وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں گندم کے کاشتکاروں کی معاونت مضبوط بنانے کے لیے جامع پیکیج کی منظوری، اراضی کی ملکیت کے حقوق کی الیکٹرانک منتقلی کے لیے ڈیجیٹل اور بلاک چین پر مبنی نظام کے آغاز اور کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) میں 13 منزلہ، 445 بستروں پر مشتمل بلقیس اینڈ عبد الستار ایدھی میڈیکل ٹاور کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے فوجداری استغاثہ سروس میں اصلاحات، سندھ اسپورٹس پالیسی، اعلیٰ تعلیم سے متعلق ترامیم اور صحت عامہ، ٹیکسز، بلدیاتی حکومت، محنت، اراضی انتظامیہ اور نوجوانوں کی ترقی سے متعلق کئی دیگر اقدامات کی بھی منظوری دی۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں 23 نکاتی ایجنڈا پر غور کیا گیا اور کاشتکاروں کی معاونت مضبوط بنانے، صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، عوامی خدمات کو جدید بنانے اور ادارہ جاتی نظم و نسق بہتر بنانے کے لیے فیصلے کیے گئے۔
*گندم کے کاشتکاروں کے لیے معاونتی پیکیج*
کابینہ نے وزیر زراعت محمد خان بگس مہر کی سربراہی میں قائم وزارتی ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے گندم کے کاشتکاروں کے لیے اضافی معاونتی پیکیج کی منظوری دی۔ذیلی کمیٹی نے ڈی اے پی کھاد کی متوقع قیمت میں اضافے، سبسڈی کے آپشنز، گندم کی خریداری کی ترغیبات، امدادی قیمت اور مستحقین کی ڈیجیٹل تصدیقی نظام میں بہتری کا جائزہ لیا تھا۔منظور شدہ طریقہ کار کے تحت اہل گندم کاشتکاروں کو ڈی اے پی کھاد یا منظور شدہ متبادل کی خریداری کے لیے مقررہ سبسڈی دی جائے گی، جبکہ محکمہ خوراک کو گندم فراہم کرنے والے کاشتکاروں کو فراہم کردہ گندم کی مقدار سے منسلک اضافی سبسڈی دی جائے گی۔کابینہ نے محکمہ خوراک کو گندم فراہم کرنے والے کاشتکاروں کے لیے اضافی سبسڈی ایک ہزار روپے سے بڑھا کر دو ہزار روپے فی من کردی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اس پیکیج سے سندھ بھر کے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار گندم کاشتکار مستفید ہوں گے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ گزشتہ خریداری کے سیزن کے دوران 56 ہزار 741 کاشتکاروں نے محکمہ خوراک کو گندم فراہم کی، جس کے لیے 4 لاکھ 13 ہزار 507 ایکڑ اراضی پر کاشت کی گئی گندم شامل تھی اور 20 لاکھ 40 ہزار سے زائد من گندم فراہم کی گئی۔منظور شدہ سبسڈی پیکیج کا تخمینہ تقریباً 14.9 ارب روپے ہے جبکہ محکمہ خوراک کو فراہم کی گئی گندم کے لیے اضافی ترغیب مجموعی مختص رقم کو تقریباً 16 ارب روپے تک لے جاسکتی ہے، تاہم یہ حتمی تصدیق اور ادائیگی سے مشروط ہوگی۔وزیراعلیٰ نے 25 ایکڑ تک اراضی رکھنے والے گندم کاشتکاروں کی سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام (ایس ڈبلیو جی ایس پی) کے تحت نئی رجسٹریشن کی ہدایت کی۔موجودہ مستحقین کی دوبارہ تصدیق محکمہ ریونیو کے ذریعے کی جائے گی جبکہ نئے درخواست گزاروں کی رجسٹریشن ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کی جائے گی، جس کا مقصد دوہری اور غیر اہل اندراجات کا خاتمہ ہے۔محکمہ زراعت کو موجودہ ڈیجیٹل ایپلی کیشن بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی، جبکہ سبسڈی کی رقوم سندھ بینک کے ذریعے مستحقین کے بینظیر ہاری کارڈ اکاؤنٹس میں براہ راست منتقل کی جائیں گی۔
کابینہ نے 2026-27 کے لیے گندم کی امدادی قیمت سے متعلق فیصلہ مشاورت اور مالی جائزوں کی تکمیل کے لیے مؤخر کردیا۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پیکیج پر شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور کاشتکار دوست انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے بھر میں حقیقی کاشتکاروں تک معاونت پہنچ سکے۔
*این آئی سی ایچ میں ایدھی میڈیکل ٹاور*
