وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کے نئے تعمیر شدہ، جدید طرز کے سیکریٹریٹ کمپلیکس کا افتتاح کیا اور اسے صوبے میں میرٹ پر مبنی بھرتیوں، ڈیجیٹل تبدیلی اور بہتر طرز حکمرانی کی جانب ایک سنگ میل قرار دیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو اور میئر حیدرآباد کاشف شورو بھی موجود تھے۔ چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن محمد وسیم اور اراکین نے وزیراعلیٰ کا استقبال کیا۔اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن نے پورے سندھ میں میرٹ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور ڈیجیٹل امتحانی نظام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ (سی بی ٹی) شفافیت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت اور قابل نوجوان سندھ کا روشن مستقبل ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت عوامی فلاح کے اقدامات میں مسلسل پیش پیش رہے گی۔چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن محمد وسیم نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک ایکڑ اراضی پر 2 ارب 49 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس جدید کمپلیکس میں ڈیجیٹل لائبریری، سی بی ٹی لیبارٹری، آڈیٹوریم، کیفے ٹیریا، جمنازیم اور مسجد شامل ہیں۔ نئی عمارت سے بیرونی مقامات پر انحصار کم ہوگا اور کمیشن کی انتظامی خودمختاری مزید مضبوط ہوگی۔وزیراعلیٰ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کمپلیکس کی تمام سہولیات کا معائنہ کیا اور عالمی معیار کی ڈیجیٹل لائبریری میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا، جس میں 300 سے زائد امیدواروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔انہیں بتایا گیا کہ جولائی 2022 سے دسمبر 2025 تک سندھ پبلک سروس کمیشن نے 36 محکموں میں 21 ہزار 504 تقرریوں کی سفارش کی جن میں محکمہ تعلیم میں 8 ہزار 666، صحت و سماجی بہبود میں 7 ہزار 357، بلدیات و تعمیرات میں ایک ہزار 696، قانون، امن و نظم و نسق میں ایک ہزار 965، زراعت، لائیواسٹاک و ماحولیات میں ایک ہزار 137 اور خزانہ و اقتصادی امور میں 149 تقرریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوان، ثقافت و اطلاعات کے شعبے میں 72 اور مسابقتی و خصوصی کیڈرز میں 462 سفارشات کی گئیں، جس سے اہم عوامی شعبوں میں خدمات کی فراہمی مضبوط ہوئی۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ 2 ہزار سے زائد امیدوار نئی سی بی ٹی لیبارٹری میں امتحان دے چکے ہیں۔ ون لنک آن لائن چالان نظام، ای لائبریری اور ڈیجیٹل امیدوار سہولت کاری کے آغاز سے رسائی اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ بھرتی انتظامی ضوابط 2023 کے نفاذ سے شفافیت، میرٹ کے تحفظ اور حکمرانی میں اصلاحات کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔متعلقہ قوانین کے تحت گریڈ 18 سے گریڈ 20 کے 16 افسران کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی گئی جس میں برطرفی، جبری ریٹائرمنٹ، ملازمت سے برطرفی اور ترقی روکنے سمیت سرزنش کی سزائیں شامل ہیں۔ ان اقدامات سے ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔مزید برآں وزیراعلیٰ کی منظوری سے کمیشن کے الاؤنس کو 20 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کر دیا گیا۔ ہیلتھ انشورنس کارڈز متعارف کروائے گئے، 100 سے زائد ملازمین کو ترقی دی گئی اور بی پی ایس 1 سے بی پی ایس 4 تک کے عملے کو ٹائم اسکیل اپ گریڈ دیا گیا۔ حیدرآباد اور کراچی میں دفاتر کی تزئین و آرائش، چیئرمین کے اینکس اور اراکین کی رہائش گاہوں کی بہتری کے اقدامات بھی کیے گئے تاکہ انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہو۔کمبائنڈ کمپیٹیٹو امتحانات (سی سی ای) 2020، 2021 اور 2023 کامیابی سے منعقد کیے گئے جبکہ سی سی ای 2023 کے حتمی نتائج فروری 2026 میں جاری کیے گئے۔ قابل ذکر طور پر پاکستان میں شیڈولڈ کاسٹ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پہلے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) علیزر شوائز، جن کی عمر 24 سال ہے، کو سندھ پولیس میں تعینات کیا گیا، جو محروم طبقات کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔سی سی ای 2023 میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی فاطمہ شکیل، جو انگریزی زبان و ادب میں گریجویٹ ہیں، کو صوبائی مینجمنٹ سروس میں تعینات کیا گیا ہے اور وہ سینٹرل سپیریئر سروس (سی ایس ایس) کے لیے بھی اہل ہیں اور اس وقت سول سروسز اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ اسی طرح معرَاج یوسف میرانی نے ساتویں پوزیشن حاصل کی اور انہیں صوبائی مینجمنٹ سروس میں اسسٹنٹ کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔یہ نتائج سی سی ای 2023 میں تنوع اور میرٹ پر مبنی انتخاب کو اجاگر کرتے ہیں اور سندھ پبلک سروس کمیشن کے انصاف، شمولیت اور بہتر طرز حکمرانی کے عزم کی توثیق کرتے ہیں۔سی سی ای 2024 کا تحریری امتحان دسمبر 2025 میں منعقد ہوا جبکہ سی سی ای 2025 کے اسکریننگ ٹیسٹ کا انعقاد 28 مارچ 2026 کو شیڈول ہے۔ کمیشن نے 2020 میں 101، 2021 میں 73 اور 2023 میں 152 امیدواروں کی سفارش کی۔ اعلیٰ عدلیہ کی ہدایات کے مطابق امتحانات کا شیڈول بھی ہم آہنگ کیا گیا ہے۔کمیشن کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرٹ، شفافیت اور ڈیجیٹل تبدیلی حکمرانی کو مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سندھ پبلک سروس کمیشن کمپلیکس صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ترقی اور خوشحالی کا مرکز ہے۔ بعد ازاں انہوں نے ڈیجیٹل لائبریری کا دورہ کیا اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔
Read Next
4 گھنٹے ago
سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں کا خصوصی آڈٹ کروانے کا فیصلہ،وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
1 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نگرپارکر ایمبولنس حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کےلئے معاوضے کا اعلان*
1 دن ago
Sindh CM Murad Ali Shah, Chinese consul discuss finalising G2G agreements
2 دن ago
سندھ ویژن پروگرام،سکھر کے بلدیاتی سربراہان کا اہم اجلاس
2 دن ago
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کے اعزاز میں عشائیے میں شرکت
Related Articles
مراد علی شاہ اورامجد حسین کی ملاقات،سندھ اور گلگت بلتستان کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
3 دن ago
موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی معیشت، زراعت، شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور عوام کے لئے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے وزیر بلدیات سندھ
3 دن ago
سندھ سلیکشن بورڈ 2 کا اجلاس،مختلف محکموں کے 542 افسران کی گریڈ 18 سے 19میں ترقیوں کی سفارش
1 ہفتہ ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے نونیڈو کے وفد کی ملاقات*
1 ہفتہ ago

