وزیر اعلٰی مریم نواز شریف کی ہدایت پر اربن فلڈنگ کے مستقبل میں سدباب کے لئے جامع منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) کے تحت شہروں میں برساتی پانی کے ذخائر کی سکیموں پر ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے گا۔ اجلاس میں سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ رضوان نصیر، ایڈیشنل سیکرٹری احمر کیفی اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اربن فلڈنگ کی روک تھام کیلئے جامع منصوبے پر غور کیا گیا۔

وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تمام شہروں میں مرحلہ وار سیوریج، گلیوں کی تعمیرو مرمت، نکاسی آب کی سکیموں کا آغاز ہو رہا ہے۔ شہروں میں برساتی پانی کے نکاس کے لئے سٹوریج ٹینک بنائے جائیں گے۔ پنجاب میں حالیہ اربن فلڈنگ کے تناظر میں واٹر ٹینک بنانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ ان ٹینکوں میں جمع بارانی پانی کے استعمال سے جہاں زیر زمین ذخیرے پر دبائو کم ہوگا وہاں اربن فلڈنگ میں بھی کمی آئے گی۔ اجلاس میں وزیراعلٰی کو 52 شہروں میں کام شروع کرنے کیلئے سمری بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شہروں کے موجودہ انفراسٹرکچر کو اگلے 25 سال کی ضرورت پوری کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ ان سکیموں کی تکمیل سے اربن فلڈنگ کا سدباب ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں زیادہ صلاحیت والے ڈسپوزل سٹیشن لگائے جائیں گے۔ انہوں نے اجلاس میں دی گئی بریفنگ پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ سیوریج کے لئے لائننگ والے بڑے قُطر کے پائپ کے استعمال سے بہتر نتائج ملیں گے۔ لائننگ پائپ کی عمر عموماً 100 سال ہوتی ہے۔ اس طرح سیوریج کے مسائل حل بخوبی حل ہو سکیں گے۔ صوبائی وزیر نے منصوبے پر جلد عملدرآمد کے لئے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی فوری تشکیل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کے لئے پروفیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر کا انتخاب کر رہے ہیں۔ پنجاب میں جاری موجودہ بارشوں اور سیلاب کے تجربے سے سیکھ کر آگے بڑھا جائے۔ وزیراعلی مریم نواز نے پی ڈی پی کے لئے ہر طرح کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کی طرز پر تمام شہروں میں میونسپل سکیمیں مکمل کریں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پراجیکٹ کی مقررہ ٹائم لائن میں تکمیل یقینی بنائی جائے۔





