منتخب مقامی حکومتیں،سول سوسائٹیز کی سفارشات، پریس کانفرنس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس وقت منتخب حکومتیں فعال ہیں اور پنجاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں پہلی بار ایک خاتون وزیراعلیٰ موجود ہیں، جنہوں نے پہلے دن سے ہی بعض ایسے روزمرہ مسائل کے حل کے لئے مختلف اقدامات شروع کر دیئے۔ پہلے رمضان پیکیج کے تحت سستے آٹا کی ترسیل پھر ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت پنجاب بھر کے کئی اضلاع میں یونین کونسل کی سطح پر صفائی اور مرمت کے پروگرام شروع کئے ہیں، جبکہ بعض منتخب اضلاع میں اربن ڈویلپمنٹ کے لئے عالمی اداروں کے تعاون سے بھی پراجیکٹ شروع ہیں اور اب لاہور کی اَپ گریڈیشن اور تزئین نو کے حوالہ سے جاری پروگرام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح کے چند اور پروگرام بھی ماضی میں شروع کئے گئے جن میں تقریباً ایک لاکھ نوجوان بطور رضاکار بھرتی کئے گئے جنہوں نے لوکل گورنمنٹ فرائض میں حصہ ڈالنا تھا، مگر ابھی تک عملی طور پر کچھ نظر نہیں آرہا۔ ابھی حال ہی میں مختلف اضلاع میں عوام کی سہولت کے لئے روٹی کی کم از کم قیمت مقرر کی گئی ہے، مگر افسوس ہے کہ فعال لوکل گورنمنٹ کی تشکیل کا عمل خاصا سست روی سے جاری ہے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر 2017ءکے بعد منتخب مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کے باعث تشویش رہی ہے۔ 3 دفعہ انتخابات کی ابتدائی تیاریاں بھی ہوئی ہیں مگر ہر دفعہ نئی قانون سازی کی بنا پر انتخابات کا انعقاد نہیں کیا جاسکا۔

٭…. افسوس کا مقام ہے آئین کی قدغن کے باوجود اور پھر ملک کے تینوں اضلاع میں منتخب حکومتوں کے تسلسل کی موجودگی میں پنجاب اس سے محروم چلا آرہا ہے اور دیگر حکومتی ادارے اور سرکاری افسران عارضی بنیادوں پر ہی مقامی حکومتوں کے امور کی انجام دہی میں مصروف ہیں جس پر صرف یہ کہا جاسکتا ہے۔

کہ حرکت تیز تر ہے، مگر سفر آہستہ آہستہ

منتخب مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی میں مختلف ترقیاتی اور فلاحی کاموں کا بہتر اطلاق نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ نہ تو مقامی ضروریات کی فوقیت یا ترجیح طے کی جا سکتی ہے اور نہ ہی عملدرآمد میں شہریوں کی شراکت یا اونر شپ تفویض کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اکاﺅنٹیبلیٹی اور جوابدہی کی شکل موجود ہوتی ہے اور پھر ہمارے ملک کی ریاستی پالیسی کے بنیادی اصولوں میں درج ہے کہ ہمارے ملک میں مقامی حکومتیں ہوں گی، جس میں علاقے کے منتخب نمائندے ہوں گے اور ان نمائندوں میں عورتوں اور محنت کشوں کی نمائندگی بھی یقینی بنائی جاسکے گی۔ گزشتہ سالوں میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے آئین کے آرٹیکل 7 کی مزید تشریح کی ہے کہ وفاق اور صوبوں کے بعد لوکل باڈیز سے مراد مقامی حکومتیں ہیں اور پھر آئین کا آرٹیکل 140-A صوبائی حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایسے قانون کے مطابق مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں انتظامی، مالیاتی اور سیاسی اختیارات منتقل کریں۔ اتنے واضح آئینی پابندیوں کے باوجود پنجاب میں منتخب مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی اور انتخابات میں مسلسل تاخیر باعث تشویش ہے۔

٭…. اب موجودہ حکومت نے پنجاب میں قانون سازی کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی جو اس بارے پیش رفت کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی وضاحت پر پنجاب حکومت کی اس کمیٹی نے ایک مسودہ قانون بھی فراہم کیا ہے جو ابھی تک پبلک نہیں کیا جاسکا۔

٭…. ہم پنجاب کی سول سوسائٹی کے ادارے مقامی گورنینس کی اس کیفیت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مستقبل کی قانون سازی کے لئے ہماری تجاویز پر غور کیا جائے بلکہ لوکل گورنمنٹ بارے نئی قانون سازی کے حوالے سے قائم کمیٹی ہماری گزارشات کو بھی مدنظر رکھے اور ہمیں اس کمیٹی کا حصہ بنایا جائے اور جلد انتخابات اور منتخب مقامی حکومتوں کی تشکیل مکمل کی جائے۔

گزارشات :

٭…. صوبائی قانون سازی، حکومت اور اسمبلی کا آئینی حق ہے مگر جمہوری روایات کے حوالہ سے مقامی حکومتوں کی آئے دن تحلیل اور ہر دفعہ نئی قانون سازی سے مقامی حکومتوں کا تعطل کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور عوام میں مایوسی اور لاتعلقی بڑھانے کا موجب بنتا ہے۔ اس لئے قانون سازی کرتے وقت سبھی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر لی جائے بالخصوص اپوزیشن سے مکالمہ کر کے اگر لوکل گورنمنٹ کا نظام وضع کیا جائے اور پھر اسے تحفظ دیا جائے۔ انتخابات کا تسلسل قائم رکھا جائے اور آئے روز کی قانون سازی کا رواج کچھ عرصہ کے لئے ملتوی کیا جائے تو بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔

