وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کر دیا

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب کے مزدور کیلئے صحت کی سہولیات فیکٹری اور گھرکی دہلیز تک پہنچا دیں۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ65 موبائل ہسپتال اور بائیکس پر مشتمل موبائل ہیلتھ پروگرام شروع ہوگیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کیا۔ موبائل ہیلتھ پروگرام سے لاہور، قصوراور شیخوپورہ میں 46 لاکھ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے خاندان کا علاج ان کی دہلیز پر ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مارچ 2027 تک گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال، ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان اور راولپنڈی میں سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام شروع کرنے کا ہدف مقرر کردیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سوشل سیکیورٹی موبائل ہسپتال، موبائل ڈینٹل ہسپتال، بائیک اور سیکوٹیز کا معائنہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے موبائل بائیک پر موجود میڈیسن اور طبی آلات کے بارے بریفنگ اور موبائل بائیک پر موجود ڈیوائس سے ٹمپریچر بھی چیک کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو سوشل سیکورٹی ہسپتال کی

تصویر ی تاریخ پر مشتمل کافی بک بھی پیش کی گئی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے نواز شریف سوشل سیکورٹی ہسپتال کے او پی ڈی اور رحمتہ اللعالمین کارڈیک سینٹر کا دورہ کیا اوراو پی ڈی میں موجود مریضوں سے بات چیت کی اور ان کا حال دریافت کیا۔ اس موقع پربزرگ مریضہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کارڈیالوجی وارڈ میں مریضوں کی عیادت کی،تسلی دی اورصحت یابی کی دعاکی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے وارڈ میں بیمار ماں کی تیمارداری کرنے والی بیٹی کو سراہا اور پیار بھی کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کووزیر محنت منشا اللہ بٹ، کمشنر پیسی ذوالفقار علی کھرل اور سیکرٹری دانش افضال نے موبائل ہیلتھ پروگرام پر بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا کہ موبائل ہیلتھ یونٹس میں 10 موبائل ہسپتال،پانچ موبائل کلینک، ڈینٹل اور کارڈیک موبائل، 40 موٹر سائیکلیں اور 10 اسکوٹیز شامل کیا گیا ہے۔ موبائل ہیلتھ یونٹس میں میڈیکل باکس، فرسٹ ایڈ، بنیادی ادویات اور آگاہی دی جائیگی۔ موبائل کلینکس میں ڈاکٹر، او پی ڈی، تشخیصی سہولیات، ادویات، فرسٹ ایڈ، ٹیلی میڈیسن اور آگاہی مواد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ موبائل ہسپتال میں ڈاکٹر، لیڈی ڈاکٹر، ریڈیولوجسٹ، نرس، لیب اور ایکس رے ٹیکنیشینز، او پی ڈی، ریڈیولوجی اور پیتھالوجی لیب موجود ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا کہ موبائل ڈینٹل ہسپتال میں ڈینٹل سرجنز، ٹیکنیشینز، ڈینٹل ایکس رے، انٹرا اورل کیمرا سسٹم اور ٹیلی میڈیسن بھی میسر ہوگی۔ پیسی موبائل ہیلتھ پروگرام کے تحت”موبائل رومیٹک ہارٹ ڈیزیز (RHD) سکریننگ یونٹ“ پروگرام شروع کررہے ہیں۔ موبائل رومیٹک ہارٹ ڈیزیز پروگرام کے تحت لاہور، شیخوپورہ اور قصور کے علاقوں میں 29,845 کارخانوں، فیکٹریوں /اداروں کا وزٹ کرے گا۔تمام موبائل ہیلتھ یونٹس کو پیسی کے ہیڈ آفس میں قائم ڈیجیٹل ہب سے منسلک کرکے رئیل ٹائم مانیٹرنگ کی جائیگی۔بریفنگ میں بتایا کہ 50موبائل کلینک میں 40 موبائل بائیکس اور 10 اسکوٹیز صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے مختلف روٹس پر موجود ہوں گی۔ موبائل ہسپتالوں میں ایکسرے، الٹراساؤنڈ، بنیادی لیبارٹری اور ماہر مرد وخواتین ڈاکٹرز موجود ہوں گے۔ موبائل یونٹس کو صوبہ بھر میں ورکرز ویلفیئر سکولوں میں زیر تعلیم54 ہزار بچوں میں دل کی بیماریوں کی تشخیص کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔ بریفنگ میں مزید بتایا کہ موبائل ہیلتھ یونٹس کی فیلڈ میں مختلف روٹس پر موجودگی کی شفاف اور بروقت مانٹیرنگ بھی ڈیجیٹل ہب / ڈیش بورڈ سے کی جائے گی۔ امراض قلب کے موبائل ہسپتال میں صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو دل کے امراض کی ابتدائی تشخیص اور طبی مشاورت فراہم کی جائیگی۔پنجاب میں پہلی مرتبہ موبائل ڈینٹل ہسپتال میں صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کا دانتوں کا علاج ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے نواز شریف سوشل سیکیورٹی ہسپتال کے دورے کے دوران موبائل ہسپتالوں کے عملے اور ڈاکٹرز سے بات چیت کی اور کارڈیالوجی سینٹر کے ڈاکٹرز اور عملے کو شاباش دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ 24 سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں میں ایک کروڑسے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کا بہترین علاج اور ادویات فراہم کررہے ہیں۔ پی ای ایس ایس آئی کے تحت 250 میڈیکل آؤٹ لیٹس کے ذریعے صوبے کے ورکرز کو طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ موبائل ہیلتھ پروگرام سے پہلی مرتبہ ورکرزکوکام کی جگہ اوراہل خانہ کو دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں موبائل ہیلتھ پروگرام سے بیماریوں کی بروقت تشخیص و علاج کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں دباؤ کم ہوگا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ رجسٹرڈ محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو دوران کار/دہلیز پر طبی سہولیات فراہمی اور سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ سروسز کا آغازسنگ میل ہے۔ فیکٹری ہو، تجارتی یا صنعتی یونٹ جہاں محنت کش ہوگا وہاں سوشل سیکیورٹی کی موبائل ہیلتھ یونٹس موجود ہوں گی۔ پنجاب سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ سروسز کا بنیادی مقصد رجسٹرڈ محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ تک معیاری طبی سہولیات پہنچانا ہے۔

جواب دیں

Back to top button