پنجاب میں سموگ سے پہلے آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز، 51 بھٹے مسمار

پنجاب میں سموگ سیزن سے قبل ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے۔ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیئر شیخ کی نگرانی میں صوبہ بھر میں اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی یونٹس اور دیگر آلودگی پھیلانے والے ذرائع کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ مجموعی کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 710 اینٹوں کے بھٹوں کی انسپیکشن کی گئی، 51 بھٹے مسمار، 51 سیل اور 45 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں پر ایک کروڑ 4 کروڑ نہیں بلکہ مجموعی طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ڈی جی ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ نے مختلف اینٹوں کے بھٹوں کے سرپرائز وزٹس کے دوران ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ محکمہ ماحولیات نے سموگ کے آغاز سے قبل آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی، خلاف ورزیوں کے خلاف فوری کارروائی اور اخراج میں کمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے پنجاب کے 10 ہاٹ اسپاٹ اضلاع میں کوئیک رسپانس یونٹس (QRUs) فعال ہیں، جبکہ 67 فائر رسپانس ڈرونز کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ موٹرویز اور اہم شاہراہوں کے ساتھ مسلسل پٹرولنگ بھی جاری ہے تاکہ فصلوں کی باقیات اور جھاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات کی بروقت نشاندہی کرکے فوری کارروائی کی جا سکے۔ڈی جی ماحولیات نے گوجرانوالہ سیالکوٹ موٹروے پر تعینات کوئیک رسپانس یونٹس کا بھی اچانک دورہ کیا اور عملے کی تیاریوں، نگرانی کے انتظامات اور آگ لگنے کے واقعات پر فوری ردعمل کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔

ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے آگ کے مقامات کی نشاندہی کے بعد فیلڈ ٹیمیں موقع پر پہنچ کر کارروائی کرتی ہیں، جس کا مقصد دھوئیں کو پھیلنے سے روکنا اور سموگ سے پہلے فضائی آلودگی میں اضافے کو محدود کرنا ہے۔صنعتی آلودگی کے خلاف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 1 ہزار 510 صنعتی یونٹس کی انسپیکشن کی گئی، 41 یونٹس سیل اور ایک مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ 41 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔پلاسٹک کے غیر قانونی استعمال اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں میں 1 ہزار 546 انسپیکشنز کی گئیں، 235 نوٹس جاری کیے گئے اور 7 ہزار 823 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا۔ خلاف ورزیوں پر 35 مقامات سیل کیے گئے، جبکہ 4 لاکھ 63 ہزار 500 روپے جرمانے عائد کیے گئے۔باربی کیو ریسٹورنٹس اور دیگر کمرشل ککنگ پوائنٹس کی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں 1 ہزار 68 مقامات کی انسپیکشن یا وزٹس کیے گئے، 82 مقامات سیل کیے گئے اور 4 لاکھ 71 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ محکمہ ماحولیات کے مطابق 497 یونٹس پر سکشن ہڈز نصب تھے، جبکہ 13 کمرشل ککنگ پوائنٹس پر سکشن ہڈز کی تنصیب بھی یقینی بنائی گئی۔ چار مقامات کو سموگ نوٹس جاری کیے گئے۔تعمیراتی مقامات سے اڑنے والی گردوغبار یعنی فیوجیٹو ڈسٹ کی روک تھام کے لیے 69 یونین کونسلوں میں نگرانی کی گئی، 31 نوٹس جاری ہوئے اور 7 مقامات پر مسٹ اسپرنکلرز نصب کیے گئے۔پانی کی آلودگی سے متعلق پانچ مقامات کے دورے کیے گئے، تاہم اس مد میں کسی مقام کو سیل کرنے، مقدمہ درج کرنے یا جرمانہ عائد کرنے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیئر شیخ نے آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ ماحولیات کے مطابق سموگ سیزن سے قبل بھٹوں، صنعتی یونٹس، کمرشل ککنگ پوائنٹس اور دیگر آلودگی کے ذرائع کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔دوسری جانب کلائمیٹ واچ کے مطابق لاہور میں دوپہر کے اوقات میں ہوا کی رفتار 2 سے 3 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث آلودگی کے پھیلاؤ میں کمی اور فضا میں آلودہ ذرات جمع ہونے کا خدشہ ہے۔ محکمہ ماحولیات نے سموگ سے پہلے آلودگی کے اخراج کو کم کرنے کے لیے فیلڈ مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ مزید سخت کر دی ہے۔

جواب دیں

Back to top button