عدالت میں پھنسے ہوئے 180 ارب روپے اب کراچی کے انفرا اسٹرکچر پر خرچ ہوں گے،مراد علی شاہ کی میئر کراچی کو تمام ٹریفک سگنلز ٹھیک کرنے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت بزنس فسیلیٹیشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے فالو اپ اجلاس میں اہم فیصلے۔۔ انفراسٹرکچر سیس کے دیرینہ مسئلے کے حل کی منظوری دے دی گئی، اب عدالت میں پھنسی ہوئی 180 ارب روپے کی رقم شہر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے استعمال ہوگی، اجلاس میں صنعتی علاقوں سے معمولی تجاوزات اور زمینوں پر قبضے کے خاتمے پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر شاہ، ضیاء الحسن لنجار، محمد بخش مہر، جام اکرام، شاہد تھہیم، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی اور دیگر صوبائی سیکریٹریز نے شرکت کی۔ کاروباری برادری کی نمائندگی عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، زبیر موتی والا، ثاقب مغوں، جاوید بلوانی، ڈاکٹر زیلاف منیر اور دیگر افراد نے کی۔

وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے انفراسٹرکچر سیس کے مسئلے کو اجلاس میں اٹھایا جس کے خلاف کاروباری برادری نے عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ انفراسٹرکچر سیس کا کیس عدالت سے واپس لیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت 180 ارب روپے قانونی کارروائیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور اگر کیس واپس لے لیا جائے تو یہ رقم شہر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے انفراسٹرکچر سیس کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنےکےلیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کاروباری برادری سے مشاورت کے بعد وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ سندھ حکومت اور مقامی کاروباری برادری کو الیکٹرک بورڈ میں نمائندگی دی جا سکے۔ اس مشترکہ کوشش کا مقصد انفراسٹرکچر سیس کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنا، عدالت میں دائر کیس واپس لینا اور 180 ارب روپے کی وہ رقم جاری کرانا ہے جو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مختص کی گئی ہے لیکن قانونی پیچیدگیوں کے باعث رکی ہوئی ہے۔

اجلاس کے آغاز میں بتایا گیا کہ سات ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں سے پانچ کے اجلاس ہو چکے ہیں، اجلاسوں میں صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل پر غور کیا گیا۔ اب تک اجلاس منعقد کرنے والی ذیلی کمیٹیوں میں انڈسٹریل پالیسی اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کمیٹی، انفراسٹرکچر سیکٹر کمیٹی، ہاؤسنگ، کنسٹرکشن اور ٹاؤن پلاننگ سیکٹر کمیٹی، انرجی، واٹر اور سیوریج سیکٹر کمیٹی اور تجاوزات/ زمینوں پر قبضے کے خاتمے کی کمیٹی شامل ہیں۔اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو حتمی شکل دے کر ان پر ضروری عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

کاروباری برادری کے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت سے رابطہ کریں تاکہ یو ایف جی نقصانات اور گیس لیکیجز کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اگر ان نقصانات پر قابو پا لیا جائے تو گیس کی قیمتیں کم ہوں گی اور صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا۔

صنعت کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایل این جی کی درآمد سے مالی نقصانات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مقامی گیس کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں اور انہیں بہتر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ گیس کی بربادی کم ہو۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ بجلی کے نرخ اس وقت تک کم نہیں ہوں گے جب تک مزید صنعتیں قائم نہیں کی جاتیں۔

اجلاس میں وفاقی حکومت کو کے الیکٹرک میں نمائندگی کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وفاقی حکومت، کاروباری چیمبرز اور سندھ حکومت کا ایک، ایک نمائندہ کے الیکٹرک کے فیصلہ ساز ادارے کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ اقدام بجلی کی بندش، کم وولٹیج اور مرمت و بحالی کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔

کاروباری برادری نے سندھ حکومت کے ساتھ کوئلے سے بجلی، کوئلے کی گیسی فیکیشن اور صنعتوں کے بوائلرز چلانے کے لیے کوئلے کی فراہمی جیسے مختلف منصوبوں پر کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر توانائی ناصر شاہ کو ہدایت دی کہ وہ صنعتکاروں سے مشاورت کے بعد ان منصوبوں کو حتمی شکل دیں۔ وزیر توانائی ناصر شاہ نے کہا کہ وہ دلچسپی رکھنے والے کاروباری حضرات کے ساتھ جلد اجلاس کریں گے تاکہ ان منصوبوں اور ممکنہ شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

صنعتکاروں نے تشویش کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت گیس ڈالرز میں خریدتی ہے لیکن روپے میں فروخت کرتی ہے جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ توانائی کے معاہدے غیر ملکی کرنسی میں نہ کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کاروباری رہنماؤں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی تجاویز مرتب کریں، جنہیں وہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائیں گے۔

صنعتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کے مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کاروباری برادری کو بتایا کہ وہ 26 فروری کو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر اجلاس طلب کر رہے ہیں جس میں صنعتی زونز میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے صنعتکاروں سے مشاورت کی جائے گی۔

شہری مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ کراچی میں کئی ٹریفک سگنلز خراب ہیں۔ انہوں نے کراچی کے میئر کو ہدایت دی کہ وہ تمام سگنلز کی مرمت کو یقینی بنائیں اور جہاں ضرورت ہو نئے سگنلز نصب کیے جائیں۔

مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ پارکنگ کےلیے مختص ایریاز میں قائم غیر قانونی گوداموں/ویئرہاؤسز کو ہٹایا جائے گا۔ اس ہدایت پر عملدرآمد کی ذمہ داری کراچی کے کمشنر کو سونپی گئی۔

وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے اجلاس کو اپنی ذیلی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ تمام صنعتی علاقوں سے تجاوزات کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی زونز میں غیر قانونی پارکنگ سمیت نرم تجاوزات بھی ختم کی جائیں گی۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کمشنر کو ہدایت دی کہ زمینوں پر قبضے کی کسی بھی شکایت پر فوری کارروائی کی جائے۔

جواب دیں

Back to top button