تاہم اب کی بار نئی قانون سازی کی جائے تو درج ذیل امور کو نئے قانون میں ایڈریس کیا جائے۔

(الف) بنیادی یونٹ یونین کونسل ہو ۔گو کہ اس کا نام بدلا جا سکتا ہے، مگر آبادی کی بنیاد 20 ہزار نفوس سے زائد نہ ہو۔

(ب) یونین کونسل اور ضلعی سطح پر قائم شہری اور دیہی مقامی حکومتوں کے مابین براہ راست تعلق ہو۔

(ج) یونین کونسل میں نمائندوں کی کم از کم تعداد 5 جنرل، 2 خواتین، ایک ایک یوتھ، غیر مسلم سپیشل پرسن اور ایک آفیشل نامر کردہ ٹیکنوکریٹ ہو۔ کل 13 ممبران ہوں۔ چیئرپرسن اور ڈپٹی چیئرپرسن مشترکہ ٹیم کے طور پر ہو۔

(د) یونین کونسل کے 13 ممبران کا براہ راست بالغ رائے دہی کی بنیاد پر (UAF) انتخاب ہو۔

(م) نمائندگی میں وسعت اور گہرائی۔ منتخب مقامی حکومتوں میں آبادی کے سبھی حصوں بالخصوص نظرانداز رکھے گئے طبقات کی نمائندگی کو بھرپور اور مو¿ثر بنانا ضروری ہے۔ پہلے سے یہ کم ہے اور بتدریج کم ہو رہی ہے جبکہ آبادی بڑھ رہی ہے، ہماری تجویز ہے کہ یونین کونسلوں یا سب سے نچلے یونٹ میں خواتین کی نمائندگی کم از کم 40 فیصد رکھی جائے اور انتخابات میں سیاسی جماعتوں، آزاد گروپوں کو پابند کیا جائے کہ وہ الیکشن ایکٹ کے تحت کم از کم 5 فیصد امیدواران خواتین سے ہیں جو جنرل نشستوں پر امیدواران ہوں۔ بیشتر خواتین کے لئے اجلاسوں کے دوران اعزازیہ مقرر کیا جائے۔

(ن) آئندہ مقامی حکومتوں کے فرائض میں کم از کم درج ذیل فنکشنز ضرور شامل کئے جائیں۔

-1 ہر سطح کی ترقیاتی اتھارٹیاں -2 شہروں میں پارکنگ، اشتہار بازی کے اختیارات -3 ٹریفک مینجمنٹ

-4 سالڈویسٹ مینجمنٹ -5 میونسپل ذمہ داریاں -6 فوڈ کنٹرول -7 مارکیٹ کمیٹیاں

(ل) بالائی اداروں میں ضلع کونسل، میونسپل کمیٹیاں، میونسپل کارپوریشن اور میٹروپولیٹن ہوں۔ جو ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر موجود ہوں۔

(م) دیہی اور شہری کی تمیز برقرار رکھتے ہوئے فرائض میں یکسانیت ہو۔ تاہم اداروں میں فنکشنز کی ازسرنو تقسیم کی جائے۔ عوامی ضروریات کی مطابقت ہم آہنگ سٹرکچر ہو۔

(ن) بالائی اداروں کے سربراہان کے انتخابات ان ڈائریکٹ ہوں مگر بالواسطہ انتخابات بھی خفیہ رائے دیہی سے منعقد ہوں۔

(د) شہریوں کی شراکت کا سوال ہمیشہ سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ مقامی حکومتیں بنیادی طور پر شہریوں کے روز مرہ کے رہائشی مسائل کو ڈیل کرتی ہیں اسی طرح کی حکمرانی میں اگر فیصلہ سازی، پالیسی بنانے اور منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ عملدرآمد میں بھی رہائشی خود شامل ہوں تو بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس لئے ہماری تجویز ہے کہ قانون میں واضح طور پر شہریوں، رہائشی عوام کی شمولیت کی شکل ہونا ضروری ہے۔

تعلیم و تربیت کی اہمیت، مقامی حکومتوں میں منتخب اور غیر منتخب افراد اور سرگرم شہریوں کے لئے لوکل گورنمنٹ بارے تعلیم و تربیت کے انتظامات ضروری ہیں۔ تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ لوکل گورنمنٹ بارے کم از کم سر ٹیفکیٹ کورس کا ضرور اجراءکریں اسی طرح لوکل گورنمنٹ اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ تعلیم، تربیت اور آگہی کے لئے مختلف پروگرام ترتیب دیں۔ یہ قانون میں واضح طور پر درج کیا جانا ضروری ہے۔

ہم سب نمائندے ان تجاویز پر تفصیلی غور و خوض کر چکے ہیں ہم حکومت اور متعلقہ اسمبلی کمیٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارا مو¿قف بھی براہ راست سنا اور تسلیم کیا جائے۔

آپ سب کا شکریہ

منجانب : زاہد اسلام: ”سنگت“ ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن

اسپیکرز:بشریٰ خالق ویمن ان سڑگل فار ایمپاورمنٹ(Wise) محمد سلمان عابد IDEA ،ملک الطاف،عرفان مفتی،ذاکر شاہین ساﺅتھ ایشیا پاٹنرشپ،رانا ندیم سدھار،یاسر عباسی شعور فاﺅنڈیشن،راجہ محبوب بلدیات ٹائم،ساجد علی،شہزاد حید خان سنگت ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن

ممبر شاہ حسین نیٹ ورک:فاخرہ جعفری،ملک ظفر،مون علی،شاہد ندیم،لیاقت اعوان،صباءچوہدری،امتیاز فاطمہ،ام لیلی ہو م نیٹ،وجاہت بتول

جواب دیں

Back to top button