وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور طویل خشک سالی کی وجہ سے ہمارے کسان اور دیگر کمزور طبقے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ زراعت ہماری معیشت کا ایک بڑا حصہ ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے، اس لیے اس شعبے کا تحفظ بہت ضروری ہے۔ حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے انشورنس منصوبے اور خطرات میں شراکت داری کے نظام بہت ضروری ہیں تاکہ کمزور طبقے کو سستا اور آسان انشورنس فراہم کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز مقامی ہوٹل میں سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے تحت منعقدہ انشور-امپیکٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس میں ایس ای سی پی کو انشور-امپیکٹ کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں وزیر اعلٰی سندھ کو آنا تھا تاہم کچھ ان کی مصروفیات کے باعث انہوں نے مجھے ہدایات دی کہ میں یہاں پہنچوں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنس ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے جہاں انشورنس کے ماہرین، پالیسی ساز اور صنعت کے دیگر ماہرین مل کر پاکستان میں انشورنس کے شعبے کے بہتر مستقبل کے لیے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ یہاں ہونے والی گفتگو اور باہمی تعاون کا جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سب مل کر انشورنس کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور طویل خشک سالی کی وجہ سے ہمارے کسان اور دیگر کمزور طبقے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ چونکہ زراعت ہماری معیشت کا ایک بڑا حصہ ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے، اس لیے اس شعبے کا تحفظ بہت ضروری ہے۔ سال 2020 اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں آفات سے بچاؤ کے لیے بہتر حکمت عملیوں، جیسے کہ انشورنس پالیسیاں، فصل اور مویشی انشورنس، اور دیگر جدید مالی تحفظ کے طریقوں کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، آج بھی ہمارے ملک میں انشورنس کا شعور کم ہے، زیادہ تر لوگ یا تو انشورنس کی اہمیت سے واقف نہیں یا پھر اسے مہنگا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے انشورنس منصوبے اور خطرات میں شراکت داری کے نظام بہت ضروری ہیں تاکہ کمزور طبقے کو سستا اور آسان انشورنس فراہم کیا جا سکے۔ دنیا کے کئی ممالک نے عوامی اور نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے کامیاب انشورنس ماڈل متعارف کروائے ہیں اور پاکستان بھی ان سے سیکھ کر اسی طرح کے اقدامات کر سکتا ہے۔ اگر حکومت اور نجی ادارے مل کر کام کریں، تو ہم ایسے انشورنس منصوبے بنا سکتے ہیں جو عام آدمی کے لیے سستے اور فائدہ مند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسی حوالے سے سندھ حکومت نے بھی ایک اہم قدم اٹھایا ہے اور سندھ انشورنس لمیٹڈ قائم کیا ہے تاکہ صوبے کے مالی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ اس ادارے کے دائرہ کار کو مزید بڑھایا جائے تاکہ عام آدمی اور کاروباری افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور مالی مشکلات سے محفوظ رہیں۔ اس کے علاوہ، سندھ حکومت نے کسانوں کی مدد کے لیے فصل انشورنس پروگرام بھی متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد زراعت کے شعبے کو مستحکم بنانا اور ان کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے جو قدرتی آفات، بیماریوں یا دیگر نقصانات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے متاثرہ کسانوں کو مالی مدد دی جائے گی تاکہ وہ نقصان کے بعد بھی سنبھل سکیں۔ سعید غنی نے کہا کہ حکومت سندھ انشورنس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور نجی شعبے، ترقیاتی اداروں اور ڈونر تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں، تاکہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور آفات سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر مالی حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ اگر ہم سب مل کر کام کریں، تو ہم انشورنس کو ایک ایسا ذریعہ بنا سکتے ہیں جو معیشت کو استحکام دے اور عام آدمی کی زندگی کو محفوظ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایس ای سی پی، سی ڈی سی اور انشورنس انڈسٹری کو موٹر انشورنس ریپوزٹری کے قیام پر بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ نظام انشورنس کمپنیوں، گاڑیوں کی رجسٹریشن کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کو گاڑیوں کے انشورنس ڈیٹا تک رسائی دے گا، جس سے تھرڈ پارٹی انشورنس کے مؤثر نفاذ میں مدد ملے گی۔ سعید غنی نے کہا کہ ایس ای سی پی، منتظمین، مقررین اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ ہم سب مل کر ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جو مضبوط، محفوظ اور انشورنس کے ذریعے مالی طور پر مستحکم ہو، جہاں ہر فرد کو مالی تحفظ حاصل ہو۔
Read Next
16 گھنٹے ago
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان کی پہلی قومی ویمنز ایمپاورمنٹ پرنسپلز ایوارڈز تقریب
2 دن ago
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےچنیسر ٹاؤن میں سندھی مسلم فوڈ واک کا افتتاح کردیا۔
3 دن ago
سندھ کے 31 شہروں کا نقشہ بدلنے کی تیاری؛کراچی اور حیدرآباد سمیت بڑے ماسٹر پلانز پر کام جاری،17 مکمل،9 کا نوٹیفکیشن جاری
5 دن ago
سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں کا خصوصی آڈٹ کروانے کا فیصلہ،وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
6 دن ago
*وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نگرپارکر ایمبولنس حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کےلئے معاوضے کا اعلان*
Related Articles
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کے اعزاز میں عشائیے میں شرکت
7 دن ago
مراد علی شاہ اورامجد حسین کی ملاقات،سندھ اور گلگت بلتستان کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق
1 ہفتہ ago



