وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں پولیو کے خاتمے کی ایک ہفتے پر مشتمل مہم (21 اپریل تا 27 اپریل) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا اور حکومت کے اس مؤقف کو دہرایا کہ وہ اس معذور کر دینے والی بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

افتتاحی تقریب میں وزیر صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) سندھ کے صوبائی کوآرڈینیٹر ارشاد علی سوڈھڑ، روٹری کے عزیز میمن، اعلیٰ سرکاری افسران، اور بین الاقوامی شراکت دار تنظیموں—عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یونیسیف، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن (بی ایم جی ایف) کے نمائندگان نے شرکت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مہم کا مقصد سندھ بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے ایک کروڑ چھ لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے جن میں صرف کراچی میں 27 لاکھ 60 ہزار بچے شامل ہیں۔ یہ مہم 69,724 تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکرز کی ایک بڑی ٹیم کے ذریعے چلائی جائے گی جو گھروں، اسکولوں، شاپنگ مالز اور مسافر خانوں (ٹرانزٹ پوائنٹس) پر بچوں کو ویکسین فراہم کریں گے تاکہ کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے رہ نہ جائے۔وزیر اعلیٰ نے شدید گرمی کی لہر کے باوجود فرنٹ لائن ورکرز کی لگن اور جذبے کو سراہا اور کہا کہ ان کی انتھک محنت کے اعتراف میں حکومت کی جانب سے پانی، او آر ایس کے پیکٹس اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ شدید گرمی میں خود کو تروتازہ اور صحت مند رکھ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ویکسینیشن ٹیموں کی سیکیورٹی اور مہم کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے سندھ بھر میں 25,360 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔والدین اور بچوں کے سرپرستوں سے پرزوراپیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ پولیو ویکسینیشن ٹیموں کا خیر مقدم کریں کیونکہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو قطرے پلانا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے۔ صرف ویکسینیشن ہی ہمارے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہے۔ویکسین سے متعلق پائے جانے والے خدشات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے عوام کو یقین دلایا کہ یہ وہی پولیو ویکسین ہے جس کی مدد سے دنیا کے بیشتر حصوں سے وائرس کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی ویکسین ہے جو حج اور عمرہ پر جانے والے زائرین کو دی جاتی ہے اور یہی ویکسین پرائیویٹ کلینکس اور اسپتالوں میں بچوں کے ماہر ڈاکٹر (چائلڈ اسپیشلسٹ) معمول کے مطابق تجویز کرتے ہیں۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کوئی بچہ حال ہی میں ویکسین لے چکا ہو تب بھی اس مہم کے دوران دوبارہ قطرے پلانا بالکل محفوظ اور ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ کولڈ چین (ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کا نظام) کو سختی سے برقرار رکھا جائے تاکہ ویکسین مؤثر اور طاقتور حالت میں ہر بچے تک پہنچ سکے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنے خطاب کا اختتام اتحاد اور امید کے ایک پُراثر پیغام کے ساتھ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک مشترکہ عزم کا تقاضا کرتا ہے، قیادت سے لے کر فرنٹ لائن کارکنوں تک، کمیونٹیز سے لے کر ہر گھرانے تک۔ سندھ اس مشن میں متحد کھڑا ہے۔ آئیں ہم سب مل کر ہر بچے کی حفاظت اور آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند اور محفوظ مستقبل کو یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم سب مل کر پولیو کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور ہمیں یہ مہم اس وقت تک جاری رکھنی ہے جب تک کہ یہ مقصد حاصل نہ ہو جائے۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلا کر 21 سے 27 اپریل 2025 تک جاری رہنے والی انسداد پولیو مہم کا باضابطہ آغاز کیا جس کا ہدف سندھ بھر میں ایک کروڑ چھ لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دینا ہے جن میں سے 27 لاکھ 60 ہزار بچے صرف کراچی کے شامل ہیں۔وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ ماحولیاتی نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس اب بھی موجود ہے۔ ویکسینیشن ہی ہماری واحد حفاظت ہے۔ ہمیں اس مہم کو مزید پختہ عزم کے ساتھ جاری رکھنا ہو گا۔شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ اگر کسی گھر میں پانچ سال سے کم عمر کا بچہ پولیو کے قطرے پینے سے رہ گیا ہو، تو اہلِ خانہ 1166 پر کال کریں یا 0346-7776546 پر واٹس ایپ کریں۔






