سندھ کابینہ نے یکم جولائی 2024 سے شروع ہونے والی سندھ ڈیفائنڈ کنٹری بیوٹریپنشن اسکیم 2024 کے نفاذ کی منظوری دیدی۔ کابینہ نے کارونجھر کو ثقافتی ورثہ قرار دیدیا۔ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکرٹری اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ پانچ گھنٹے سے زائد طویل صوبائی کابینہ کے اجلاس کے دوران کئی اہم فیصلے کیے گئے، جن میں سندھ ڈیفائنڈ کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم 2024 کو متعارف کرانا بھی شامل ہے۔ یہ اسکیم یکم جولائی 2024 سے شروع ہوگی، اور حکومت اور ملازمین دونوں عارضی طور پر بالترتیب 12 اور 10 فیصد کی شرح اپنا حصہ ڈالیں گے۔ کابینہ نے سندھ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے سیکشن 20 میں سب-سیکشن (4) کے بعد نئی ذیلی شق (5) شامل کرنے کی منظوری دی۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق کوئی بھی مقرری یا ریگولرائزڈ سرکاری ملازم کوسندھ سول سرنٹ کی ترمیم شدہ ایکٹ 2024 کے مطابق سرکاری ملازم تصور کیا جائے گا مگر وہ پینشن یا گریجویٹی کا حق دار نہیں ہوگا۔ اسکے بجائے وہ ایک ڈیفائنڈ کنٹریبیوشن پنشن اسکیم میں حصہ دار ہوں گے۔ پنشن اور گریجویٹی کے بجائے سرکاری ملازم حکومت کی جانب سے دی گئی رقم وصول کرنے کا حقدار ہو گا۔ حکومتی فنڈ انکے اکاؤنٹ میں شامل کیا جائے گا۔ سرکاری ملازم کے انتقال کی صورت میں انکے خاندان کو کنٹریبیوشن پنشن فنڈ سے رقم فراہم کی جائے گی۔ کابینہ نے سندھ سول سرونٹ ایکٹ 1973 میں مجوزہ ترمیم کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت دیدی۔ کارونجھر پہاڑی سلسلہ: سندھ کابینہ نے سندھ ہائی کورٹ سرکٹ میرپورخاص کے فیصلے کی روشنی میں 21000 ایکڑ پر مشتمل کارونجھر رینج کو محفوظ ثقافتی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ کیا اور محکمہ ثقافت کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری گزٹ میں بھی مطلع کرے۔آر او پلانٹ تھر: سندھ کابینہ نے اسلام کوٹ ضلع تھرپارکر میں 1.5 ایم جی ڈی میگا آر او پلانٹ کو چلانے کے لیے 434.109 ملین روپے کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو ہدایت کی کہ مقامی آبادی کے فائدے کے لیے اگلے تین ماہ کے اندر آر او پلانٹ کی بحالی کا کام تیز کیا جائے۔سندھ آئی ٹی کمپنی کی تشکیل: کابینہ نے غور کے بعد ڈیجیٹل سندھ کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہوئے سندھ آئی ٹی کمپنی کے قیام کی منظوری دی۔این سی ایچ آئی ڈی اور بی ای سی ایس: محکمہ اسکول ایجوکیشن نے کابینہ کو بتایا کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی) اور بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز (بی ای سی ایس) کے 5019 اساتذہ اب بھی 25000 روپے ماہانہ اعزازیہ حاصل کر رہے ہیں۔این سی ایچ ڈی اور بی ای سی ایس کے اساتذہ کو اگست 2022 میں سندھ حکومت کے حوالے کیا گیا تھا۔ 11 اگست 2022 کو اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ کے ساتھ طے کردہ شرائط و ضوابط کے مطابق ان کی خدمات مقرر گئیں یعنی 55 سال کی عمر تک 5 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 25 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا گیا تھا۔ کابینہ نے مکمل غور کے بعد این سی ایچ ڈی اور بی ای سی ایس اساتذہ کو ماہانہ 37000 روپے معاوضہ دینے کی منظوری دی جس سے خزانے پر 539.542 ملین روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔کیڈٹ کالج ککڑ: کابینہ نے بورڈ آف گورنرز کے قیام کی منظوری کے ساتھ کیڈٹ کالج ککڑ، ضلع دادو کو پاک بحریہ کے حوالے کرنے کے فیصلے کی توثیق کی۔ کابینہ نے کیڈٹ کالج ککڑ کے باقی حصوں کو مکمل کرنے کے لیے 250 ملین روپے گرانٹ کی بھی منظوری دی۔
کابینہ نے محکمہ کالج ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ کیڈٹ کالج میں داخلے شروع کرکے فعال کیا جائے۔ واضح رہے کہ کیڈٹ کالج ککڑ 104.22 ایکڑ اراضی پر قائم کیا گیا ہے۔جرم اور سزا: ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ (ای ٹی اینڈ این سی ڈی) نے کابینہ کو بتایا کہ وہ منشیات کے تدارک اور منشیات فروشوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک قائم کرے۔ سخت قوانین اور ضوابط متعارف کرانے سے منشیات کی پیداوار، پروسیسنگ اور اسمگلنگ کو کنٹرول کیا جاسکتاہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ 46 ایکسائز پولیس تھانے ہیں جس میں 6 شہر کراچی میں قائم ہیں۔ نارکوٹکس کنٹرول کے پاس 333 کی سینکشن اسٹرینتھ ہے، ان میں سے صرف 27 فعال ہیں اور پچھلے پانچ سالوں کے دوران 791 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ محکمے میں کریمنل ریکارڈ آفس کا کوئی نظام نہیں ہے، اور ایف آئی آر کے مطابق سزا کے لیے فوری سسٹم تیار کیا جانا تھا۔