صحت عامہ کے ایک بڑے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت کابینہ نے کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں عبد الستار ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 13 منزلہ، 445 بستروں پر مشتمل بلقیس اینڈ عبد الستار ایدھی میڈیکل ٹاور کی تعمیر کی منظوری دی۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 17 ملین ڈالر مالیت کے منصوبے کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے 10 ملین ڈالر اور سندھ حکومت کی جانب سے 7 ملین ڈالر کی گرانٹ ان ایڈ فراہم کی جائے گی، جو مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے دوران دو مساوی اقساط میں جاری کی جائے گی۔کابینہ نے فیصل ایدھی کی سربراہی میں پروجیکٹ سپروائزری کمیٹی کی بھی منظوری دی، جو منصوبے پر عملدرآمد، مالی شفافیت اور حکومتی فنڈز کے استعمال کی نگرانی کرے گی۔
*بلاک چین پر مبنی اراضی منتقلی کا نظام آزمائشی بنیادوں پر شروع*
صوبائی کابینہ نے تین آزمائشی دیہوں، ضلع مٹیاری کی مٹیاری اور پلیجانی اور ضلع سکھر کی دیہہ بگھیجی میں ڈیجیٹلائزیشن اور ای-ٹرانسفر آف ٹائٹل سسٹم شروع کرنے کی منظوری دی۔یہ اقدام اراضی انتظامیہ کو جدید بنانے اور جائیداد کے لین دین کو تیز، شفاف اور شہری دوست بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔سکھر آئی بی اے یونیورسٹی نے بورڈ آف ریونیو کے تعاون سے یہ آئی ٹی پر مبنی نظام تیار کیا ہے، جو تینوں آزمائشی دیہوں کے دستی اراضی ریکارڈ کی 100 فیصد ڈیجیٹلائزیشن اور تیاری کے بعد عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔
نیا نظام اراضی کی ملکیت کے حقوق کی الیکٹرانک منتقلی کے لیے محفوظ، بغیر بالمشافہ رابطے اور ون ونڈو طریقہ کار فراہم کرے گا، جو دستاویزات کی رجسٹریشن کے بعد انتقال کے موجودہ طریقہ کار کی جگہ لے گا۔یہ نظام ایف بی آر، نادرا اور سندھ ای-اسٹیمپنگ سسٹم کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس کے ذریعے منسلک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر تصدیق اور کارروائی ممکن ہوگی۔نئے انتظام کے تحت تمام کھاتہ داروں، یعنی زمین کے مالکان، کو محفوظ آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے اراضی ریکارڈ تک مفت رسائی حاصل ہوگی۔وہ علیحدہ سیل سرٹیفکیٹ کے بغیر اپنی جائیداد کو الیکٹرانک طریقے سے فروخت، خرید، تحفہ یا کسی اور طریقے سے منتقل کرسکیں گے۔صرف بائیومیٹرک تصدیق کے لیے ایک مرتبہ بالمشافہ حاضری ضروری ہوگی، جس کے بعد لین دین ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مکمل کیا جاسکے گا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ تمام اضلاع میں پہلے سے کام کرنے والے پیپلز سروس سینٹرز، زمین مالکان کو نظام تک رسائی، بائیومیٹرک تصدیق اور دیگر ضروری کارروائی مکمل کرنے میں سہولت فراہم کریں گے۔ضرورت پڑنے پر وسیع تر رسائی یقینی بنانے کے لیے تحصیل کی سطح پر اضافی مراکز بھی قائم کیے جاسکتے ہیں۔ہر جائیداد کے لیے ایک پراپرٹی کارڈ بھی تیار کرکے متعلقہ مالک کو فراہم کیا جائے گا، جس سے شہریوں کو اپنی جائیداد کے حقوق کا محفوظ اور باآسانی دستیاب ریکارڈ حاصل ہوگا۔
آزمائشی منصوبے پر عملدرآمد میں سہولت کے لیے کابینہ نے تین قانونی اقدامات کی منظوری دی، جن میں ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882، سندھ رجسٹریشن ایکٹ 1908 اور سندھ ای-کنوینس رولز 2026 سے متعلق نوٹیفکیشن شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام کو شہری مرکز، عوام دوست اور شفاف اراضی انتظامیہ کے نظام کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد فراڈ، تنازعات اور طریقہ کار میں تاخیر کم کرنا، ریکارڈ کا تحفظ بہتر بنانا اور جائیداد کے لین دین میں شفافیت اور جوابدہی مضبوط کرنا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اس سے بہتر اراضی استعمال کی منصوبہ بندی، شہریوں کی خدمات تک رسائی میں بہتری اور زیادہ مؤثر و جدید اراضی حکمرانی میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
