بلدیہ عظمٰی لاہور کے شعبہ پلاننگ میں 8 افسران، 30 بلڈنگ انسپکٹرز کی کمی،محکمانہ امور بری طرح متاثر،ایڈمنسٹریٹر کی محکمہ بلدیات سے تقرریوں کی درخواست

بلدیہ عظمٰی لاہور نے شعبہ پلاننگ میں افسران اور بلڈنگ انسپکٹرز کی ریکارڈ کمی محکمہ بلدیات سے رجوع کر لیا ہے۔محکمہ بلدیات پنجاب کو ایڈمنسٹریٹر ایم سی ایل کی طرف سے ملنے والی درخواست کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے نو زونز میں 8 افسران اور 30 بلڈنگ انسپکٹرز کی کمی اور سیٹیں خالی ہیں۔افسران اور بلڈنگ انسپکٹرز کی عدم دستیابی اور تقرریاں نہ ہونے سے میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کو جہاں انفورسمنٹ، غیر قانونی تعمیرات و سرگرمیوں کے خلاف آپریشن متاثر ہو رہا ہے وہاں شہریوں کو بھی رہائشی و کمرشل نقشوں کی منظوری میں پریشانی کا سامنا ہے۔شکایات کے ازالے کے حوالے سے بھی بلدیہ عظمٰی لاہور کا شعبہ پلاننگ بروقت کارروائی کرنے سے قاصرہے۔انتظامی اور مالی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔افسران اور بلڈنگ انسپکٹرز کی عدم تقرری اور عدم دستیابی کے باعث نقشہ فیس اور جرمانوں کی مد میں ایم سی ایل کا کروڑوں روپے کا ریونیو متاثر ہوا ہےاور غیر قانونی تعمیرات روک تھام اور مسماری آپریشن کے ساتھ ساتھ نوٹسز، جرمانوں وغیرہ سمیت دیگر امور بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور میں اس وقت 6 زونز میں زونل آفیسر پلاننگ اور اسسٹنٹ زونل آفیسر کی 8 سیٹیں خالی ہیں۔جن میں سمن آباد زون،عزیز بھٹی زون، واہگہ،داتا گنج بخش، علامہ اقبال زون اور راوی زون شامل ہیں۔بلڈنگ انسپکٹرز کے حوالے سے صورتحال اس سے بھی سنگین ہے۔محکمہ لوکل گورنمنٹ اور لوکل گورنمنٹ بورڈ کی طرف سے پلاننگ فنکشنل یونٹ کے بلڈنگ انسپکٹرز کی تقرریاں نہ ہونے سے مجموعی طور پر ایم سی ایل کے 9 زونز میں 39 میں سے 30 سیٹیں خالی ہیں۔زونز اور ہیڈ آفس کے معاملات اضافی چارج دینے سے بھی نہیں ٹھیک نہیں چل رہے ہیں۔بلدیہ عظمٰی لاہور کے جن افسران اور بلڈنگ انسپکٹرز کو تبدیل یاسرنڈر کیا گیا ہے ان کے متبادل بروقت تقرریاں نہیں کی گئیں۔ایم سی ایل کے شعبہ پلاننگ میں گریڈ18 کے ایک اور گریڈ17 کے 7 افسران کی تقرریوں کی درخواست کی گئی ہے۔محکمہ بلدیات پنجاب کے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے لوکل گورنمنٹ بورڈ سے رپورٹ مانگ لی گئی ہے جلد تقرریاں کر دی جائیں گی۔یہ بات اہم ہے کہ میٹروپولیٹن آفیسر پلاننگ جس نے پورے لاہور کے معاملات چلانے کے کے پاس بلڈنگ انسپکٹرز کی 6 سیٹیں ہیں جبکہ ایک بھی بی آئی دستیاب نہیں جس کی وجہ سے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشن زیر التواء ہے۔معمول کے نوٹسز اور فائل ورک بھی بری طرح متاثر ہے۔

جواب دیں

Back to top button