سندھ حکومت کا زراعت، مویشی، ماہی گیری اور آبپاشی کے شعبوں کے لیے کوآپریٹو سوسائٹیز متعارف کرانے کا منصوبہ،چیف سیکرٹری سندھ کی زیر صدارت اجلاس

سندھ حکومت زراعت، مویشی، ماہی گیری اور آبپاشی جیسے اہم شعبوں کے لیے کوآپریٹو سوسائٹیز کے قیام پر غور کر رہی ہے تاکہ ان شعبوں سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل کے حل میں مدد دی جا سکے اور ان کی پیداواری صلاحیت اور پائیداری کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام دیہی معیشت کو مستحکم کرنے اور ان شعبوں سے وابستہ افراد کی آمدنی میں اضافے کے لیے ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

سندھ کے چیف سیکرٹری سید آصف حیدر شاہ کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کا جائزہ لیا گیا اور اس میں ممکنہ اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بقاء اللہ انڑ، سیکرٹری کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ محمد نواز سوہو، سیکرٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، ڈائریکٹر جنرل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے کہا کہ موجودہ کوآپریٹو قانون زیادہ تر ہاؤسنگ کوآپریٹو سوسائٹیز پر مرکوز ہے جبکہ زراعت، مویشی اور ماہی گیری جیسے اہم شعبے نظرانداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ فریم ورک ان شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے ہمیں ایک مؤثر قانونی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو ان شعبوں کی ترقی میں معاون ثابت ہو۔” اجلاس میں کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری محمد نواز سہو نے سندھ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 2020 اور مجوزہ سندھ کوآپریٹو گورننس ایکٹ 2025 پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے موجودہ قانون کی محدودات پر روشنی ڈالی اور ایک ایسے جامع فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جو زراعت، مویشی اور ماہی گیری جیسے شعبوں کی ضروریات کو پورا کرے۔ انہوں نے دنیا کے کامیاب کوآپریٹو ماڈلز کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو زراعت اور دیگر شعبوں سے وابستہ برادریوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ سیکرٹری نے وضاحت کی کہ یہ کوآپریٹو سوسائٹیز ایک پائیدار کاروباری ماڈل کے طور پر کام کرتی ہیں، جس میں کمیونٹیز وسائل کو یکجا کرتی ہیں، علم کا تبادلہ کرتی ہیں اور جدید آلات و ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔ اجتماعی طور پر کام کرنے سے کوآپریٹو کے ارکان اپنی لاگت کم کر سکتے ہیں، پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں اور بہتر مارکیٹ رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے ان کی آمدنی اور معیار زندگی بہتر ہوگا۔چیف سیکرٹری سندھ نے محکمہ زراعت، آبپاشی، خواتین کی ترقی، مویشی اور ماہی گیری کے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں میں کوآپریٹو سوسائٹیز کے قیام کے لیے تفصیلی تجاویز تیار کریں۔ ان تجاویز میں مشینری، آلات، بیج اور مویشیوں کے وسائل کی سبسڈی پر فراہمی، مالیاتی اداروں اور کوآپریٹو بینکس کے ذریعے مالی معاونت اور قرضوں کی سہولت، اور اسٹیک ہولڈرز کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرامز شامل ہوں گے۔ مجوزہ کوآپریٹو سوسائٹیز کے قیام کا مقصد افراد اور ان ایک جیسے کاروبار سے منسلک برادریوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ اجتماعی طور پر وسائل کو منظم کر سکیں اور چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ یہ منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں تاہم سندھ حکومت کا ان شعبوں پر توجہ دینا اس کے دیہی معیشت کی ترقی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ فریم ورک اور عمل درآمد کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید مشاورت اور تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مجوزہ تجاویز سندھ کے وزیر اعلیٰ کو پیش کی جائیں گی، جہاں ان کی منظوری کے بعد ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button