کراچی(خصوصی رپورٹ۔اسلم شاہ)چیف ایگزیکٹو آفیسرز KWSC صلاح الدین احمد، ورلڈ بینک اور چیف سیکریٹری سندھ کی اجازت سے تین ماہ کی طویل رخصت لیکر تربیت پر نیپا چلے گئے، ان کے مستقبل کا فیصلہ جلد ہونے کا امکان نہیں،ان کی عدم موجودگی میں قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر اسد اللہ خان ادارے کے نگران ہوں گے۔ اس وقت اینٹی کرپشن پولیس KWSC کے چیف ایگزیکٹو آفیسر صلاح الدین احمد سمیت 60 سے زائد ادارے کے افسران کے خلاف تحقیقات کررہی ہے۔ حتمی رائے یا رپورٹ مرتب نہ ہونے پر تحقیقات کی مدت میں 15دن یعنی دو ہفتہ بڑھا دیا گیا ہے، اس امر کی تصدیق اینٹی کرپشن حکام نے کی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر تحقیقات کے دوران KWSC میں ہلچل مچ گئی ہے۔ سب سوئل واٹر اور پانی کی چوری میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آنے پر ادارے کے چیف انجینئرز، سپریٹنڈنٹ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز سمیت دیگر افسران سے بیان حلفی جمع کرایا گیا ہے جن میں ان کے کنٹرول علاقوں میں ہائیڈرنٹس،سب سوئل واٹر کے ساتھ ساتھ پانی چوری کے کنکشن موجود نہیں ہیں اور نہ وہ اس میں وہ ملوث ہیں،جس کی وجہ سے کراچی میں پانی کا بحران ختم نہ ہوسکا اور شہری مستقل اذیت کا شکار ہیں۔ پانی کی لائنوں سے پانی کی چوری کا سلسلہ افسران کی ملی بھگت سے عرصہ دراز سے جاری ہے، تحقیقات کے بعد غیر قانونی ہائیڈرنٹس، غیر قانونی سب سوئل کے ساتھ ساتھ KWSC میں پانی چوری میں ملوث افسران کے بے نقاب ہونے کی توقع ہے۔ مبینہ طور پر اینٹی کرپشن حکام نے اس امر کی تصدیق بھی کی ہے کہ انتے بڑے پیمانے پر تحقیقات کے دوران رپورٹ مرتب کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے اور رپورٹ یومیہ بنیاد پر اعلیٰ حکام کو دی جارہی ہے اور اس میں تجویز یا سفارشات کے ساتھ نئی گائیڈ لائن بھی لی جاتی ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، سب سوئل واٹر کے لائسنس اور پانی چوری پر تحقیقات کا عمل دو ہفتہ یعنی 24 جنوری تک مکمل ہونا تھی لیکن تحقیقات مکمل نہ ہونے پر چیئرمین انکوائری کمیٹی کو یہ اختیار ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہ ہو اس کی مدت میں توسیع کر سکتے ہیں، اب یہ مدت بڑھا دی گئی ہے، مبینہ طور پر اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ سب سوئل واٹر اور پانی چوری کے دوران اربوں روپے بنائے گئے جبکہ سب سوئل واٹر ایکٹ کے تحت زیر زمین پانی لکالنے کی رجسٹریشن میں بڑ ے پیمانے پر خلاف ورزی سامنے آنے کے باوجود کسی کے خلاف کاروائی نہ ہوسکی اور نہ ہی اس میں کسی کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ صلاح الدین احمد نے لائسنس کی منسوخی کے بعد سب سوئل واٹر کی کمپنیوں کے کروڑوں روپے سرمایہ کاری کے ساتھ اس میں کروڑوں روپے رشوت کمیشن وصول کرنے والے افسران کے خلاف کاروائی نہ کی تھی۔ حال ہی میں انچارج سب سوئل واٹر تابش رضا جو حساس اداروں کی تحویل سے 18 دن کے بعد واپسی ائے تھے انہیں ایک اور تحقیقاتی ادارہ اپنے ہمراہ لے گئے تھے وہ اب بھی حراست سے باہر آنے کے باوجود نام معلوم مقام پر روپوش ہیں جبکہ قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر اسد اللہ خان کے اسٹاف آفیسر موہن لال کی گمشدگی ادارے میں معمہ بنی ہوئی ہے، اب تک انہیں تحویل میں لینے کی کسی ادارے نے نہ تصدیق کی اور نہ کوئی مقدمہ درج ہوا ہے، ان کے گھر والوں نے موہن لال کی گمشدگی پر اب تک عدالت سے رجوع نہیں کیا ہے۔ ان کو ان کے گھر سے نکلتے ہی نامعلوم افراد اپنے ہمراہ لے گئے تھے تاہم تابش رضا اپنے دفتر ایک دن کے لیئے تشریف لائے تھے اس کے بعد سے پراسرار طور پر غائب ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تابش رضا نے حراست کے دوران اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا جس کی وجہ سے وہ خوف زدہ ہیں کہ ان میں کتنی سجائی ہے کتنا جھوٹ بولا ہے اس کی چھان بین تحقیقاتی ادارے تاحال کر رہے ہیں۔ کارپوریشن میں مختلف چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ صلاح الدین احمد کے واپس آنے اور ایک بار پھر چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر بحال ہونے کی توقع معدوم ہوگئی ہے۔ ان کی بحالی صرف تحقیقات کی روشنی میں ہونے والے فیصلے پر امکان ہے، تاہم عارضی طور پر کسی نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری مسترد کر دی گئی ہے۔ رپورٹ مرتب ہونے تک اسداللہ خان ہی چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات رہیں گے۔ اینٹی کرپشن ایسٹ زون کی جانب سے انسپکٹر عباس علی لاڑک اور اس کی مشترکہ ٹیم تحقیقات کر رہی ہے جبکہ چیئرمین تحقیقاتی کمیٹی و ڈائریکٹر امیتاز علی ابڑو کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ٹریننگ پر چلے جانے میں کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں ہے تاہم تحقیقات میں دو ہفتے کی توسیع کردی گئی ہے اور تحقیقات مکمل نہ ہونے پر مدت میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ لائسنس کے اجراء میں زمین کی ملکیت، کرائے نامے کی دستاویزات بھی موجود نہیں تھی۔ ڈپٹی کمشنروں کی این او سی بھی نہیں تھی۔ سب سوئل کا سسٹم لگانے کا ماسٹر پلان، لے آوٹ پلان بھی موجود نہ تھا۔ فنی طور پر کئی اداروں کے اجازت نامے بھی موجود نہ تھے۔ صنعتی زون میں ایسوسی ایشن سے اجازت نامہ بھی بعض درخواستوں کے ساتھ موجود نہ تھا۔ سب سوئل میں کام کرنے والے لائسنس کے تمام معاملات کی شفافیت سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کے دوران سب سوئل واٹر پر بننے والی کمیٹی کے سربراہ چیف انجینئر اویس ملک کے ساتھ دلاور جعفری،خالد فاروقی،عبید الرحمن اور سید حسن عباس شامل تھے۔ ان تمام افسران کے بیان کی روشنی میں تمام چیف انجینئرز، سپریٹنڈنٹ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز کے علاوہ ہائیڈرنٹس سیل سب سوئل واٹر، اینٹی تھیفٹ سیل کے ساتھ ریونیو اور دیگر محکموں کے افسران سے بھی اینٹی کرپشن پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے جبکہ ایک مشترکہ ٹیم ڈائریکٹر امتیاز علی ابڑو، ڈپٹی ڈائریکٹر صوفی الحکیم، حفیظ چاچڑ، ڈپٹی ڈائریکٹر سید عارف حسین شاہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد امین بھٹی اور انسپکٹر عباس علی لاڑک پر مشتمل شامل ہے۔ تحقیقات کے دوران بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے اسباب معلوم کرنے کے لئے روزانہ افسران کو بلایا جارہا ہے ان کے بیان لیئے جارہے ہیں۔ اینٹی کرپشن کے دفتر میں ادارے کے افسران کی آمد پر صبح سے شام تک بیانات لیئے جارہے ہیں۔اینٹی کرپشن پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کی روشنی میں حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سب سوئل واٹر کے لائسنس کی تعداد کتنی ہے اس میں حقائق کیا ہیں۔ 57 لائسنس منسوخ کرنے کا باضابطہ حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ کمیٹی کے سب سے بڑے اور اہم رکن ایگزیکٹو انجینئر محمد دلاور جعفری کو عہدے کے بعد ان کا بیان بہت اہم ہے۔ تابش رضا کو جب سے تعینات کیا گیا تھا اس وقت سے مبینہ طور پر سب سوئل واٹر میں کروڑں روپے کا گھناؤنا کھیل جو عرصہ دراز سے جاری ہے بڑھ گیا تھا۔ کئی لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیاں اربوں روپے کی مالک بن گئی ہیں، ان میں اکثریت کراچی کے پانی کی لائنوں سے پانی چوری کے جرم میں ملوث تھے۔ ایک بڑے آپریشن کے دوران 17 کمپنیوں کے لائسنس معطل کرکے ان کے خلاف پانی چوری کے 64 مقدمات درج ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ کارپوریشن کے ایکٹ پر اب تک عملدرآمد نہ ہوسکا۔ ایکٹ کے تحت تھانے کا قیام، ٹریبونلز اور ججز کی تقرری جو سیشن جج کی سطع پر ہو گی۔ان کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ پانی اور سیوریج کے ماہرین کی تقرری کا معاملہ سرد خانے کی نذر ہوگیا ہے۔ لائسنس بغیر کسی شرائط اور این او سی کے بھاری رشوت لیکر جاری کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے، جن میں 17 کمپنیاں پر پانی چوری کے الزامات میں مقدمات بھی درج ہوئے تھے۔ کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 57 لائسنس سے تقریبا 50 کروڑ روپے صرف رشوت اور کمیشن کی مد میں بھتہ جمع ہوا تھا۔ تحقیقات کے دوران کئی امور میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی سامنے آئی ہے اب انتظامی امور بھی نشانہ پر ہیں۔
Read Next
11 گھنٹے ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آبادی میں بےقابو اضافے کو سنگین سماجی اور معاشی چیلنج قرار دے دیا
2 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے چیئرمین نیب کی ملاقات، واگذار زمین صوبائی حکومت کے حوالے*
3 دن ago
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے فنانس کا اہم اجلاس وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد،متعدد منصوبوں کی منظوری
4 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس،سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امداد اور بحالی کا جامع پیکج منظور
4 دن ago
میئر ایڈووکیٹ انور علی لہر صاحب کی زیرِ صدارت میونسپل کارپوریشن لاڑکانہ کا عام روایتی اجلاس
Related Articles
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 6.135 ارب روپے سے تعمیر شدہ کورنگی کاز وے پل کا افتتاح کردیا*
4 دن ago
حضرت لال شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے7 سے9 فروری 2026 تک جاری رہنے والے سہ روزہ عرس مبارک کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ
1 ہفتہ ago
وزیراعلیٰ سندھ کا سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے پیکج کا اعلان،تمام امدادی اداروں کو ایک ہی کمان میں دینے کا فیصلہ
1 ہفتہ ago