*فوجداری استغاثہ سروس میں اصلاحات*
کابینہ نے سندھ کریمنل پراسیکیوشن سروس (تشکیل، فرائض اور اختیارات) (ترمیمی) بل 2026 کے مسودے کی منظوری دی، جس کے تحت اعلیٰ سطح کے پراسیکیوشن عہدوں کے لیے منظم ترقی کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (بی ایس-18)، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (بی ایس-19)، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل (بی ایس-18) اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل (بی ایس-19) کے عہدوں پر براہ راست بھرتی ختم کردی جائے گی اور یہ عہدے ترقی کے ذریعے پُر کیے جائیں گے۔اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر اور اسسٹنٹ پراسیکیوٹر جنرل، دونوں بی ایس-17 کے عہدے، ابتدائی سطح کے عہدے برقرار رہیں گے، جن پر سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 100 فیصد براہ راست بھرتی ہوگی۔ترمیم کے تحت وزیر قانون کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ غیر معمولی پیچیدگی یا عوامی اہمیت کے مقدمات کے لیے اہل پراسیکیوٹرز کو عارضی کنٹریکٹ کی بنیاد پر مقرر کرسکیں، جبکہ باقاعدہ کیڈر متاثر نہیں ہوگا۔
*سندھ اسپورٹس پالیسی کی منظوری*
کابینہ نے سندھ اسپورٹس پالیسی کی باضابطہ منظوری دے دی، جس کا مقصد ’’سب کے لیے کھیل‘‘ کے وژن کے تحت جامع اور مسابقتی کھیلوں کا ماحول پیدا کرنا ہے۔پالیسی میں ٹیلنٹ کی نشاندہی، مساوی مواقع، تعلیمی اداروں میں جسمانی تعلیم کی بحالی اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے۔اس میں ڈویژنل اسپورٹس سٹیز، ضلعی سطح کے اسپورٹس کمپلیکس، تحصیل کی سطح پر کثیرالمقاصد سہولیات، اسپورٹس ہاسٹلز، اکیڈمیز اور کھیلوں کی سائنس و اینٹی ڈوپنگ کی خصوصی سہولیات بھی شامل ہیں۔ سندھ اسپورٹس بورڈ تحصیل کی سطح تک منظم انتظامی نظام کی نگرانی کرے گا۔پالیسی میں ضابطہ اخلاق، ملازمتوں میں کوٹے، مستحق کھلاڑیوں کے لیے وظائف اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے فلاحی اقدامات بھی شامل ہیں۔کابینہ نے نظرثانی شدہ نیشنل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ پالیسی پر سندھ کی تجاویز کی بھی منظوری دی، جن میں مجوزہ صوبائی اور ضلعی یوتھ کونسلز میں دیہی، ساحلی اور موسمیاتی خطرات سے دوچار نوجوانوں کی زیادہ نمائندگی، طلبہ یونینز کے لیے غیر جماعتی فریم ورک اور صوبائی گرین اسکلز فریم ورک کی سفارشات شامل ہیں۔
*اعلیٰ تعلیم سے متعلق ترامیم کی منظوری*
کابینہ نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (سائٹ) ایکٹ 2025 میں ترامیم کی منظوری دی، جن کے تحت سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2010 کے تحت نجی شراکت داروں کو قانونی اختیارات محدود اور مقررہ مدت کے لیے منتقل کیے جاسکیں گے، تاہم اس کے لیے وزیراعلیٰ کی منظوری اور ضابطہ کار کی نگرانی ضروری ہوگی۔کابینہ نے قلندر شہباز یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز (ترمیمی) بل 2026 کی بھی منظوری دی، جس کے تحت یونیورسٹی کا قانونی مقام ٹنڈو محمد خان سے کراچی منتقل کیا جائے گا، اس کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا اور مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، روبوٹکس اور پائیدار علوم سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں تک اس کے تعلیمی دائرہ کار کو وسعت دی جائے گی۔
*ایس آئی یو ٹی کو 55 کروڑ 51 لاکھ 30 ہزار روپے انفراسٹرکچر سیس سے استثنی*
کابینہ نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کو طبی آلات کی درآمد پر 55 کروڑ 51 لاکھ 30 ہزار روپے کے انفراسٹرکچر سیس سے دیے گئے استثنیٰ کی توثیق کردی۔ یہ استثنیٰ مئی سے ستمبر 2026 کے دوران کلیئر ہونے والی 154 کھیپوں پر لاگو ہوا، جن کی مجموعی تخمینہ شدہ مالیت تقریباً 30.07 ارب روپے ہے۔
