیفکیشن پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت پنجاب کے 41 اضلاع میں 26 ہزار سے زائد اسکولوں تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے، جس سے تقریباً 76 لاکھ طلبہ اور اساتذہ مستفید ہو رہے ہیں۔ پروگرام کے تحت کچرے کے مؤثر انتظام، پانی کے تحفظ، توانائی کی بچت، شجرکاری اور صاف ہوا سے متعلق آگاہی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ گرین کریڈٹ پروگرام پر بھی روشنی ڈالی، جس کا مقصد شہریوں اور کمیونٹیز کو ماحول دوست سرگرمیوں کی ترغیب دینا اور عوامی شمولیت کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ملاقات میں پنجاب کی انسدادِ اسموگ حکمت عملی بھی زیر بحث آئی، جس میں صنعتی اخراج، گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، بھٹوں، تعمیراتی گردوغبار اور فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے اقدامات شامل ہیں۔ترک وفد کو تھرمل ڈرون نگرانی، خصوصی انفورسمنٹ آپریشنز، گاڑیوں کے اخراج کی اسکیننگ اور لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر نصب ریموٹ سینسنگ ڈیوائسز کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ یہ آلات زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نشاندہی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔سیکریٹری ماحولیات نے بتایا کہ صنعتوں کے لیے اخراج پر قابو پانے والے نظام، بھٹوں میں زگ زیگ ٹیکنالوجی، اینٹی اسموگ گنز اور فضائی معیار کی مسلسل نگرانی کے انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ حکومت سال بھر پیشگی اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے۔ملاقات میں پلاسٹک فری پنجاب مہم، شہری شجرکاری، میاواکی جنگلات اور جامعات، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس پی آئی یو طارق محمود بھٹی نے ماحولیاتی پالیسیوں کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے تکنیکی رابطہ کاری، منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد اور نگرانی کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تکنیکی شراکت داری ادارہ جاتی استعداد بڑھانے اور جدید ماحولیاتی حل اپنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ترک قونصل جنرل نے پنجاب کی ماحولیاتی پالیسیوں، جدید مانیٹرنگ ٹیکنالوجی کے استعمال، مؤثر انفورسمنٹ اور عوامی آگاہی کے اقدامات کو سراہا۔دونوں فریقوں نے ترکیہ کے ماحولیاتی اداروں، تکنیکی ماہرین، جامعات، کاروباری اداروں اور تحقیقی تنظیموں کے ساتھ ممکنہ تعاون پر بھی گفتگو کی۔ اس ضمن میں ماحولیاتی بہترین طریقہ ہائے کار کے تبادلے، موسمیاتی ٹیکنالوجی، استعداد کار میں اضافے، مشترکہ آگاہی مہمات، تکنیکی تبادلوں اور متعلقہ اداروں کی شمولیت کو اہم شعبوں کے طور پر زیر غور لایا گیا۔ملاقات میں پنجاب کے ماحولیاتی اقدامات ترکیہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کرنے اور ماحولیاتی انتظام و پائیداری کے شعبوں میں ترکیہ کے تجربات سے استفادہ کرنے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔اس موقع پر ڈی جی ادارہ تحفظ ماحول پنجاب عبداللہ نیئر شیخ، ڈی جی آمنہ منیر، ٹیم لیڈ ایڈووکیسی اینڈ کمیونیکیشن صائمہ مرتضیٰ، عاصم، ڈاکٹر واجد اور ای پی سی سی ڈی ایمبیسیڈر سام علی دادا بھی موجود تھے۔ملاقات کو پنجاب اور ترکیہ کے درمیان ماحولیاتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، تکنیکی جدت اور مشترکہ مہارتوں سے استفادہ ناگزیر ہے۔ملاقات کے اختتام پر باہمی رابطے جاری رکھنے اور ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں عملی تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔






