قصہ ایک بےترتیبی، تربیتی ورکشاپ کا،نکاح رجسٹرارز و تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کی عظمت کو سلام اذ قلم مہر عبدالروف (صدارتی ایوارڈ یافتہ)تعاون پروفیسر مفتی محمد نوید لاہوری

ماڈل ٹاؤن تحصیل ایڈمنسٹریٹر یونین کونسلز انعم چوہدری کی جانب سے تمام سیکرٹریز یونین کونسلز کو ایک نوٹیفکیشن کے مطابق پابند کیا گیا کہ تمام نکاح رجسٹرارز کی تربیتی ورکشاپ منعقد کی جائے ۔ دعوت نامہ پاکر مجھ سمیت تمام نکاح رجسٹرارز کے دل کو تسلی ہوئی کہ گورنمنٹ کو بھی اس معاملے کی حساسیت کا احساس ہے ، اور وہ اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے ، میرا خیال تھا کہ وہاں پر عائلی قوانین کے ماہرین لوگ تشریف لائیں گے جن سے ہم استفادہ حاصل کریں گے ، لیکن افسوس اتنی بڑی تقریب میں سٹیج بھی خالی رہا ایڈمنسٹریٹر انعم چوہدری اپنی مصروف کی بنا پر تشریف نہ لا سکیں بلکہ کافی یونین کونسلز سیکریٹریز بھی تشریف نہ لائے جنہوں نے ایڈمنسٹریٹر کے حکم پر تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا تھا اس تربیتی ورکشاپ میں سیکرٹریز یونین کونسلز محمد ارشد بھٹہ ۔ملک عمران ۔محمد نواز۔محمد عدیل ۔محمد امتیاز گل۔ملک آصف لیاقت ۔سائم قاسم خان سمیت چارسو کے قریب نکاح رجسٹرارز نے شرکت کی جن میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام بھی شامل تھے۔گریس شادی ہال ٹاؤن شپ میں یہ پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے دو ملازمین دو سیکرٹریز نے پروگرام شروع کروایا

ورکشاپ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے قاری محمد فاروق نے کیا نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم صابر چشتی نے پیش کی۔ ابتدائی کلمات کے لیے سیکرٹری یونین کونسل سائم نے نکاح رجسٹرارز کی تربیتی ورکشاپ پر روشنی ڈالتے ہوئے تمام نکاح رجسٹرارز کا شکریہ ادا کیا اور کم عمری کی شادی کے بارے قانونی حیثیت سے آگاہ کیا اور کہا کہ شادی کے موقع پر دلہن کی عمر کم از کم سولہ سال اور دولہے کی عمر کم از کم اٹھارہ سال ہونا ضروری ہے جس کے لیے عمر کا ثبوت نکاح رجسٹرارز کے پاس ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جلد تمام مسالک کے علماء کرام و نکاح رجسٹرارز پر مشتمل ایک تربیتی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس کے احکامات ایڈمنسٹریٹر یونین کونسلز انعم چوہدری نے جاری کیے ہیں ۔قاری محمد فاروق نکاح رجسٹرار و ٹرینر نے علماء کے فضائل بیان فرمائے ( جن کا ورکشاپ کے موضوع سے کوئی تعلق نہیں تھا ) تقریبا آدھا گھنٹہ گفتگو فرمائی ، ساری گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر آپ نے چھوٹی عمر کی بچی کا نکاح پڑھایا تو آپ حکومت پاکستان کے باغی قرار پائیں گے ، آپ کا نکاح رجسٹرار سرٹیفکیٹ کینسل ہوجائے گا ، آپ کو چھ ماہ کی قید ہوگی ۔

ان کے بعد ایک اور ٹرینر تشریف لائے جنھوں نے نکاح نامے کے فارم کو مکمل طور پر پر کرنے کا طریقہ بتایا لیکن اس دوران نکاح رجسٹرارز کے سوالات پر ٹھیک جواب نہ ملنے پر ہال میں ہنگامہ برپا ہوگیا علماء کرام و نکاح رجسٹرارز نے کہا کہ اگر ہمارے ساتھ یہی کرنا تھاتو ہمیں بلایا کس لیے گیا ہے ۔ جب صورت حال بگڑنے لگی تو موقع پر موجود محمد ارشد بھٹہ سیکرٹری اور مہر عبدالروف کوآرڈینیٹر و نکاح رجسٹرار نے علماء کرام کو اپنی نشستوں پر بٹھایا اور انکی حوصلہ افزائی فرمائی اور کہا کہ آپ لوگ معاشرے کا سرمایہ ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ اہم زمہ داری آپ لوگوں کو دی ہے آپ لوگوں کی مکمل مشاورت حاصل کی جائے گی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ تمام نکاح رجسٹرارز کی حاضری لگوا کر سوال نامے دینے کےلئے عملہ کے ساتھ معاونت کی گئی۔اس طرح آج حکومت پنجاب کی طرف سے زرکثیر خرچ کرکے منعقد کی گئی قیمتی اور مفید ترین ورکشاپ اپنے انجام کو پہنچی ۔ جس میں شدید گرمی میں صرف پانی علماء کرام و نکاح رجسٹرارز کو دیا گیا۔

اب آتے ہیں ان سوالات کی طرف جو ادھورے رہ گئے ۔

الف:مسئلہ کم عمری کی شادی کا ہے تو سوال یہ ہے کہ کم عمری کی شادی سے کیا مراد ہے ؟ خالی نکاح یا رخصتی ؟ اگر خاندان کے ذمہ دار لوگوں نے نابالغ بچی کا نکاح پڑھ دیا ہے اور بلوغت تک رخصتی کو ملتوی کردیا ہے تو اس بارے میں قانون کیا کہتا ہے ؟

ب:ایک نابالغ بچی کا نکاح والدین نے خود کروایا ، وہ لڑکی بھی راضی ، والدین بھی راضی ہیں ، لڑکا اور اس کا خاندان بھی راضی ہے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے ، اور وہ نکاح رجسٹرڈ بھی نہیں ہوا ، اور سال کے بعد وہ بچی ماں بھی بن چکی ہے ، تو اس سارے معاملے میں اعتراض کس کو ہے ؟

ج:وکالت کے مسئلے میں سیکٹری صاحب کا مؤقف یہ تھا کہ یہ نکاح ہی سرے سے نہیں ہوتا۔۔۔ میرا سوال یہ تھا کہ جس طرح دلہن کے کوائف میں وکیل کا خانہ ہے اور اس کے دو گواہوں کا خانہ موجود ہے اور دوسرے صفحے پر دستخط کی جگہ پر دلہن کے دستخط کی جگہ الگ ہے اور اس کے وکیل کے دستخط کی جگہ الگ ہے ، اس میں کوئی ابھام نہیں ہے ، ایسے ہی دلہا کے وکیل اور دلہا کے وکیل کے گواہوں کا الگ الگ کالم موجود ہے ، لیکن جب دستخط کے صفحے کی طرف جائیں تو وہاں صرف ایک ہی جگہ ہے جس پر لکھا ہوا ہے ” دلہا یا اس کے وکیل کے دستخط ” اگر دلہا موجود نہیں اور اس کا والد کا کوئی دوسرا قریبی رشتے دار اس کے وکیل کے طور پر قبول کرتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اس بندے کو دلہے نے وکیل مقرر کیا ہے ، کیونکہ وکالت کی اجازت کے دستخط کا خانہ موجود نہیں ہے ، دوسری بات یہ ہے جب دلہے کے وکیل نے دستخط کردیئے تو دلہے کے دستخط کہاں ہوں گے ؟ دونوں دستخط ایک جگہ نہیں ہوسکتے کیونکہ وہاں لکھا ہوا ہے ” دلہا یا اس کے وکیل کے دستخط ” حرف یا ” نے دوسرے دستخط کا احتمال ختم کردیا ، وہاں ایک ہی دستخط متعین کردیئے ہیں ۔ لہذا اگر کل کو لڑکا نکاح سے انکار کردیتا ہے تو کسی کے پاس کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں ہے۔میرا خیا ل ہے کہ نکاح نامے کی تحریرکی اس کمزوری کو دور کیا جانا ضروری ہے ۔

د:ایک مسئلہ آن لائن نکاح کا ہے ، اس بارے میں بھی قانون کیا ہے ؟ اس کی پوری وضاحت ہونی چاہیے ، اس میں بھی کچھ ابھامات موجود ہیں ، لیکن نکاح نامے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔

آخری میں میری حکومت ِ پنجاب سے درخواست ہے کہ ایسی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد بہت اچھا اقدام ہے اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے ، لیکن اس کے لیے کم از کم ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جائےجو نکاح کے متعلقہ قوانین و مسائل سے اچھی طرح واقف ہوں ۔

نکاح خواہ اور نکاح رجسٹرار کی کم از کم اہلیت کی کوئی شرائط مقرر کی جانی چاہیں ۔

ہمارے علمائے کرام کے ذہنوں میں ابھی تک ملکی قوانین اور شرعی قوانین کے درمیان عدم مطابقت کی غلط فہمی پائی جاتی ہے ، ان کے ذہنوں میں موجودہ غلط فہمی کو کم از کم نکاح فارم کی حد تک دور کیا جانا ضروری ہے ۔

نکاح رجسٹرار کا لائسنس لازما ہر سال یا دوسال بعد رینیو کیا جانا چاہیے ۔

یوسی آفس کے عملے کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ لوگوں کے نکاح فارم اپنے پاس ترتیب کے ساتھ محفوظ رکھے ۔

ھ۔ عدالتوں میں بیٹھے چند نکاح رجسٹرار اس مقدس فعل کو مقدم رکھیں ناکہ کاروبار بنائیں ۔

یہ چند احوال و گزارشات ہیں ، دیکھتے ہیں ان کو ذمہ داران حضرات کتنا سنجیدہ لیتے ہیں ۔

جواب دیں

Back to top button