وزیراعلٰی ہاوس میں نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان 29-2025 (اڑان پاکستان) مشاورتی سیمنار کا انعقاد کیا گیا ۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور ورکشاپس کے مہمان خصوصی تھے ۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، صوبائی کابینہ اراکین، پارلیمنٹیرینز، صوبائی و وفاقی حکومتوں کے اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔ اڑان پاکستان ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے پانج اہم شعبوں پر فوکس کرتا ہے۔

ان شعبوں میں ایکسپورٹس، ایکویٹی، ای پاکستان، انرجی اینڈ انفراسٹرکچر اور انوائرمنٹ اینڈ کلائمیٹ چینج شامل ہیں۔ سیمینار کے شرکاء سے وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے پر عزم ہیں، سیاسی اختلافات ہماری حکومت کو پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے کام کرنے سے نہیں روکیں گے- خیبر پختونخوا حکومت مالی نظم و ضبط، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کی استعداد، اور سماجی مساوات کے ذریعے پائیدار ترقی کے لئے کام کر رہی ہے، ہم پائیدار ترقی کے لئے استعداد کے حامل شعبوں میں سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، ہم نے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 169 ارب روپے کا بجٹ سرپلس حاصل کیا- صوبے میں قرضے اتارنے کے لئے 70 ارب روپے کا ڈیٹ مینجمنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے، صنعتی زونز کے لیے 15 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری حاصل کی گئی، انصاف روزگار اسکیم کے تحت انٹر پرنیورز کو 20 کروڑ روپے کے قرضے دیئے گئے، انصاف روزگار اسکیم سے ایک لاکھ37 ہزار سے زائد افراد کو روزگارکے کے مواقع مل- معاشی ترقی کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کا وژن "اڑان پاکستان” کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہے، موجودہ صوبائی حکومت نے درابن، رشکئی، اور ہری پور کے صنعتی زونز کی بحالی عمل میں لے آئی ہے، ان اکنامک زونز میں 435 ملین روپے کی نجی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے- پشاور اور مردان میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے قیام سے آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، معدنیات کی نیلامی سے صوبائی حکومت کو 5 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہوئی، ہم نے خواتین کی قیادت میں چلنے والے 50 ہزار سے زائد کاروباروں کو بلاسود قرضے فراہم کیے- 81 ہزار نوجوانوں کو انجینئرنگ، ڈیجیٹل اسکلز اور تکنیکی شعبوں میں تربیت دی گئی، 5 لاکھ سے زائد طلبہ نے صوبائی حکومت کے تعلیم کارڈ پروگرام سے مستفید ہوئے- ہم نے صحت کارڈ پلس کو بحال کیا اور ایک کروڑ خاندانوں کو 30.4 ارب روپے مالیت کی مفت طبی سہولیات فراہم کئیں، 2 لاکھ سے زائد نئے گھروں کی تعمیر میں حکومتی مدد فراہم کی گئی صوبائی حکومت ای گورننس اور آئی ٹی کے فروع کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے، پامیر۔