پنجاب حکومت قانون سازی فوری مکمل کرے تاکہ حلقہ بندیوں کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ

الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے فل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے ۔ سماعت سے پہلے چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 140(A)(2) 219(d)اور الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت الیکشن کمیشن وفاق اور صوبوں میں لوکل گورنمنٹس انتخابات کروانے کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے کے لئے تیار نہیں ہوتی ۔جب بھی الیکشن کمیشن اپنی تیاریاں مکمل کر لیتا ہے تو متعلقہ صوبائی حکومتیں قوانین میں ترامیم کر دیتی ہیں ۔جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو تمام الیکشن کا عمل دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے ۔ تین صوبوں اور کنٹونمنٹ میں انتہائی جدوجہد کے بعدا لیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں کامیاب ہوا۔ بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نےسماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی معاونت کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف اوقات میں اس وقت کی صوبائی حکومتوں نے صوبہ میں پانچ (5) مرتبہ انتخابی قوانین تبدیل کئے ۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لئے تین (3) دفعہ حلقہ بندیاں کیں۔ دو (2) دفعہ الیکٹورل گروپس کی Enlistment کی اور اسکے علاوہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول دینے کے باوجود صوبہ میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہوسکا۔ سماعت کے دوران چیف سیکرٹری پنجاب نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ موجودہ صوبائی گورنمنٹ نے حکومت سنبھالتے ہی لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر کام شروع کر دیا تھا۔کیونکہ تمام سٹیک ہولڈرز کا فیڈ بیک ضروری ہوتا ہے ۔ لہذا اب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا حتمی مسودہ پنجاب اسمبلی میں ضروری قانون سازی کے لئے بھجوا دیا گیا ہے جونہی قانون سازی کا عمل مکمل ہوتا ہے تو قانون کے تحت رولز بھی بنا دیئے جائیں گے ۔ صوبائی حکومت الیکشن کمیشن کی صوبہ میں انتخابات کے انعقاد کے لئے ہر قسم کی معاونت کے لئے بھی تیار ہے ۔

الیکشن کمیشن نےواضح کیا کہ صوبائی حکومت پنجاب، قانون سازی کا عمل فوری مکمل کرئے تاکہ الیکشن کمیشن قانون کے تحت فوری حلقہ بندی کا عمل شروع کرے اور صوبہ میں فوری انتخابات کے انعقاد کویقینی بنائے .

جواب دیں

Back to top button