میٹرو بس سروس کے بغیر سیریل نمبرنئے ٹوکن، کرپشن کی دوکان

یہ ٹکٹ کتنے پرنٹ ہوئے، کوئی نہیں بتا سکتا۔ اگر کہا جائے کہ ان ٹکٹوں کی اتنی گڈیاں پرنٹ ہوئی تھیں تو آڈٹ کا بس یہی ایک طریقہ ہو گا۔

اس میں سب سے بڑی قباحت کاغذی ٹکٹ کا بار بار پرنٹ ہونا ہے۔

آپ نے جب پلاسٹک کے سکے بنوا لیئے تھے جو کہ کئی سالوں سے چل رہے تھے اور کمپیوٹرائزڈ بھی تھے، جن کا ریکارڈ بھی تھا کہ کتنے ٹکٹ سیل ہوئے، اور آڈٹ بھی ممکن تھا اب ان کو ختم کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اور اب ان پرانے سکوں کا کیا ہو گا؟

پہلے ٹکٹ کائونٹر سے پلاسٹک کا سکہ ملنے سے پہلے اس کی کمپوٹرائزڈ مشین میں اینٹری ہوتی تھی۔ پھر وہ سکہ پلیٹفارم پر داخلہ کے لیئے مشین پر رکھا جاتا تھا تو مشین دیکھ لیتی تھی کہ یہ سکہ اصل ہے، ہمارے سسٹم میں اس کا اندراج ہے اور لینے والے نے پیسے دیئے، تب جا کر کسی کے لئے میٹرو بس میں سفر کرنا ممکن ہوتا تھا۔ اب کاغذی تکٹ کی کوئی اینٹری نہیں ہے، پلیٹفارم پر چڑھتے وقت ایک صاحب ٹکٹ دیکھ کر داخلہ کی اجازت دیتے ہیں۔ اور واپسی پر ایک اور صاحب ٹکٹ واپس لیتے ہیں۔ واپس دیئے گئے ٹکٹس کیونکہ کمپوٹرائزڈ نہیں ہیں، ان کے سیریل نمبرز بھی نہیں ہیں تو دوبارہ استعمال ہو سکتے ہیں۔

کمپیوٹر انجینیئر ہونے کے ناطے میں اپکو بتاتا چلوں کہ یہ کرپشن کی غضب کہانی شروع ہو رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button