اختیارات کی منتقلی: صوبائی کابینہ نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلیٹیشن کے انتظامی کنٹرول کو محکمہ صحت سے ڈپارٹمینٹ آف پرسن وتھ ڈس ایبلٹیز (ڈی ای پی ڈی) کو منتقل کرنے کی منظوری دی کیونکہ سندھ ایمپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز (ایس ای پی ڈی) ایکٹ 2018 پرسن وتھ ڈس ایبلٹیز (پی ڈبلیو ڈیز) کے تمام حقوق کے تحفظ کے لیے ڈی ای پی ڈی کو ایک خصوصی مینڈیٹ دیتا ہے۔کابینہ نے ایس آئی پی ایم اینڈ آر ایکٹ 2019 میں ترمیم کی منظوری دی اور اسے نافذ کرنے کے لیے اسمبلی کو بھیج دیا۔سندھ کابینہ نے ڈیننگ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (ڈی آئی ای ٹی) کو چارٹر دینے کی منظوری دیتے ہوئے اسے قانونسازی کے لیے اسمبلی کو بھجوا دیا۔سندھ کابینہ نے جسٹس (ر) شاہنواز طارق کو 6 اپریل 2025 تا 5 اپریل 2029 تک مسلسل تیسری مدت (چار سال) کیلئے صوبائی محتسب مقرر کرنے کی منظوری دیدی۔سندھ کابینہ نے منشیات سے منسلک کاشت پر 7 سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے، منشیات بنانے اور جگہ کے استعمال پر 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد اور منشیات رکھنے پر ایک تا سات سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی منظوری دیدی۔ محکمہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس نے سزائیں اور جرمانہ تجویز کیا تھا۔ باٹم ٹرولنگ پر پابندی: محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز نے کابینہ کو بتایا کہ فشریز فوڈ سیکیورٹی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، معاشی مواقع فراہم کرتی ہے۔ باٹم ٹرولنگ سے مچھلیوں کی افزائش پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ باٹم ٹرولنگ حیاتیاتی تنوع اور سمندری وسائل کی تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔ نتیجتاً، ملک کے سمندری وسائل کو بڑے پیمانے پر دباؤ کا سامنا ہے اور مچھلی کے ذخیرے کے تحفظ میں پائیدار نفاذ کے اقدامات کی ضرورت ہے۔باٹم ٹرولنگ مچھلی پکڑنے کا ایک اندھا دھند طریقہ ہے کیونکہ بڑے، وزنی جالوں کو گھسیٹنا سمندری فرش سے ہر چیز کو صاف کر دیتا ہے۔ یہ سمندری کے قدرتی رہائش گاہوں کو بھی تباہ کرتا ہے اور پودوں اور جانوروں سمیت تمام آبی حیات کو متاثر کرتا ہے۔ باٹم ٹرولنگ سے سمندری زندگی اور سمندری ماحولیاتی نظام پر نقصان دہ اثر پڑتا ہے۔کابینہ نے فشریز رولز 1983 میں ترمیم کی منظوری دی۔ جس کے تحت کسی بھی شخص کو گھیرے ہوئے جال یا پرس سین نیٹ کے ساتھ مچھلی پکڑنے کی اجازت نہیں ہوگی جسے مقامی طور پر "وائر نیٹ” کہا جاتا ہے یا رنگ نیٹ اور نیچے ٹرال نیٹ جسے مقامی طور پر ٹرال یا گجا، گجو یا گجی کہا جاتا ہے۔ صوبے کے کریک علاقوں میں اور سندھ کے ساحل سے بارہ سمندری میل تک پابندی عائد ہوگی۔ چینی کی برآمد پر کیش فریٹ سپورٹ: محکمہ زراعت نے کابینہ کو بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ستمبر 2017 میں چینی کی برآمد کے لیے 10.70 روپے فی کلو کیش فریٹ سپورٹ کی منظوری دی تھی۔ اسٹیٹ بینک کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں برابر حصہ شوگر ملز کو ادا کرنا تھا۔ مزید برآں، سندھ حکومت نے چینی کی برآمد پر 9.30 فی کلو گرام کے اضافی کیش فریٹ کا اعلان کیا۔ تاہم وفاقی حکومتی اداروں کی جانب سے شوگر ملز کو ادائیگی روک دی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ کراچی نے بھی شوگر ملز کو واجب الادا رقوم جاری کرنے کی ہدایت جاری کردی۔ کابینہ نے 10.70 روپے فی کلو کے حساب سے کیش فریٹ سپورٹ کے 50 فیصد کے طور پر متعلقہ شوگر ملوں میں مزید تقسیم کے لیے اسٹیٹ بینک کو 3.3 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دی۔مزید برآں، کابینہ نے 281966700 روپے کی منظوری بھی دی، سندھ بینک کے ذریعے متعلقہ شوگر ملز کو اضافی کیش فریٹ سپورٹ کی مد میں 9.30 روپے فی کلو گرام کے حساب سے ادائیگیوں کی مزید تقسیم کے لیے۔کابینہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سندھ کے کین کمشنر متعلقہ شوگر ملز کو تصدیق کے بعد جاری کردہ رقوم کی تقسیم کے ذمہ دار ہوں گے۔
بینظیر ہاری کارڈ: سندھ کابینہ نے زیادہ سے زیادہ25 ایکڑ اراضی والے ہاریوں کو بینظیر ہاری کارڈ جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ گندم کی خریداری کے لیے مختلف قسم کی سبسڈیز، سہولیات، ریلیف، باردانہ کی تقسیم اور دیگر حکومتی سہولیات کا مقصد ہاریوں، آبادگاروں اور زرعی زمین کے مالکان کو بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے فراہم کی جائینگی۔