*موٹر گاڑیوں کے ٹیکس ایف بی آر ریفنڈ سے مشروط*
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ موٹر گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس کی بحالی اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس کی وصولی وفاقی بورڈ آف ریونیو سے واجب الادا بقایا ریفنڈ کی وصولی اور متعلقہ مالی و قانونی معاملات کے حل سے مشروط رہے گی۔صوبائی حکومت نے باقی 10 ارب روپے کا ریفنڈ جاری کرنے، زیر التوا دعووں کے بارے میں پابند عہد اور مستقبل میں ٹیکس وصولی کے کسی بھی انتظام کے لیے باہمی طور پر متفقہ اور آئین سے ہم آہنگ طریقہ کار کا مطالبہ کیا۔
*اینٹی ڈیفیسمنٹ قانون بلدیاتی محکمے کو منتقل*
ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں کابینہ نے پریونشن آف ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ 2013 کی انتظامی ذمہ داری محکمہ داخلہ سے محکمہ بلدیات و ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔
محکمے کو ہدایت کی گئی کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 سے موجودہ قانون کے تضادات دور کرنے کے لیے قانون کا جائزہ لیا جائے، تاہم اس کی وسیع تر تعریفیں اور اخراجات کی وصولی سے متعلق دفعات برقرار رکھی جائیں۔ کابینہ کمیٹی عملدرآمد اور قانونی ہم آہنگی کی نگرانی کرے گی۔
*انٹیلی جنس بیورو کے دفتر کے لیے اراضی مختص*
کابینہ نے ضلع ہیڈکوارٹرز کمپلیکس جامشورو کے قریب دیہہ سونوالہار، تعلقہ کوٹری میں 20 ہزار مربع فٹ اراضی انٹیلی جنس بیورو کے حق میں 99 سالہ لیز پر دینے کی منظوری دی، جہاں اس کا دفتر تعمیر کیا جائے گا۔
*این ایچ ایس پی معاہدے میں توسیع*
کابینہ نے نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام سندھ کے پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر صاحب جان بدر کے معاہدے میں توسیع کی منظوری دی، جو عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کی تکمیل تک جاری رہے گا، کیونکہ باقی اہداف کے حصول کے لیے قیادت میں تسلسل ضروری تھا۔
*ورکرز ویلفیئر بورڈ کی خالی نشستیں پُر*
کابینہ نے 12 رجسٹرڈ لیبر فیڈریشنز سے موصول ہونے والی نامزدگیوں کے بعد حبیب الدین جنیدی، سید ذوالفقار علی شاہ اور ناصر عزیز منصور کو سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں ورکرز نمائندگان مقرر کرنے کی منظوری دی۔
*وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کا جائزہ*
کابینہ نے وفاقی فنڈز سے چلنے والی وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم 2026 پر صوبے بھر میں عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا، جو سابق پیپلز فیول سبسڈی پروگرام کی جگہ متعارف کرائی گئی ہے۔نئی اسکیم کے تحت اہل دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو فی لیٹر 100 روپے ریلیف دیا جائے گا، جو ہفتہ وار زیادہ سے زیادہ پانچ لیٹر اور ماہانہ 20 لیٹر تک ہوگا۔ جبکہ 800 سی سی تک کی نجی گاڑیاں ہر 10 دن میں زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر، ماہانہ حد 30 لیٹر کے ساتھ اسی ریلیف کی اہل ہوں گی۔ رجسٹریشن ایس ایم ایس کے ذریعے 9771 پر کی جارہی ہے، جس کے بعد فیول پاس ایپ کے ذریعے واؤچر کی وصولی کی جائے گی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ میں ممکنہ طور پر اہل گاڑیوں کی تعداد تقریباً 67 لاکھ 60 ہزار ہے، جن میں 55 لاکھ 10 ہزار موٹر سائیکلیں، 3 لاکھ 38 ہزار 344 تین پہیوں والی گاڑیاں اور 9 لاکھ 9 ہزار 436 چھوٹی گاڑیاں شامل ہیں۔ صوبے کے لیے وفاقی ریلیف کی ممکنہ رقم تقریباً 14.43 ارب روپے ماہانہ ہے۔سندھ حکومت نے اسکیم سے متعلق عوامی آگاہی میں تعاون پر اتفاق کیا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ مقامی زبانوں میں دو لسانی سائن بورڈز لگانے اور شریک پٹرول اسٹیشنز کی مکمل فہرستیں جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے۔





