حکومت نے مخدوش عمارتوں کو خالی کرانے انھیں منہدم کرنے اور متاثرہ مکینوں کے لئے رہائش کی فراہمی کے لئے ترجیحی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کمشنر کراچی کے دفتر میں جمعرات کو ایک اعلٰی سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مخدوش عمارتوں کو جلد از جلد خالی کرانے اور جو خالی کرائی جا چکی ہیں انھیں منہدم کرنے اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے ترجیحی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ مخدوش عمارتوں کو خالی کرانے اور متاثرا فراد کی بحالی کے لئے فور ی نوعیت کی کوششیں کرنے کی ضرور ت ہے۔ تاکہ مکینوں کی زندگیوں کو محفوظ کیا جاسکے اور انھیں باعزت اور محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے۔

کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی انھوں نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنرز نے انتہائی 588 مخدوش عمارتوں میں سے 471مخدوش عمارتوں کا جنرل سروے مکمل کرلیاہے۔ سروے کے ذریعے ملکیت سمیت مکینوں اور یونٹس سے متعلق تمام ضروری معلومات جمع کر لی گئی ہیں۔ اجلاس میں 59 خالی کرائی گئی عمارتوں کے مکینوں کی بحالی کے لئے ترجییحی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے ایسی جگہ فلیٹس تعمیر کئے جائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آباد اور سیلانی سے بھی اس سلسلہ میں معاونت لی جائے گی۔اجلاس نے انتہائی 588 کے ساتھ ساتھ دیگر مخدوش عمارتوں کا ٹیکنکیل سروے کرانے کا بھی فیصلہ کیا۔ناصر حسین شاہ نے کہاکہ مخدوش عمارتوں کراچی کے علاوہ حیدراباد سکھر اور دیگرسندھ کے شہروں میں کرانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ مخدوش عمارتوں کا جامع سروے کرائے اور اس دائرہ میں دیگر شہروں اور کو بھی شامل کرے۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ کراچی میں مختلف علاقوں میں قائم بتدریج تمام قدیم اور پرانی عمارتوں کو سروے میں شامل کیا جاے گا۔ اجلاس نے 588 مخدوش عمارتوں کا ٹیکنیل سروے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں سیکریٹری لوکل گورنمنٹ رفیق قریشی، ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو، ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو، آباد کے نمائندے.اویس تھانوی، پاکستا ن انجنئرنگ کونسل، پاکستان کونسل فار آرکیٹیکٹ اینڈ ٹاون پلاننگ کے نمائندے اور دیگر نے شرکت کی۔






