وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کے ہندو رہنماؤں کی ملاقات، ہندو برادری کے مسائل حل کرنے کےلیے ڈویژن سطح پر کمیٹیاں بنانے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے رہنماؤں سے ملاقات میں اعلان کیا ہے کہ کہ ان کی حکومت نے شمولیتی بھرتی پالیسی کے تحت کولہی، بھیل اور میگھواڑ برادری کے افراد کو سندھ پولیس میں بھرتی کیا ہے۔انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ہندو برادری کو اغوا کے واقعات میں خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران اب تک اغوا کے 310 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں صرف 8 ہندو شہری شامل تھے۔ ان میں سے 7 بازیاب ہو چکے ہیں جبکہ صرف ایک ہندو شہری، راجیش، کا کیس ابھی حل طلب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف ہندو ہی نہیں بلکہ 5 مسلمان افراد بھی اب تک بازیاب نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ حکومت نے اغوا برائے تاوان کے واقعات پر نمایاں حد تک قابو پایا ہے۔اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ضیاء الحسن لنجار، مکیش کمار چاولہ، ارکان اسمبلی جمیل سومرو، راج ویر سنگھ، لال چند اکرانی، ویرجی کولہی، سکھ دیو آسر داس ، چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس کے ابتداء میں مراد علی شاہ نے ہندو برادری کو سندھ کا اصلی باشندہ قرار دیتے ہوئے صوبے کی ترقی میں ان کی اہم خدمات کا اعتراف کیا جن میں تجارت، صنعت، تعلیم، صحت اور دیگر مختلف شعبے شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر کہا ہے کہ اقلیتی برادریوں کے ساتھ کوئی ناانصافی قابل قبول نہیں ہے۔ سندھ حکومت ہندو برادری کو درپیش مسائل کے حل کو ترجیح دینے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعلیٰ نے امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا خاص طور پر کشمور اور کندھ کوٹ جیسے ڈویژنز جہاں عدم تحفظ کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ شکارپور اور لاڑکانہ میں صورتحال بہتر ہوئی ہے، پھر بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹس میں لاڑکانہ میں موٹر سائیکل اور کار چوریوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی۔

ہندو برادری کے ارکان نے مندر کی زمینوں پرغیر قانونی قبضے، اغوا کے کیسز اور زمینوں پر قبضے کے معاملات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ راجیش پانچ ماہ سے لاپتہ ہے جس پر وزیراعلیٰ نے آئی جی پی کو ہدایت دی کہ اس کی بازیابی کو ترجیح دی جائے۔سندھ کے وزیر داخلہ اور آئی جی پی نے وزیراعلیٰ کو کچے کے علاقوں میں مجرموں اور ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ آپریشنز میں 152 ڈاکوؤں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے جن کے دوران 20 پولیس افسران شہید ہو چکے ہیں۔ یہ پولیس کی پختہ عزم کا مظہر ہے۔مراد علی شاہ نے ایک بار پھر کہا کہ 2024-25 میں کل 310 اغوا کے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں صرف آٹھ ہندو تھے جن میں سے سات بازیاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سب کو یقین دہانی کرائی کہ راجیش کی بازیابی کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ اپنے اقلیتی برادریوں کو کسی دوسرے صوبے سے زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے، پی پی پی نے کبھی بھی اپنی اقلیتی کمیونٹیز کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی کبھی چھوڑے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بہتر ہم آہنگی اور مسائل کے فوری حل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ڈویژن میں کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کیا جن میں ہندو پنچایت کے نمائندے، کمشنرز اور ڈی آئی جیز شامل ہوں گے۔ مراد علی شاہ نے یہ بھی بتایا کہ اقلیتی برادریوں کے کولہی، بھیل اور میگھواڑ سندھ پولیس میں بھرتی کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پیشکش کی کہ اگر ہندو برادری چاہے تو میں یہ یقین دہانی کراؤں گا کہ ہندو پولیس اہلکار ان کی مقدس جگہوں کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس کو تمام بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی اور حکومت کے پختہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم مجرموں کا خاتمہ کریں گے، ان کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button