ڈیجیٹل پے منٹ گیٹ وے، ای-ڈومیسائل سسٹم، اور ڈیجیٹل ٹیکس کولیکشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے- 85ہزار سے زائد نوجوانوں کو آئی ٹی فیلڈز میں تربیت دی گئی، نوجوانوں کے لئے مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لئے جوان مراکز کو 55 کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے، ڈھائی لاکھ گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کر رہے ہیں، ایک ہزار اسکولوں کو سولر سسٹم فراہم کیا گیا ہے اگلے ایک سال میں آٹھ ہزار مزید سکولوں کی سولرائزیشن کی جائے گی- چار ہزار مساجد کو سولر سسٹم فراہم کیا گیا ہے مزید آٹھ ہزار کو فراہم کیا جائے گا، اس کے علاوہ سرکاری دفاتر، کالجز، یونیورسٹیوں، مساجد اور مدارس وغیرہ کی بھی سولرائزیشن کی جارہی ہے- مائننگ کیڈسٹرل سسٹم متعارف کرایا گیا، جس کے تحت 3,000 سے زائد کانوں کی نقشہ بندی کی گئی، اس اقدام سے 5.7 ارب روپے کی رائلٹی حاصل کی گئی- 365 کلومیٹر طویل پشاور-ڈی آئی خان موٹروے کے لیے زمین کی خریداری کا عمل شروع کیا گیا، بی آر ٹی سروس میں بہتری لائی گئی، یومیہ مسافروں کی تعداد میں ایک لاکھ 50 ہزار تک اضافہ ہوا۔- خیبر پختونخوا فارسٹیشن پروگرام کو توسیع دی گئی اور جنگلات کے رقبے میں 12% اضافہ کیا گیا، 25 ارب روپے کی لاگت سے فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹس پر عمل درآمد کیا گیا- خیبر پختونخوا اڑان پاکستان کے اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتا ہے، وفاقی خیبر پختونخوا کو اس کے آئینی حقوق دینے کے لئے عملی اقدامات کرے- 2018 سے وفاقی حکومت نے اے آئی پی کے تحت منصوبوں کے لیے 700 ارب روپے میں سے صرف 215.3 ارب روپے مختص کیے، مختص شدہ فنڈ سے بھی اب تک صرف 132.1 ارب روپے جاری کیے گئے- رواں مالی سال میں AIP کے لیے 42.3 ارب روپے مختص کیے گئے، لیکن صرف 6.35 ارب روپے جاری ہوئے، رواں مالی سال ضم اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 27 ارب روپے مختص کیے گئے لیکن اب تک صرف 9.41ارب روپے جاری کیے گئے- وفاق ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے بقیہ فنڈز ہنگامی بنیادوں پر جاری کرے، پی ایس ڈی پی کے تحت صوبائی حکومت کے 36 ارب روپے کے 7 منصوبوں کے لیے صرف 2.65 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ اب تک اس مد میں صرف 1.0 ارب روپے جاری ہوئے۔- دیگر صوبوں کو پی ایس ڈی پی میں نئے منصوبے دیئے گئے، مگر خیبر پختونخوا کو کوئی نیا منصوبہ نہیں دیا گیا، پی ایس ڈی پی میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کو فنڈز کی الوکیشن میں بہت کم حصہ دیا گیا، پی ایس ڈی پی کے تحت خیبر پختونخوا کے لیے فنڈز کی الوکیشن میں اضافہ کیا جائے- صوبے میں پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تکمیل کیلئے فنڈز بروقت جاری کیے جائیں، چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبہ صوبے کی فوڈ سکیورٹی کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ہے، اس منصوبے کیلئے نہ ہی مناسب فنڈز مختص کئے گئے اور نہ ہی رابط نہروں کی تعمیر کی گئی- رواں مالی سال منصوبے کے لیے 17.51 ارب روپے مختص کیے گئے، لیکن اب تک کوئی فنڈ جاری نہیں ہوا، خیبر پختونخوا حکومت اپنے وسائل سے اس منصوبے کیلئے 60 ارب روپے کا حصہ ادا کرے گی، صوبائی حکومت منصوبے کیلئے درکار زمین کیلیے 500 ملین روپے جاری کر چکی ہے منصوبے کی الائنمنٹ کی تفصیلات صوبائی حکومت سے شیئر نہیں کی گئیں۔ واپڈا کی طرف سے سرگرمیوں کیلئے طے شدہ ٹائم لائنز پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے منصوبے کیلئے 17.5 ارب روپے مختص کرنے کا وعدہ کیا، لیکن رواں پی ایس ڈی پی میں صرف2.5 ارب روپے رکھے گئے اور وہ بھی نہیں دئے گئے- ہم اڑان پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کرتے ہیں، لیکن صوبے کے ساتھ مساوی سرمایہ کاری اور فنڈنگ یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔






