وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ ویسٹ ٹو ویلیو سُتھرا پنجاب پروگرام کا اہم مرحلہ ہے جس کے تحت جمع ہونے والے ہزاروں ٹن ویسٹ کو توانائی کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ وہ سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر سُتھرا پنجاب کے ویسٹ ٹو ویلیو فیز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور ڈائریکٹر جنرل سُتھرا پنجاب اتھارٹی بابر صاحب دین نے بھی شرکت کی۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ لکھوڈیر لینڈفِل سائٹ پر پائلٹ بائیو سی این جی پلانٹ پیداوار شروع کر چکا ہے۔ ابتدائی طور پر الائشوں سے یومیہ 85 کلو سی این جی پیدا ہو رہی ہے تاہم ہمارا ہدف میتھین گیس کا ارتکاز 70 سے بڑھا کر 85 فیصد تک لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹ میں ایک ٹن الائشوں سے اعلیٰ معیار کی گیس پیدا ہوئی۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ یہ منصوبہ سیلف فنڈنگ سرکلر اکانومی سلُوشن کے طور پر چل رہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے منصوبے کو اپ گریڈ بنانے پر زور دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی سرپرستی میں ویسٹ سے توانائی کے دیگر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ متعدد مقامی اور غیرملکی کمپنیوں نے ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اگلے مالی سال کے بجٹ میں اہم پیشرفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کوڑے کی چھانٹی کی صلاحیت حاصل کرنے سے مزید فوائد ممکن ہوں گے کیونکہ نامیاتی اور غیر نامیاتی مواد الگ کرنے سے مطلوبہ اہداف کے حصول میں آسانی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تجربات سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ امید ہے کہ سُتھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام سے زیادہ بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔





