لاہور کے مقامی ہوٹل میں اس بل کے جائز لینے اور اپنی رائے کو ترتیب دینے کے لئے وائز،سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن، شاہ حسین نیٹ ورک نے سول سائٹی تنظیموں کا ایک اجلاس منعقد کیا۔ جس میں درج ذیل ماہرین اور شہریوں نے شرکت کی۔زاہد اسلام (سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن)مبین قاضی(ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) احمد بلال محبوب(پلڈیٹ)محمد فہیم (پلڈیٹ) بشرہ خالق(وائز) تنویر ضیابٹ(سابقہ صوبائی الیکشن کمشنر) نجیب اسلم(ریٹائرڈ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ٹریننگ اکیڈمی) محمود مسعود تمنا (ریٹائرڈ ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹانسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم)سلمان عابد (آئیڈیاز،تجزیہ نگار)افتخار احمد(اینکر پرسن) ڈاکٹر اشرف نظامی(پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن) ڈاکٹر امجد مگسی (سٹڈی سینٹر پنجاب یونیورسٹی)طارق شہزاد (برابری پارٹی،ایکوسٹ)محمد وقاص (جماعت اسلامی) رانا محمد ندیم(سدھار)افشاں نازلی(سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن)،طائرہ حبیب(ایچ آر سی پی) سمیرہ عابد(پی ٹی آئی) عبدالخالق(وائز)آمنہ افضل(وائز) ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر سعدیہ (لاہور یونیورسٹی فار ویمن)،محمد خالد (مسلم لیگ ن)اقبال مغل (ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر شاہ حسین نیٹ ورک گوجراونوالہ) عمبرین (ایڈووکیٹ) شامل ہیں۔یہ اجلاس ہے ایک سال سے زائد تاخیر کے بعد پنجاب لوکل گورنمنٹ بل نمبر 20 آف 2025 کو اسمبلی میں پیش کرنے کو اچھی پیش رفت قرار دیتا ہے مگر اس بل کے مندرجات پر اپنے شدید تحفظات کا ایک اظہار کرتا ہے- یہ اجلاس بل کو ایک سال تک خفیہ رکھنے اور رائے عامہ کے لیے مشتہر نہ کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ جمہوری حکومت ہونے کے باوجود افسر شاہی کے دباؤ کے تحت یہ بل بروقت سامنے نہیں لایا جا سکا- اجلاس کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ پنجاب میں منتخب نمائندوں کے بغیر لوکل گورنمنٹ گزشتہ چار سالوں سے پبلک سرونٹس بطور ایڈمنسٹریٹر چلائی جا رہی ہیں۔ جبکہ صوبائی حکومت جو عوام کو طرح طرح کا ریلیف بھی مہیا کر رہی ہے اور کئی میونسپل ذمہ داریاں بھی براہ راست پبلک سرونٹس کی وساطت سے ادا کر رہی ہے، جس سے مقامی حکومتیں روز بروز نظر انداز کی جا رہی ہیں- پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کے نئے انتخابات پانچ سال سے التوا میں ہیں کیونکہ قانون واضح نہیں ہے جو قانون لاگو ہے۔ 2022ء کا اس کے مطابق مقامی حکومتیں نہیں ہیں اور جو مقامی حکومتی ادارے اس وقت موجود ہیں۔ وہ 2013ء کے کالعدم قانون کے تحت تشکیل دیے گئے تھے اور انہیں ہی چلایا جا رہا ہے یہ تاریخ میں پہلی بار ہے- اجلاس مجوزہ بل پر ابتدائی غور کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہےکہ نمائندگی کی شرح کم کر دی گئی ہےہ بالخصوص عورتوں کی نمائندگی ماضی کی نسبت کم ہو گئی۔ -ii جو تنظیمی ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے اس میں کئی سوالات ہیں۔
-iii انتخابات کا طریقہ غیر جمہوری ہے اور روایات کے برعکس ہے۔
– ضلعی تھاٹیوں کی سربراہی منتخب نمائندوں کی بجائے پبلک سرونٹس ڈپٹی کمشنر کو دینا۔ لوکل گورنمنٹ کے بنیادی مفہوم کے خلاف ہے اور ڈپٹی کمشنر جو پہلے ہی مصروف ترین عہدہ ہے، اس پر غیر ضروری بوجھ ڈالنا ہے۔
-مقامی حکومتوں کے اختیارات فرائض اور فنکشنز کو کم کر کے صوبائی حکومتی اداروں اور محکموں کو دینا مقامی حکمرانی کی بنیادی اصولوں کے خلاف ہے- جن محکموں کو ضلعی سطح پر منتقل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ عملی طور پر انہیں بھی صوبائی حکومت ہی چلائے گی۔ بل میں ایسا میں ایسا درج ہے- اجلاس کو شدید تحفظات ہیں کہ یہ بل تاخیر سے لایا گیا اور پھر اسے سٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کر کے سردخانہ میں ڈالنے کی کوشش ہے جس سے انتخابات کو بھی تاخیر ملے گی- اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آئین درج بنیادی اصول آرٹیکل 32 اور آرٹیکل 140-A میں درج وضاحت کی روشنی میں لوکل گورنمنٹ قانون کو فی الفور اسمبلی میں پیش کیا جائے- حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بل میں موجود سقم، ابہام دور کرنے درستگی کے ساتھ ساتھ اسے سارے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے لیے مشتہر کرے۔ بالخصوص ساری سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی سے مشاورت کے لیے خصوصی اقدامات کرے- ہم سب یہ بھی تقاضا کرتے ہیں کہ متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی ہمارے ساتھ بھی مشاورت کرے۔






